سر ورق / شبہات کے جوابات / توحید و شرک کے موہوم معیارات

توحید و شرک کے موہوم معیارات

پہلی قسط

جناب وسیم رضا سبحانی

ہم گزشتہ مباحث میں توحید و شرک کا حقیقی معیار و میزان بیان کرچکے ہیں چنانچہ اس معیار و میزان کا ما حصل یہ ہوا کہ:

“پوری کائنات میں ذات مستقل فقط خدا کی ذات ہے باقی جتنے بھی موجودات امکانیہ ہیں وہ اپنی ذات اور کمالات ذات میں غیر مستقل ہیں یعنی ذات واجبی کے محتاج ہیں  لہذا خدا وندمتعال کے علاوہ کسی بھی چیز کو کسی بھی اعتبار سے مستقل سمجھنا ،شرک کا باعث بنتا ہے۔”

     اس معیار توحید وشرک کے مقابلے میں کچھ اور معیار ذکر کیے گئے ہیں جنہیں اختصار کے ساتھ بیان کرتے ہوئے انکے نکات ضعف کو ذکر کرتے ہیں:

  1. ماتحت الاسباب اور مافوق الاسباب

اس کائنات کے اندر دوطرح کے امور ہیں کچھ امور ایسے ہیں جو اسباب و مسببات کے تابع ہیں اور ہماری روزمرہ کی زندگی انہیں سے وابستہ ہے مثلا جب بھی پیاس لگتی ہے تو ہم پانی سے بجھاتے ہیں اور اسی طرح کے دوسرے امور   ہیں لیکن کچھ ایسے ہیں جو اسباب و مسببات سے بالاتر ہیں یا طبیعی اور عادی قوانین سے ماوراء ہیں مثلاً مردے کو زندہ کرنا،پہلی قسم ماتحت الاسباب اور دوسری ما فوق الاسباب ہے۔

چنانچہ ماتحت الاسباب  امور کو غیراللہ کی جانب منسوب کیا جاسکتا ہے اور ان امور میں ایک دوسرے سے توسل اور تعاون بھی کیا جاسکتا ہے لیکن مافوق الاسباب امور کو فقط پروردگار ہی انجام دے سکتا ہے ۔ان امور کو فقط ذات واجبی کی جانب منسوب کردینا چاہیئے اور ان امور پر فقط خدا ہی قادر ہے خدا کے علاوہ کوئی بھی ان امور کو انجام نہیں دے سکتا بنابریں امور مافوق الاسباب کو غیراللہ کی جانب منسوب کرنا شرک ہے۔

خلاصہ ٔ کلام:

توحید وشرک کا معیار یہ ہے کہ “ماتحت الاسباب”میں اسباب بھی مؤثر ہیں لیکن مافوق الاسباب پر فقط خدا ہی قدرت رکھتا ہے اگر ان چیزوں کو غیراللہ سے مربوط کیا جائے تو شرک لازم آئے گا۔

شاید آپ یہ بھی پڑھنا چاہیں

شفاعت

وسیم رضا سبحانی شبہ: عام طور پر عقیدہ رکھا جاتا ہے کہ اس دنیا میں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے