بسم اللہ الرحمن الرحیم

۱۔              کیا مدرسہ علمیہ ثقلین   صرف برصغیر کے طلاب کے لئے ہے؟

ج:            جی ہاں۔ اس وضاحت کے ساتھ کہ اردو زبان  بولنے والا ہو ، خواہ دنیا میں کہیں بھی رہتا ہو۔

۲۔             مدرسہ علمیہ ثقلین کی تاسیس کب عمل میں آئی؟

ج:            سن ۲۰۱۸ کے آغاز میں ۔

۳۔            اس وقت کتنے طلاب اس مدرسہ میں زیر تعلیم ہیں؟

ج:            رواں تعلیمی سال  (۲۰۱۸۔۲۰۱۹)میں ۲۰ (بیس) طلاب مشغول تحصیل علوم دینیہ  ہیں۔

۴۔            ہر نئے سال کے لئے ایڈمیشن کب کیے جاتے ہیں؟

ج:            المصطفی انٹرنیشنل یونیورسٹی    (برصغیر نمائندگی ) کی زیر نگرانی ،  جنور  ی اور فروری میں

۵۔            ایڈمیشن کی شرائط کیا ہیں؟

ج:            ۱۷ سے ۲۲ سال عمر ۔انٹرمیڈیٹ۔  مناسب استعداد اور صلاحیت۔ اعلی دینی تعلیم کے حصول کا شوق ۔ ٹیسٹ اور انٹرویو میں کامیابی

۶۔             ہر نئے تعلیمی سال کا آغاز کب ہوتا ہے؟

ج:            ستمبراور  اکتوبر میں

۷۔            حوزوی تعلیم یا دینی اعلی تعلیم کا یہ کورس کتنے سالوں پر مشتمل ہے؟

ج:            ابتدائی کورس تقریبا ۶(چھ) سال کا ہے۔

۸۔            ان چھ سالوں میں کون کون سے موضوعات پڑھائے جاتے ہیں؟

ج:            فارسی زبان کے کورس کے بعد ، قرآن اور سنت کو صحیح اور گہرائی کے ساتھ جاننے کے لئے ادبیات عرب، علم منطق ، اصول فقہ، فقہ، کلام و فلسفہ  و عرفان ، تاریخ اور علوم قرآن و حدیث کی تعلیم دی جاتی ہے تاکہ ان علوم کے وسیلے سے مکتب اہل بیت (ع) کے بیان کردہ اعتقادات، اخلاقیات اور احکامات پر دسترسی حاصل ہوسکے۔

۹۔              مدرسہ علمیہ ثقلین کی  منفرد اور ممتاز خصوصیات کیا ہیں؟

ج:             مندرجہ ذیل خصوصیات کو مدنظر رکھنے کی بھرپور کوشش کی جائے گی:

۱۰۔            روزانہ کی درسی اور تربیتی سرگرمیاں کیا ہیں اور  کتنے گھنٹوں پر مشتمل ہوتی ہیں؟

ج:            درسی سرگرمیوں میں کلاس کے علاوہ    درس کا  مطالعہ(کلاس سے پہلے اور کلاس کے بعد)، مباحثہ(چند طلاب کا درس کے مطالب کو آپس میں مورد گفت و شنید قرار دینا)،خلاصہ نویسی اور حفظ شامل ہیں۔ جبکہ تربیتی سرگرمیوں میں صبح اور رات  کے وقت میں دعا ئیہ پروگرام ،  پنجگانہ نمازیں جماعت کے ساتھ، حضرت معصومہ (س) کی زیارت، محفل قرآن اور درس اخلاق  شامل ہیں۔  تقریبا ۹ سے ۱۲ گھنٹوں پر یہ سلسلہ مشتمل ہے۔

۱۱۔             کیا مدرسہ علمیہ ثقلین کا نصاب تعلیم ،  دیگر مدرسوں کے نظام تعلیم سے فرق رکھتا ہے؟

ج:            جی نہیں۔  رائج نظام درسی ہی ہے۔ فقط اس فرق کے ساتھ کہ:

۱۲۔            معاون استاد کی ضرورت کو براہ کرم ذرا اور واضح کریں؟

ج:            برصغیر کے حوزوی مدرسوں کی ایک اہم اور منفرد خصوصیت یہ تھی کہ استاد گذشتہ درس کے ذہن نشین کرنے کے لئے پچھلا            درس سنتا اور مختلف مثالوں پر تطبیق  کرواتا تھا جو طلبہ کے لئے بہت زیادہ مفید تھا۔ اس وقت مختلف علوم کی وسعت ، طلاب کرام کی کثرت ،اور وقت کی قلت اس بات کا سبب  بنی  ہے کہ اس امر پر توجہ کم ہوگئ ہے۔ مدرسہ علمیہ ثقلین نے  اس مسئلے کی  اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے معاون استاد  کو قرار دیا ہے  جو استاد کے دیئے درس کی بعض پیچیدگیوں کو  حل کروانے میں  اور ساتھ ہی ساتھ گذشتہ درس سننے اور مختلف مثالوں پر قواعد کی تطبیق، خلاصہ نویسی اور حفظ کی مہارت کے حصول میں طلاب کی مدد کرے گا۔

۱۳۔           برصغیر کے اعلی تعلیمی اداروں اور مراکز کی اہم خصوصیت یہ بھی تھی کہ  پڑھنے کے ساتھ ساتھ پڑھانے کا موقع بھی ملتا تھا ۔ آیا مدرسہ علمیہ ثقلین یہ موقع اپنے طلاب کو فراہم کریگا؟

ج:            معاون استاد کے سلسلے کو قرار دیئے جانے کی ایک وجہ ، باصلاحیت نوجوانوں کے لئے استاد بننے کے موقعوں کی فراہمی  ہے۔  مدرسہ کی حتی الامکان یہ کوشش رہے گی کہ طلاب اپنی تعلیم کے تیسرے اور چوتھے سال سے ابتدائی کتابوں کی  تدریس میں استاد کے معاون بنیں اور بہت جلد ایک بہتر استاد کے طور پر اپنے فرائض بجالائیں۔

۱۴۔           حوزہ علمیہ کی ایک اہم خصوصیت دنیا کے تمام ممالک کے لوگوں کے ساتھ آشنائی اور مستقبل میں ان کے ساتھ مل کر دینی وظائف کی ادائیگی ہے۔  اس اہم فائدے سے مدرسہ علمیہ ثقلین محروم ہے۔ اس کا سد باب کیسے ہو پائے گا؟

ج:            کوئی شک نہیں ہے کہ حوزہ علمیہ کے ثمرات میں سے یہ بھی ہے  لیکن بسا اوقات ابتدائی طالب علم کے لئے  آزادانہ طور پر مختلف سلیقوں اور افکار کے افراد کے ساتھ میل جول ، کج فکری یا بہت جلد بلند پروازی کے شوق  کا باعث ہوتا ہے۔ لہذا  ابتدا میں مدرسہ خود ہی  مناسب افراد کے ساتھ آشنائی کا وظیفہ ادا کریگا تاکہ استحکام فکری کے ساتھ طلاب حوزہ کی خوبصورتیوں سے بہرہ مند ہوسکیں۔

۱۵۔           اپنی زبان کے لوگوں کے مابین رہنے کی وجہ سے ہم فارسی زبان پر مکمل دسترسی حاصل نہیں کرپائیں گے۔ اس کے لئے مدرسہ کا لائحہ عمل کیا ہے؟

ج:            اس کے سد باب کے لئے مدرسہ نے تعلیمی پالیسی کچھ یوں مرتب کی ہے کہ آدھے دروس فارسی زبان میں رکھیں ہیں۔ علاوہ بر این طلاب کے لئے آپس میں فارسی زبان بولنے کو ضروری قرار دیا گیا ہے ۔

۱۶۔            آیا مدرسہ ثقلین  ایک سال کے بعد دوسرے مدرسوں میں ٹرانسفر یا منتقل ہونے  کی اجازت دیگا؟                                                                                              

ج:            متعارف صورتحال میں اجازت نہیں ہے۔ ہاں مدرسہ اپنی صواب دید پر تعلیمی اور تربیتی ترقی کے لئے  مناسب افراد کو خود ہی بہتر اداروں کی طرف بھیج دیا جائےگا۔

                                                                                                              

سوشل میڈیا

ہمارے واٹس اپ اور ٹیلیگرام پر رابطہ کیجئے

رابطہ

:       989381789104+
:       982538801693-5+
:      info@saqlainfoundation.org
:       ایران، قم المقدسہ، خیابان جواد الآئمہ ، ۱۸ متری قدس ، کوچہ ۱۰ ، فرعی ۱ (مدرسہ امام باقر علیہ السلام کے نذدیک) ، پلاک ۱۰۶