سر ورق / مقالات / حضرت علی علیہ السلام کو حضرت زہراء علیہا السلام کی آخری وصیت

حضرت علی علیہ السلام کو حضرت زہراء علیہا السلام کی آخری وصیت

ابن عباس سے منقول ہے کہ شہزادیؑ بابا کے ارتحال کے بعد 40 دن زندہ رہیں اور بعض روایتوں میں ہے کہ 6 مہینے زندہ رہیں۔

جب آپؑ کی شہادت ہوئی تو اسماء نے گریبان چاک کیا اور بیت الشرف سے باہر نکلی۔حضرات حسن و حسین علیہما السلام ملاقات ہوئی ان دونوں نے اسماء سے پوچھا کہ ہماری ماں کہاں ہیں؟ اسماء خاموش رہیں۔دونوں بچے گھر میں داخل ہوئے ، ماں کو بستر پر لیٹے دیکھا ۔امام حسینؑ نے ہلایا تو دیکھا کہ ماں اس دنیا میں نہیں رہیں۔فرمایا:بھیا حسن! خدا آپ کو ماں کی مصیبت  میں صبر عطا کرے۔

دونوں بچے بیت الشرف سے اس عالم میں برآمد ہوئے کہ” یامحمداہ” اور “یا احمداہ” کی فریاد بلند کررہے تھےاور کہہ رہے تھے: نانا جان !  ماں کے مرنے سے  آپ کے فراق کا غم ہمارے لیے تازہ ہوگیا ۔پھر انہوں نے امیرالمومنینؑ کو خبر دی جو مسجد میں تھے ۔امیرالمومنینؑ غش کھا گئے پھر جب افاقہ ہوا دونوں بچوں کے ساتھ  گھر آئے تو دیکھا اسماء ،فاطمہ کے سرہانے بیٹھی رو رہی ہیں اور کہہ رہی ہیں :وا یتامی محمد ! اے محمدؐ کے یتیمو!ہم تمہارے جد کے بعد تمہاری ماں فاطمہ سے صبر اور حوصلہ پاتے تھے۔اب فاطمہ کے بعد کس سے صبر پائیں گے؟!

مولاؑ نے شہزادیؑ کے چہرے سے پردہ ہٹایا تو دیکھا آپ کے سرہانہ ایک رُقعہ پڑا ہے اس میں لکھا دیکھا:

بسم اللہ الرحمن الرحیم

یہ وصیت ہے جو رسول اللہؐ کی بیٹی نے کی ہے۔وہ گواہی دیتی ہے کہ نہیں ہے کوئی معبود سوائے اللہ کے اور یہ کہ محمدؐ اللہ کے بندے اور رسول ہیں اور یہ کہ جنت اور جہنم حق ہے اور قیامت آنے والی ہے اس میں کوئی شک نہیں ہے اور بتحقیق اللہ قبور میں مدفون لوگوں کو اٹھائے گا۔

اے علیؑ! میں فاطمہ بنت محمدؐ ہوں کہ اللہ نے مجھے آپ کی زوجیت میں قرار دیا ہے تاکہ میں دنیا اور آخرت میں آپ کے لیے ہوجاؤں۔آپ دوسروں سے میری نسبت زیادہ سزاوار ہیں۔آپ مجھے رات کے وقت میں حنو ط اور غسل اور کفن دیجئے گا اور رات کے وقت مجھ پر نماز پڑھ کر مجھے دفنا دیجئے گااور کسی کو خبر مت دیجئے گا اور میں آپ کو اللہ کے سپرد کرتی ہوں اور قیامت کے دن تک میری اولادوں کو میرا سلام۔

…….. بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيمِ هَذَا مَا أَوْصَتْ بِهِ فَاطِمَةُ بِنْتُ رَسُولِ اللَّهِ ص أَوْصَتْ وَ هِيَ تَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَ أَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُهُ وَ رَسُولُهُ وَ أَنَّ الْجَنَّةَ حَقٌّ وَ النَّارَ حَقٌّ وَ أَنَّ السَّاعَةَ آتِيَةٌ لا رَيْبَ فِيها وَ أَنَّ اللَّهَ يَبْعَثُ مَنْ فِي الْقُبُورِ يَا عَلِيُّ أَنَا فَاطِمَةُ بِنْتُ مُحَمَّدٍ زَوَّجَنِيَ اللَّهُ مِنْكَ لِأَكُونَ لَكَ فِي الدُّنْيَا وَ الْآخِرَةِ أَنْتَ أَوْلَى بِي مِنْ غَيْرِي حَنِّطْنِي وَ غَسِّلْنِي وَ كَفِّنِّي بِاللَّيْلِ وَ صَلِّ عَلَيَّ وَ ادْفِنِّي بِاللَّيْلِ وَ لَا تُعْلِمْ أَحَداً وَ أَسْتَوْدِعُكَ اللَّهَ وَ أَقْرَأُ عَلَى وُلْدِيَ السَّلَامَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَة

بحار ج 43 ص 214

شاید آپ یہ بھی پڑھنا چاہیں

شعبان المعظم کی فضلیت

معلوم ہونا چاہئے کہ شعبان وہ عظیم مہینہ جو حضرت رسول سے منسوب ہے حضورصلى‌الله‌عليه‌وآله‌وسلم …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے