سر ورق / خبریں / کرونا کی وجہ سے شاید دنیا کا نیا نظام وجود میں آجائے؛ سید حسن نصراللہ

کرونا کی وجہ سے شاید دنیا کا نیا نظام وجود میں آجائے؛ سید حسن نصراللہ

حزب اللہ کے جنرل سیکرٹری سید حسن نصراللہ نے کل رات المنار ٹی وی چینل پر لائیو خطاب کیا اور لبنانی حکومت اور اپوزیشن سے کہا کہ یہ وقت آپس میں لڑنے کے بجائے مشترکہ دشمن کرونا کے خلاف جنگ لڑی جائے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کا فرض ہے کہ بیرونی ممالک میں موجود لبنانی باشندوں کو واپس لائے اور یہاں موجود عوام کو ہرممکنہ سہولت فراہم کرے۔انہوں نے عوام سے بھی درخواست کی کہ اس کام میں حکومت کی مدد کریں۔انہوں نے کہا کہ بعض ممالک میں صحت کا نظام فرسودہ ہے جس کی وجہ سے ان ممالک کےٹوٹنے کا خدشہ ہے۔یہاں تک کہ امریکہ میں بھی سماجی اور انتظامی اور صحت عامہ کے حوالے سے خوف موجود ہے جس کی وجہ سے امریکی عوام اسلحہ خرید رہی ہے اگر امریکہ کا یہ حال ہے تو افریقی ممالک کا کیا ہوگا؟!

یہ مشترکہ دشمن جسے کرونا کہتے ہیں ابھی ناشناختہ ہے اور دنیا اسکے مقابلے میں حیران ہے۔کرونا وائرس کے مقابلہ صرف قرنطینہ سے ہی کیا جاسکتا ہے  اور لوگ ایک دوسرے فاصلے سے رہیں۔پوری دنیا کی عوام محکمہ صحت کی ہدایات پر عمل کرے۔

سید حسن نصراللہ نے کہا کہ کرونا کے اثرات جنگ عظیم اول اور دوم سے بھی زیادہ ہیں اور ہوسکتا ہے کہ اسکی وجہ سے ایک نیا دنیاوی نظام وجود میں آجائے کیونکہ اس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور ثقافتی،دینی،عقائدی اور فلسفی بحث مباحثے کی بنیاد بن چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ معلوم نہیں امریکہ اس کے بعد بھی متحد رہ پائے گا؟یا یورپ متحد رہ سکے گا؟اسی طرح عالمی صحت کا نظام اور اقتصاد میں سرمایہ دارانہ نظام  کے متعلق بھی بحث ہو رہی ہے۔البتہ اسکی نتیجہ گیری کے لیے جلدی نہ کی جائے کیونکہ ان امور کی جمع بندی کرنا دشوار ہے۔کیونکہ پچھلی ایک یا دو صدیوں میں ایسا کچھ نہیں تھا اور کرونا کے اثرات ہر سطح پر پڑے ہیں۔

سید حسن نصراللہ نے کہا کہ ہمیں اس سے عبرت لینی چاہیے کیونکہ امریکہ جیسا ملک جو خود کو سب سے بڑا اور مضبوط اور طاقتور ملک کہتا ہے وہ بھی کرونا کے مقابلے میں سرگرداں ہے یہاں تک دنیا کی ٹیکنالوجی کا حال یہ ہے کہ ایک وائرس کا مقابلہ نہیں کر پا رہی اور عاجز ہے ۔دنیا کی یہ حقیقت واضح ہورہی ہے۔حکومتیں ناکام اور کاروبار معطل ہوکر رہ گیاہے۔عالمی بینک نے کہا ہے کہ دنیا کا اقتصاد  تباہ ہونے والا ہے اور تین ارب سے زائد افراد گھرو ں میں محبوس ہوچکے ہیں۔اس سے عبرت لینی چاہیے اور انسان کے ہاتھوں میں سب سے بڑا اسلحہ ، خدا کی پناہ میں جانا ہے۔

شاید آپ یہ بھی پڑھنا چاہیں

قم مقدس کے امام جمعہ آیت اللہ امینی کا انتقال

قم مقدس کے امام جمعہ اور شوری خبرگان کے رکن آیت اللہ امینی قم کے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے