سر ورق / شبہات کے جوابات / شہر مقدس قم میں کرونا بیماری کے پھیلنے پرمخالفین کا اعتراض
Coronavirus outbreak and coronaviruses influenza background as dangerous flu strain cases as a pandemic medical health risk concept with disease cells as a 3D render

شہر مقدس قم میں کرونا بیماری کے پھیلنے پرمخالفین کا اعتراض

حالیہ دنوں میں ایران کے مختلف شہروں منجملہ قم  میں کرونا بیماری پھیلنے پرمخالفین کی طرف سے خوشی کا اظہار کیا گیااور اس مسئلہ کو  عقائد تشیع سے جوڑتے ہوئے اعتراض کیا گیا کہ اگر اولیاء کسی کی مشکلات حل کرسکتے ہوتے تو حضرت معصومہ علیہا السلام اس بیماری سے تمہیں نجات دلا دیتیں!

جواب:

سب سے پہلی بات یہ ہے کہ کوئی عقلمند انسان ایسا اعتراض نہیں کرسکتا  جو خود اسکی طرف پلٹتا ہو۔ہم یہاں اس کا جواب پیش کرتے ہیں:

نقضی جواب:

خدا وند قرآن میں فرماتا ہے:

{أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا آمِنًا وَيُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِهِمْ ۚ…}(عنکبوت /۶۷)

یعنی کیا اُنہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے حرم کو مقام امن بنایا ہے اور لوگ اس کے گرد ونواح سے اُچک لئے جاتے ہیں۔ کیا یہ لوگ باطل پر اعتقاد رکھتے ہیں اور خدا کی نعمتوں کی ناشکری کرتے ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ   مکہ حرم الہی اور جائے امن ہے کیا کبھی  فطری یا غیر فطری بلایا اور مصائب کا شکار نہیں ہوا؟

1. مکہ میں سیلاب:ہجرت سے ۱۸ سال قبل سیلاب کی وجہ سے کعبہ ویران ہوگیا اور عرب قبائل نے اسے دوبارہ تعمیر کیااور ان کے مابین حجر اسود نصب کرنے پر اختلاف ہوگیا تو نبی مکرم ؐ نے اس اختلاف کو حل فرمایا۔

2.اموی فوج کی طرف سے منجنیق کے ذریعے آگ پھینکی گئی جس سے کعبہ  میں آگ لگ گئی۔سال ۶۳ ہجری میں حصین بن نمیر کی سربراہی میں اموی فوج نے مکہ پر حملہ کیا اور عبداللہ بن زبیر وہاں محاصرہ ہوگیا ۔اموی فوج نے منجنیق سے کعبہ پر حملہ کیا اور کعبہ آگ میں جل گیا۔

3. ۳۱۷ ہجری میں قرامطہ نے مکہ پر حملہ کیا اور حجر اسود کو اکھاڑ کر بحرین لے گئے اور ۲۲ سال بعد دوبارہ حجر اسود واپس لایا گیا۔

4. ۱۰۳۹ ہجری میں سیلاب آیا اور کعبہ کی دیواریں مسمار ہوگئیں فقط جنوبی دیوار باقی بچ گئی۔۴۰۰۰ افراد اس میں ہلاک ہوئے۔عثمانی خلیفہ سلطان مراد چہارم نے اسے دوبارہ تعمیر کیا جو آج بھی اسی شکل میں ہے۔

5.جنگ عظیم دوئم میں ایک بار پھر سیلاب آیا اور پانی مسجد الحرام میں داخل ہوگیا۔

6.اول محرم ۱۴۰۰ ہجری میں ۵۰۰ سلفیوں نے مسجد الحرام پر حملہ کیا اور نماز یوں کو محبوس کرلیا۔دو ہفتوں کی شدید لڑائی کے بعد ۴۰۰ افراد ہلاک ہوئے اور کعبہ کی دیواروں کو نقصان پہنچا۔

بنابریں کوئی بھی عقلمند انسان ان مصائب و آلام کو خدا کی قدرت سے نسبت  نہیں دیتا اور یہ کہے کہ اگر ٖخدا قادر تھا تو کعبہ میں موجود لوگوں کو نجات کیوں نہ دی؟

حلی جواب:

أوّلا: قُلْ لَنْ يُصِيبَنَا إِلَّا مَا كَتَبَ اللَّهُ لَنَا هُوَ مَوْلَانَا ۚ وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ}(توبہ/51)۔

کہہ دو کہ ہم کو کوئی مصیبت نہیں پہنچ سکتی بجز اس کے جو خدا نے ہمارے لیے لکھ دی ہو وہی ہمارا کارساز ہے۔ اور مومنوں کو خدا ہی کا بھروسہ رکھنا چاہیئے۔

ہم نے اپنے پیشواؤں سے توکل برخدا سیکھا ہے اور جانتے ہیں کہ یہ  مصائب فقط کفار اور مشرکین کے لیے نہیں ہیں  بلکہ مومنین بھی اسی قاعدے کے تحت آتے ہیں۔اسکی مثال حضرت ابراہیم ؑ بن محمد بن عبداللہؐ ہیں جو بیماری کی وجہ سے جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ اگر پیغمبر اسلامؐ خدا سے دعا مانگتے تو یقینا بیماری سے آپ کے بیٹے کو شفا مل جاتی۔لیکن سوال یہ ہے کہ پیغمبرؐ نے دعا کیوں نہیں کی؟؟ اور امور کی انجام دہی اپنے عادی طریقے سے ہونے دی۔

اسکا جواب یہ ہے کہ ایک ولی خدا ارادۂ خدا سےہٹ کر کوئی ارادہ نہیں کرتا اور کسی بھی گلےشکوے  کے بغیر جو راہ،  خدا نے اس کے لیے معین کردی ہے اسی پر چلتا ہے چاہے اس راہ میں اسے سخت سے سخت مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑے۔

ثانیا:اولیاء خدا آیات اور روایات کی بنیاد پر ولایت تکوینی کے حامل ہوتے ہیں ۔حتی کہ ابن تیمیہ نے اپنی کتاب مجموع الفتاوی ج ۴ ص ۳۷۹ پر اسکا  اعتراف بھی کیا ہے۔بنابریں کوئی عقلمند انسان ایک ولی کے شفا نہ پانے یا ایک مصیبت کے رفع نہ ہونے کہ وجہ سے انہیں عاجز  شمار نہیں کرتا اور ان آیات اور روایات کاانکار نہیں کرتا۔جس طرح کوئی بھی سیلاب یا حملوں کی وجہ سے کعبہ کے ویران ہونے کی نسبت خدا کی قدرت کی طرف نہیں دیتا۔

شاید آپ یہ بھی پڑھنا چاہیں

شفاعت

وسیم رضا سبحانی شبہ: عام طور پر عقیدہ رکھا جاتا ہے کہ اس دنیا میں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے