سر ورق / خبریں / امریکہ کے مجوزہ” فلسطین -اسرائیل امن معاہدے” کے متعلق ہم کیا جانتے ہیں؟
امن معاہدہ

امریکہ کے مجوزہ” فلسطین -اسرائیل امن معاہدے” کے متعلق ہم کیا جانتے ہیں؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے “امن معاہدے “(The Deal of Century)کی منظوری دی جس کا ایک اساسی رکن فلسطینی ہیں جو اس معاہدے کے مخالف ہیں اور یہ امن معاہدہ اسرائیلی وزرائے اعظم کی منشا کے عین مطابق ہے۔
رپورٹ کے مطابق ، فلسطینی میڈیا گروپ”معا” نے اس معاہدے کے چند شقیں ظاہر کی ہیں ۔جن کا ذیل میں ذکر کیا جا رہا ہے:
1۔ اتفاق رائے
سہ طرفہ یعنی اسرائیل،فلسطینی لبریشن آرگنائزیشن اور حماس میں اتفاق رائے پر دستخط ہونگے۔اور موجودہ ملک فلسطین کو(نیو فلسطین) بنایا جائے گا جو اردن کی ساحلی پٹی اور غزہ پر مشتمل ہوگا جس میں یہودی نشین بستیاں شامل نہیں ہونگی۔
2۔ زمینوں کا خالی کرانا
یہودی آباد کار بستیاں ویسی ہی رہیں گی اور دور والی یہودی نشین دیگر بستیاں بھی اس میں شامل ہوجائیں گی اور یہودی نشین بستیوں کی مزید توسیع ہونگی تاکہ دور والی بستیوں کو شامل کیا جاسکے۔
3۔قدس
قدس تقسیم نہیں ہوگا اور اسرائیل اور نیو فلسطین کے درمیان رہے گا اور عرب ساکنین وہاں سے نیو فلسطین میں منتقل ہوجائیں گے۔قدس میونسپلٹی ہی قدس تمام زمینوں کی دیکھ بھال کرے گی ۔ شعبہ تعلیم اس کے ماتحت نہیں ہوگا اس کی ذمہ داری نیو فلسطین اتھارٹی پر ہوگی۔نیو فلسطین اتھارٹی، یہودی قدس کی میونسپلٹی کو زمینوں اور پانی کا ٹیکس وغیرہ ادا کرے گی۔اسی طرح یہودیوں کو عربوں کے گھر خریدنے کی اجازت نہ ہوگی اور اسی طرح بالعکس عرب بھی یہودیوں کے گھر نہیں خرید سکیں گے۔اکثر علاقے قدس سے ملحق نہیں ہونگے۔مقدس مقامات جہاں ہیں جیسے ہیں، کی بنیاد پر باقی رہیں گے۔
4۔غزہ
مصر فلسطین کو نئی زمینیں دے گا جس میں ائیرپورٹ اورکارخانے تعمیر اور زراعت وغیرہ کی جاسکے لیکن فلسطینیوں کو وہاں رہنے کی اجازت نہیں ہوگی۔اس کے لیے ایک حامی دست ملک کی ضمانت لی جائے گی۔جس کا بعد میں اعلان کیا جائے گا۔غزہ اور اردن کی ساحلی پٹی کے درمیان ایک ہائی وے بنائی جائے گی اور ان دونوں کی زمینوں کے نیچے صاف پانی کا نظام بچھایا جائے گا۔
5۔حامی ممالک
جو ممالک اس امن معاہدے کے لیے مدد فراہم کریں گے اور اقتصادی لحا ظ سے اسکی نظارت کریں گے ان میں امریکہ،یورپی یونین اور خلیج فارس میں تیل کی پیداوار والے عرب ممالک شامل ہیں۔اس کے لیے 30 ارب ڈالر 5 سال میں نیو فلسطین کو دیئے جائیں گے۔دور والی یہودی بستیوں کے اسرائیل سے الحاق کے لیے خود اسرائیل خرچ کرے گا۔
6۔حامی ممالک میں امداد کی شراکت کی تقسیم
امریکہ 20فیصد
یورپی یونین 10 فیصد
عرب ممالک 70 فیصد
7۔فوج
نیو فلسطین فوج نہیں رکھ سکے گا صرف ایسا اسلحہ رکھنے کی اجازت ہوگی جو پولیس استعمال کرتی ہے۔اسرائیل اور نیو فلسطین کے مابین ایک معاہد ہ ہوگا جس کی بناء پر نیوفلسطین کا دفاع اسرائیل کے ذمہ ہوگا۔لیکن نیو فلسطین اسکا خرچ اسرائیل کو دینے کا پابند ہوگا۔عرب ممالک اور اسرائیل کے مابین مذاکرات ہونگے جس میں اس خرچ کا تخمینہ لگایا جائے گا۔
8۔معاہدے کے اجراء کی مدت
معاہدے پر دستخط کے موقعہ پر:

  1. حماس اپنا سارا اسلحہ جمع کروائے گی اور یہ شق حماس کے لیڈروں کے ذاتی اسلحہ کو بھی شامل ہوگی اور یہ اسلحہ مصر کے حوالے کیا جائے گا۔
  2. اسکے بجائے حماس کے اراکین عرب ممالک سے ماہانہ تنخواہ وصول کریں گے۔
  3. غزہ کی پٹی بین الاقوامی تجارت کے لیے کھول دی جائے گی۔ مغربی ساحلی پٹی میں بھی عالمی مارکیٹ بنائی جائے گی۔
  4. اس معاہدے کے ایک سال بعد نیو فلسطین میں انتخابات ہونگے۔
  5. اور ان انتخابات کے ایک سال بعد تمام قیدی تدریجی مراحل میں تین سال میں آزاد کر دیئے جائیں گے۔
  6. 5 سال میں نیو فلسطین کے لیے ایک بندرگاہ اور ائیرپورٹ تعمیر کیا جائے گا۔اس وقت تک فلسطینی اسرائیلی بندرگاہوں اور ائیرپورٹس سے استفادہ کرسکیں گے۔
  7. نیوفلسطین اور اسرائیل کے درمیان تمام سرحدیں کھلی رہیں گی تاکہ رفت و آمد اور تجارت ہوسکے۔اسی طرح دوست ممالک کے لیے واضح کیا جائے گا کہ(اسرائیل اپنے لیے کسی سرحد کی تعیین تسلیم نہیں کرتا)۔
  8. اس ہائی وے کے درمیان ایک پل تعمیر کیا جائے گا جو مغربی پٹی اور غزہ کو آپس میں ملائے گا۔
    وادی اردن
    دشت اردن اسرائیل کے پاس رہے گا جیسے اب بھی ہے۔
    90 روڈ چار راستوں میں تبدیل ہوجائے گا اس کی نظارت اسرائیل کے پاس رہے گی۔فلسطینی اس سے استفادہ کرسکتے ہیں یہ نیو فلسطین کو اردن سے ملائے گا یہ حصہ فلسطینیوں کے پاس رہے گا۔
    ذمہ داریاں
  9. اگر حماس یا لبریشن آرگنائزیشن والوں نے اس قرار داد کی مخالفت کی تو امریکہ فلسطینیوں کی تمام مالی حمایت ختم کردے گا اور دوسرے ممالک کو بھی انکے مدد کرنے سے روکے گا۔
  10. اگر لبریشن آرگنائزیشن اس قرار داد پر راضی ہوجاتی ہے لیکن حماس اور جہاد اسلامی اسکی مخالفت کرتی ہے تو یہ گروہ اس کے اثرات کے خود ذمہ دار ہونگے۔اور ہرقسم کی لڑائی میں امریکہ اسرائیل کی مدد کرے گا تاکہ حماس اور جہاد اسلامی کے لیڈروں کو نشانہ بنایا جاسکے۔(امریکہ کو یہ قبول نہیں کہ چند سو افراد کئی ملین افراد کی تقدیر کا فیصلہ کریں)۔
  11. اگر اسرائیل مخالفت کرے تو اسکی اقتصادی حمایت ختم کردی جائے گی۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی نے امن معاہدے کے متعلق فرمایا: مسئلہ فلسطین کبھی فراموش نہ ہوگا۔فلسطینی قوم اور دوسری مسلمان اقوام اس معاہدے کےمدمقابل کھڑی ہونگی اور کبھی اجازت نہ دیں گی کہ یہ معاہدہ انجام پا جائے۔
امریکی حکمرانوں پر لعنت ہو کہ جو اپنی شیطانی اور خبیث سیاست سے فلسطین کے متعلق یہ معاہدہ سامنے لائے خدا وندمتعال کی مدد سے یہ معاہدہ کبھی انجام نہ دیا جاسکے گا۔بیت المقدس کے متعلق کہتے ہیں کہ اسے یہودی بنانے کے لیے یہود کے پاس ہونا چاہیے یہ غلط اور پاگل پن ہے۔

(بصد شکریہ ایسنا نیوز)

شاید آپ یہ بھی پڑھنا چاہیں

یکم فروری سے 11 فروری 1979ء: اسلامی انقلاب کی کامیابی تک کے واقعات کا مختصرجائزہ

ہم یہاں روزانہ ان واقعات کو بیان  کریں گے جو 1/2/1979 سے 11/2/1979 تک پیش …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے