سر ورق / مقالات / امیرالمومنین علیہ السلام کی نگاہ میں معاشرے میں بغاوت کےتین اسباب

امیرالمومنین علیہ السلام کی نگاہ میں معاشرے میں بغاوت کےتین اسباب

امیرالمومنین علیہ السلام نہج البلاغہ میں فرماتے ہیں:حکومت میں فساد کے تین اسباب ہیں جو تینوں حکمرانوں اور معاشرے کے خواص کی طرف پلٹتے ہیں۔


اول: حکمرانوں کی سطح زندگی اور طریقہ کار:

امام علی علیہ السلام خطبہ ۲۰۹ میں فرماتے ہیں:جب حکمران معاشرے کے کمزور افراد کی حد سے بالاتر زندگی گزاریں گے تو عوام باغی ہوجائیں گے کیونکہ خود لوگوں میں طبقاتی اختلاف قابل تحمل ہے لیکن عوام اور حکمرانوں میں یہ اختلاف ناقابل برداشت ہے۔

إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى فَرَضَ عَلَى أَئِمَّةِ [الْحَقِ] الْعَدْلِ أَنْ يُقَدِّرُوا أَنْفُسَهُمْ بِضَعَفَةِ النَّاسِ، كَيْلَا يَتَبَيَّغَ بِالْفَقِيرِ فَقْرُهُ

ترجمہ:پروردگارنے ائمہ حق پرفرض کردیا ہے کہ اپنی زندگی کا پیمانہ کمزور ترین انسانوں کو قراردیں تاکہ فقیر اپنے فقر کی بنا پر کسی پیچ و تاب کا شکار نہ ہو۔

دوم: ناحق ٹیکس اور مالیات

امام علیہ السلام خط ۵۳ میں جناب مالک اشتر سےفرماتے ہیں:اس میں(مالیات کم کرنے میں) تمہیں سبقت کرنی چاہیے اور ان مواقع(سیلاب،زلزلہ یا دوسری آفات ) میں مالیات اتنا کم لو کہ اسکی(عوام کی) زندگی پچھلے سال سے فرق نہ کرے اور فرمایا:اگر ایسا کیا تو حکومت کا نقصان نہیں کیا بلکہ سرمایہ گزاری کی ہے اور دو فائدے ہیں،پہلا یہ کہ عوام کو اطمنان دو گے کیونکہ عوام حکومت کا احسان دیکھیں گے اور بغاو ت نہیں کریں گے اور دوسرا یہ کہ لوگ تجھ پر اعتماد کریں گے اور کوئی مشکل پیش آئی تو تیری حمایت کریں گے۔

خَفَّفْتَ عَنْهُمْ بِما تَرْجُو اَنْ يَصْلُحَ بِهِ اَمْرُهُمْ،وَ لايَثْقُلَنَّ عَلَيْكَ شَىْءٌ خَفَّفْتَ بِهِ الْمَؤُونَةَ عَنْهُمْ، فَاِنَّهُ ذُخْرٌ يَعُودُونَ بِهِ عَلَيْكَ فى عِمارَةِ بِلادِكَ، وَ تَزْيينِ وِلايَتِكَ، مَعَ اسْتِجْلابِكَ حُسْنَ ثَنائِهِمْ، وَ تَبَجُّحِكَ بِاسْتِفاضَةِ الْعَدْلِ فيهِمْ،مُعْتَمِداً فَضْلَ قُوَّتِهِمْ بِما ذَخَرْتَ عِنْدَهُمْ مِنْ اِجْمامِكَ لَهُمْ

ترجمہ:ان کے خراج میں اس قدرتخفیف کردینا کہ ان کے امور کی اصلاح ہو سکے اور خبر دار تخفیف تمہارے نفس پر گراں نہ گذ رے اس لئے کہ یہ تخفیف اور سہولت ایک ذخیرہ ہے جس کا اثر شہروں کی آبادی اور حکام کی زیب و زینت کی شکل میں تمہاری ہی طرف واپس آئے گا اور اس کے علاوہ تمہیں بہترین تعریف بھی حاصل ہوگی اورعدل و انصاف کے پھیل جانے سے مسرت بھی حاصل ہوگی پھر ان کی راحت و رفاہ،عدل و انصاف اور نرمی و سہولت کی بنا پر جواعتماد حاصل کیا ہے اس سے ایک اضافی طاقت بھی حاصل ہوگی جو بوقت ضرورت کام آسکتی ہے۔

سوم: حکمرانوں کے اقرباء کی امور حکومت میں مداخلت

امیرالمومنین علیہ السلام کی نگاہ میں حکمرانوں کے رشتہ دار اور نزدیکی افراد کی امور حکومت اور اقتصادی امور میں مداخلت ہے۔اسی خط ۵۳ میں فرماتے ہیں:جان لو کہ حکمرانوں کے نزدیکی افراد خودخواہ اور لوٹ مارکرنے والے ہیں اور معاملات میں انصاف نہیں کرتے،انکے ظلم و ستم کی جڑیں کاٹ دو اور کسی بھی اپنے نزدیکی شخص کو کوئی زمین نہ دو۔

اِنَّ لِلْوالى خاصَّةً وَ بِطانَةً فيهِمُ اسْتِئْثارٌ وَ تَطاوُلٌ وَ قِلَّةُ اِنْصاف فى مُعامَلَة، فَاحْسِمْ مادَّةَ اُولئِكَ بِقَطْعِ اَسْبابِ تِلْكَ الاَْحْوالِ. وَ لاتُقْطِعَنَّ لاَِحَد مِنْ حاشِيَتِكَ وَ حامَّتِكَ قَطيعَةً

ترجمہ:اس کے بعد یہ بھی خیال رہے کہ ہر والی کے کچھ مخصوص اور راز دار قسم کے افراد ہوتے ہیں جن میں خودغرضی ، دست درازی اورمعاملات میں بے انصافی پائی جاتی ہے لہٰذا خبردار ایسے افراد کے فساد کا علاج ان اسباب کے خاتمہ سے کرنا جن سے یہ حالات پیدا ہوتے ہیں۔اپنے کسی بھی حاشیہ نشین اورقرابت دار کو کوئی جاگیر مت بخش دینا۔

بنابریں بنیادی اصلاح حکومت سے آغاز ہونی چاہیے تاکہ کسی کو اعتراض کا حق نہ ہو۔

(https://www.farsnews.com/news/13981022000690)

شاید آپ یہ بھی پڑھنا چاہیں

بہترین ازدواجی زندگی کے لیےسیرت فاطمی سے ایک خوبصورت پیغام

امام محمد باقر علیہ السلام سے یہ روایت ہے کہ حضرت زہراء علیہا السلام نے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے