سر ورق / معرفت امام زمانؑ / سوال: امام زمان علیہ السلام کی طول عمر کا راز کیا ہے؟

سوال: امام زمان علیہ السلام کی طول عمر کا راز کیا ہے؟

جواب:ہم یہاں چند جہات سے اسکا جواب دیں گے:

عقلی لحاظ سے :

عظیم فلسفی بوعلی سینا کہتے ہیں کہ آپ جو عجیب و غریب چیزوں کے بارے میں سنتے ہیں جب تک انکے خلاف کوئی دلیل نہ ملے اسے ممکن سمجھو اور تسلیم کرو۔

امور عالم کی تین قسمیں ہیں:

امور محال،امور فطری و طبیعی،امور غیر فطری اور غیر طبیعی

طول عمر اور معجزات انبیاءؑ اس تیسری قسم سے ہیں۔

پس عقل کی نظر میں کوئی ایسی دلیل نہیں ہے جو ثابت کرسکے کہ انسان کی عمر کم ہونی چاہیے اور لمبی عمر نہیں ہونی چاہیے۔

فلسفہ کے لحاظ سے:

فلسفہ کہتا ہے کہ ہر معلول جب تک اسکی علت نہ ہو وہ موجود نہیں ہوسکتا اور ہر چیز جو موجود ہوگئی اسے عدم کیلئے بھی علت کی ضرورت ہے۔بنابریں جیساکہ ہر چیز کے ایجاد اور وجود کیلئے دلیل کی ضرورت ہے اسکے معدوم ہونے کیلئے بھی دلیل چاہیے۔اگر دلیل نہ ہو تو وہی پہلی علت  باقی رہے گی اور اپنی تاثیر کو جاری رکھے گی۔

مثلا ً ایک دن میں ۵۰ بچے پیدا ہوتے ہیں تو سوال یہ ہوتا ہے کہ یہ بچے کتنی عمر پائیں گے؟جواب یہ ہوگا کہ جو چیز ادامہ حیات کیلئے ضروری ہے وہ باقی رہے اور اور جو چیز اس سے مانع ہو اسے دور کریں  تو اس صورت  میں انکے معدوم ہونے کی دلیل نہیں ہوگی  کیونکہ وہ موجود ہیں۔۱۰ دن بعد دو بچے مر جاتے ہیں تو سوال ہوتا ہے کیوں مر گئے؟یہ اسی حقیقت پر مبنی سوال ہے کہ ہمیشہ اشخاص کی ادامہ حیات کے بجائے انکی  موت کے متعلق سوال کرتے ہیں  ۔[1]پس موت کیلئے دلیل چاہیے نہ ادامہ حیات اور طول عمر کیلئے۔

طبی لحاظ سے:

علم طب اور میڈیکل کی نظر میں انسان کی عمر کی حد معین نہیں کہ اس حد سے تجاوز کرنا غیر ممکن ہو۔کسی دانشور نے یہ نہیں کہا کہ انسان اتنے سال عمر کرلے گا اور پھر مر جائے گا۔بلکہ انہوں نے کہا ہے کہ انسان موت پر غلبہ پاسکتا ہے یا لمبی مدت کیلئے اسے اپنے سے ٹال سکتا ہے۔اسی وجہ سے سائنسدان صبح شام اسی تحقیق میں مصروف ہیں کہ آزمائش کریں کہ موت دیگر بیماریوں کی طرح طبیعی علل و عوامل کی طرح ہے اگر معلوم ہوجائیں تو اسکی تاثیر سے روکا جاسکتا ہے۔اور موت کو ٹالا جاسکتا ہے۔

اسکی مثالیں زندہ موجودات میں پائی جاتی ہیں جنہوں نے لمبی عمر پائی ہے۔ان میں سے ایک کیلیفورنیا میں موجود ایک درخت جسے (Saguoia) کہا جاتا ہے ان کی عمر ۵۰۰۰ سال سے بھی زیادہ ہے۔[2]

اسی طرح ایک قسم کی بوٹی (Pinus aristata) جس کی عمر ۴۶۰۰ سال ہے۔اسی طرح دیگر موجودات۔

تاریخی لحا ظ سے:

تاریخ انسانی کا تجربہ اس کیلئے مفید ہے کہ اگر مختلف ادوار اور زمانوں میں لمبی عمر کا مسئلہ واقع ہوا ہو تو اسکا تکرار دیگر زمانوں میں ایک فطری امر ہوگا۔تاریخی کتب ان معمرین افراد کے ناموں سے بھری پڑی ہیں جن میں انبیاء بھی ہیں  جو مشہور بھی تھے اور عادی افراد بھی تھے ۔بعض کے نام درج ذیل ہیں:

آدم: 930 سال

شیث: 912 سال

انوش: 960 سال

قینان: 920 سال

مهلائل: 700 سال

لوط: 732 سال

ادریس: 960 سال

متوشالح: 960 سال

لمک: 790 سال

نوح: 950 سال

ابراهیم: 195 سال

کیومرث: 1000 سال

جمشید: 900 سال

عمر بن عامر: 800 سال

عاد: 1200 سال[3]

آسمانی ادیان کے لحاظ سے:

طول عمر کیلئے دو استدلال موجود ہیں:

الف: خدا کی قدرت لامتناہی

تمام خداپرستوں کا ایمان ہے کہ خدا کی قدرت لامتناہی ہےوہ ہر چیز پر قادر ہے۔جس ذات نے اس کائنات کو خلق فرمایا اور سالہاسال سے اسے قائم رکھا ہوا ہے ہرگز اپنے ولی اور حجت کی حفاظت سے عاجز نہیں ہوسکتا۔

ب:آسمانی کتابوں میں لمبی عمر پانے والوں کی مثالیں

تورات میں انبیاء کی عمریں بیان کی گئی ہیں جو سینکڑوں سالوں پر مشتمل ہیں۔

قرآن مجید میں بھی نمونے موجود ہیں:

بلکہ ہم ان لوگوں کو اور ان کے باپ دادا کو متمتع کرتے رہے یہاں تک کہ (اسی حالت میں) ان کی عمریں بسر ہوگئیں۔[4]

پھر اگر وہ (خدا کی) پاکی بیان نہ کرتے،تو اس روز تک کہ لوگ دوبارہ زندہ کئے جائیں گے اسی کے پیٹ میں رہتے[5]

اور ہم نے نوحؑ کو اُن کی قوم کی طرف بھیجا تو وہ ان میں پچاس برس کم ہزار برس رہے ۔[6]


[1] ۔ افتخارزادہ، سید حسن، گفتارہایی پیرامون امام زمان علیہ السلام، انتشارات نیک معارف، ص 116.

[2]  دائرة المعارف آمریکائی، ج 17، ص 463.

[3]  مسعودی، مروج الذهب; ر. ک: امینی، ابراهیم، دادگستر جہان، انتشارات شفق، ص 202.

[4] سورہ انبیاء آیت ۴۴

[5] سورہ صافات آیت ۱۴۳-۱۴۴

[6] سورہ عنکبوت آیت ۱۴

(https://hawzah.net/fa/Magazine)

شاید آپ یہ بھی پڑھنا چاہیں

انتظارِ فرَج کیا ہے؟

رہبر معظم انقلاب نے اپنے درس خارج کی ابتداء میں روایت “انتظار الفرج عبادۃ”کی تفسیر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے