سر ورق / شبہات کے جوابات / آیت “محمد رسول الله”کے بارے میں تدبر
محمد رسول الله ص

آیت “محمد رسول الله”کے بارے میں تدبر

وسیم رضا سبحانی

ترجمہ: محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کفار پر سخت گیر اور آپس میں مہربان ہیں، آپ انہیں رکوع، سجود میں دیکھتے ہیں، وہ اللہ کی طرف سے فضل اور خوشنودی کے طلبگار ہیں سجدوں کے اثرات سے ان کے چہروں پر نشان پڑے ہوئے ہیں، ان کے یہی اوصاف توریت میں بھی ہیں اور انجیل میں بھی ان کے یہی اوصاف ہیں، جیسے ایک کھیتی جس نے (زمین سے) اپنی سوئی نکالی پھر اسے مضبوط کیا اور وہ موٹی ہو گئی پھر اپنے تنے پر سیدھی کھڑی ہو گئی اور کسانوں کو خوش کرنے لگی تاکہ اس طرح کفار کا جی جلائے، ان میں سے جو لوگ ایمان لائے اور اعمال صالح بجا لائے ان سے اللہ نے مغفرت اور اجر عظیم کا وعدہ کیا ہے۔

کچھ حضرات سورہ فتح کی آیت  ۲۹  سے یہ ثابت کرتے ہیں کہ آپﷺ کے جتنے بھی اصحاب تھے وہ سبھی نیک،عادل اور متقی و پرہیزگار تھے کیونکہ مذکورہ آیت کریمہ میں بیان ہوا ہے کہ نبی اکرمﷺ کے اصحاب مندرجہ ذیل صفات کے حامل تھے:

  1. کفار کی نسبت شدید اور سخت تھے
  2. آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ رحیم اور رؤف تھے
  3. رکوع اور سجود میں رہنے والے تھے( یعنی عبادت گزار تھے)
  4. ہمیشہ فضل و رضوان الٰہی  کے طالب تھے
  5. انکی پیشانیوں سے آثار ِ سجدہ ہویدا اور آشکار ہوتے تھے

لیکن مذکورہ استدلال متعدد جہات سے صحیح نہیں ہے:

مذکورہ آیت کریمہ میں سب سے اہم بات (جوکہ مورد غفلت واقع ہوئی ہے)یہ ہے:اس آیہ کریمہ میں اس بات کو ثابت نہیں کیا جارہا کہ جو بھی پیغمبر اکرمﷺ کے ساتھ ہوا کرتے تھے ان میں یہ صفات موجود تھیں بلکہ آیہ کریمہ یہ بیان کررہی ہےکہ جو بھی صحابی رسولؐ ہونے کا شرف حاصل کرنا چاہتا ہے اس میں یہ صفات ہونی چاہئیں۔

باالفاظ دیگر : یہ آیت حقیقی صحابی کی تعریف بیان کر رہی ہے کیونکہ اسی صورت میں یہ آیت اصحاب کی زندگی اور دوسری قرآنی آیات سے ہماہنگ ہوگی۔

وضاحت:

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ قرآن مجید کی آیات میں کبھی بھی آپس میں تعارض و تضاد نہیں رکھتیں اور اسی طرح یہ بھی ناممکن ہے کہ آیات قرآنی حقیقت کے برعکس کوئی مطلب بیان کریں۔بنابریں جب ہم رسول اللہﷺ کے ساتھ رہنے والے اصحاب کے حالات دیکھتے ہیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے مذکورہ آیت میں بیان شدہ  تمام اوصاف تمام صحابہ میں نہیں تھے بلکہ اس سے بڑھ کر قرآن مجید خود دوسرے مقامات پر بیان کرتا ہے کہ تمام صحابہ  مذکورہ صفات کے حامل نہیں تھے۔پس مقصد یہ نہیں ہے کہ وہ لوگ ایسے تھے بلکہ مراد یہ ہےکہ انکو ایسا ہونا چاہیئے۔

اسی بات پر مندرجہ ذیل نکات سے استدلال کیا جاسکتا ہے:

اولاً:”والذین معہ”سے قطعا جسمانی ہمراہی مراد نہیں ہے کیونکہ جسمانی ہمراہی اور ساتھ ہونا تو کوئی امتیاز اور کمال نہیں ہے چنانچہ قرآن مجید میں پچاس سے زیادہ جگہوں پر بیان کیا گیا ہے کہ “ایمان اور عمل صالح”ہی سعادت کا سبب ہیں۔بنابریں “والذین معہ” یعنی جو آپﷺ  کے ساتھ ہوں اور ایمان اور عمل صالح کے زیور سے بھی آراستہ ہوں۔

ثانیاً:جسمانی طور پرمنافقین بھی ہمراہ ہوتے تھے کیا وہ بھی فقط اس بنا پر جلیل القدر بن جائیں گے؟!!آپﷺ کی بزم میں منافقین بھی تھے اس بات کے لیے قرآن مجید کے سورہ منافقون ،سورہ توبہ اور سورہ انفال کا سرسری مطالعہ ہی کافی ہوگا۔

ثالثاً: قرآن مجید اصحاب نبی ؓ کی کچھ اقسام بیان کرتا ہے:

  1. مشہور منافقین جن کے بارے میں سورہ منافقون نازل ہوئی۔
  2. مدینہ کے اندر موجود بهت سارے ایسے افراد تھے  جو ہمیشہ پیغمبر اکرمﷺ کے ساتھ ہوتے تھے لیکن اپنی حقیقی شناخت اور شخصیت لوگوں سے مخفی رکھتے تھے اور قرآن میں ارشاد ہوتا ہے وہ درحقیقت منافق ہیں۔

ملاحظہ کیجئے:

وَمِمَّنْ حَوْلَكُم مِّنَ الْأَعْرَابِ مُنَافِقُونَ ۖ وَمِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ ۖ مَرَدُوا عَلَى النِّفَاقِ لَا تَعْلَمُهُمْ ۖ نَحْنُ نَعْلَمُهُمْ [2]

ترجمہ:اور تمہارے گرد و پیش کے بدوؤں میں اور خود اہل مدینہ میں بھی ایسے منافقین ہیں جو منافقت پر اڑے ہوئے ہیں، آپ انہیں نہیں جانتے (لیکن) ہم انہیں جانتے ہیں۔

وَإِذْ يَقُولُ الْمُنَافِقُونَ وَالَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ مَّا وَعَدَنَا اللَّـهُ وَرَسُولُهُ إِلَّا غُرُورًا 

  • کچھ ایسے افراد جن کے بارے میں قرآن کہتا ہے “فی قلوبھم مرض”(جن کے دلوں میں مرض ہے)[3]

آیت پر توجہ فرمائیں:منافقین اور “فی قلوبھم مرض” کو دو گروہوں کی صورت میں بیان کیا گیا ہے:

  • وہ اصحاب جو آپﷺ کو آزار و اذیت دیتے تھے:

وَمِنْهُمُ الَّذِينَ يُؤْذُونَ النَّبِيَّ وَيَقُولُونَ هُوَ أُذُنٌ ۚ قُلْ أُذُنُ خَيْرٍ لَّكُمْ يُؤْمِنُ بِاللَّـهِ وَيُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِينَ وَرَحْمَةٌ لِّلَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ ۚ وَالَّذِينَ يُؤْذُونَ رَسُولَ اللَّـهِ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ [4]

ترجمہ: اور ان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو نبی کو اذیت دیتے ہیں اور کہتے ہیں: یہ کانوں کے کچے ہیں، کہدیجئے:وہ تمہاری بہتری کے لیے کان دے کر سنتا ہے اللہ پر ایمان رکھتا ہے اور مومنوں کے لیے تصدیق کرتا ہے اور تم میں سے جو ایمان لائے ہیں ان کے لیے رحمت ہیں اور جو لوگ اللہ کے رسول کو اذیت دیتے ہیں ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔

  • وہ اصحاب جو حتی خدا کے بارے میں بدگمانی رکھتے تھے:

  طَائِفَةً مِّنكُمْ ۖ وَطَائِفَةٌ قَدْ أَهَمَّتْهُمْ أَنفُسُهُمْ يَظُنُّونَ بِاللَّـهِ غَيْرَ الْحَقِّ ظَنَّ الْجَاهِلِيَّةِ [5]

ترجمہ: جب کہ دوسرے گروہ کو اپنی جانوں کی پڑی ہوئی تھی، وہ ناحق اللہ پر زمانہ جاہلیت والی بدگمانیاں کر رہے تھے۔

بنابریں کیا یہ کہنا درست ہوگا کہ پیغمبر اکرمﷺ کے سب اصحاب عدول تھے؟!!


مُّحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّـهِ ۚ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ ۖ تَرَاهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِّنَ اللَّـهِ وَرِضْوَانًا ۖ سِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِم مِّنْ أَثَرِ السُّجُودِ ۚ ذَٰلِكَ مَثَلُهُمْ فِي التَّوْرَاةِ ۚ وَمَثَلُهُمْ فِي الْإِنجِيلِ كَزَرْعٍ أَخْرَجَ شَطْأَهُ فَآزَرَهُ فَاسْتَغْلَظَ فَاسْتَوَىٰ عَلَىٰ سُوقِهِ يُعْجِبُ الزُّرَّاعَ لِيَغِيظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ ۗ وَعَدَ اللَّـهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ مِنْهُم مَّغْفِرَةً وَأَجْرًا عَظِيمًا [1]

[1] ۔سورہ فتح آیت ۲۹

[2] ۔سورہ توبہ آیت ۱۰۱

[3] سورہ احزاب آیت ۱۲

[4] ۔سورہ توبہ آیت ۶۱

[5] ۔سورہ آلعمران آیت ۱۵۴

شاید آپ یہ بھی پڑھنا چاہیں

آیت بیعت رضوان و عدالت صحابہ

آیت بیعت رضوان اور عدالت صحابہ وسیم رضا سبحانی بعض برادران اہل سنت  آیت بیعت …

One comment

  1. Great content! Super high-quality! Keep it up! 🙂

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے