سر ورق / خبریں / یکم فروری سے 11 فروری 1979ء: اسلامی انقلاب کی کامیابی تک کے واقعات کا مختصرجائزہ

یکم فروری سے 11 فروری 1979ء: اسلامی انقلاب کی کامیابی تک کے واقعات کا مختصرجائزہ

ہم یہاں روزانہ ان واقعات کو بیان  کریں گے جو 1/2/1979 سے 11/2/1979 تک پیش آئے۔یہ واقعات امام خمینی رح کی قیادت میں ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے متعلق ہیں۔

1/2/1979

جب امام خمینی رح  نے فرانس میں اپنی 14 سالہ جلاوطنی کے بعدایران جانے کا ارادہ کیا تو فرانسیسی عوام کو مخاطب کرکے انکا شکریہ ادا کیا اور انہیں الوداع کہا۔

جب فرانس سے جہاز نے اڑان بھری تو سب پریشان تھے کہ کیا ہوگا؟جہاز گرانا اور ہائی جیک کرنا بھی ممکن ہے لیکن امام خمینی رح نے جہاز میں نماز پڑھی تو سب مطمئن ہوگئے۔

جب امام خمینی رح تہران ائیرپورٹ پر پہنچے تو  وہاں”اللہ اکبر”کی صداؤں سے فضا گونج اٹھی۔بچوں نے ترانہ پڑھ کر امام کو خوش آمدید کہا۔

امام نے ائیرپورٹ پر خطاب کیا اور کہا کہ میں پوری قوم کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔

اس کے بعد امام خطاب کے لیے بہشت زہراء قبرستان تشریف لے گئے۔

امام نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ جب میں ان والدین کو دیکھتا ہوں جنہوں نے اپنی اولادیں قربان کی ہیں  تو  مجھے اپنے کندھوں پر سنگین ذمہ داری کا بوجھ  محسوس ہوتا ہے جس کی میں تاب نہیں لاسکتا۔شاہ ایران فرار کرگیا اور ملک تباہ کرگیا ہے اور ہمارے قبرستان آباد کرگیا ہے۔۔۔۔میں حکومت تشکیل دوں گا۔میں اس عوام کی طاقت سے حکومت تشکیل دوں گا۔

ایران کے شہروں میں  امام کے آنے کی خوشی میں چراغاں کیا گیا اور جشن منایا گیا۔

جب ایرانی ٹی وی پر امام کے آنے کی تقریب نشر کی جارہی تھی تو ٹی وی کی عمارت پرفوج نے حملہ کردیا اور تقریب کی نشریات روک دیں لیکن عوام نے غم وغصے کی وجہ سے اپنے ٹی وی سڑکوں میں لا کر پھینک دیئے۔

جن علماء نے بھوک ہڑتال کی ہوئی تھی انہوں نے اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کیا۔

ایرانی اسٹوڈنٹس نے امریکہ میں ایرانی سفارتخانے کے سامنے مظاہرے کیے۔

امریکہ نے اپنی خفیہ الیکٹرانک مشینیں ایران سے واپس منگوا لیں۔

سوئسی بینکوں نے اعلان کیا کہ ایران کی جمع شدہ رقم بلاک کردی گئی  ہے۔

ایران اور برطانیہ کے درمیان اسلحہ کی خریداری کا معاہدہ ختم کردیا گیا جبکہ اس کی وجہ سے برطانیہ کو نقصان بھی اٹھانا پڑا۔

2/2/1979

امام خمینی نے علماء کے اجتماع سے مفصل خطاب فرمایا۔آپ نے فرمایا: شہنشاہی رجیم ابتداء سے ہی خلاف عقل تھی۔۔۔ہر ملت کو حق حاصل ہے کہ  اپنی تقدیر خود تعیین کرے۔

ماسکو ریڈیو: امریکہ میں مقیم ایرانی اسٹوڈنٹس نے ایران کے اندرونی معاملات میں امریکیوں کی مداخلت کے خلاف وائٹ ہاؤس کے سامنے مظاہرے کیے۔

3/2/1979

 حضرت امام نے ایک پریس کانفرنس میں اعلان کیا: انقلاب کمیٹی اور عبوری حکومت بنائی جائے گی اور عبوری حکومت کی ذمہ داری ہوگی کہ ریفرنڈم کے لیے راہ ہموار کرے۔اسی طرح آئین جب تدوین ہوجائے گا تو اسے عوام کے سامنے پیش کیا جائے۔آپ نے بختیار کی حکومت کو غیر قانونی قرار دیدیا اور کہا: کوئی ایسا کام نہ کرنا کہ میں مجبور ہوجاؤں کہ  لوگوں کو جہاد کی دعوت  دیدوں۔

ایرانی اسٹوڈنٹس نے امریکہ،لبنان اور آسٹریلیا میں ایرانی سفارتخانوں پر حملے کرکے ایرانی شہنشاہی رجیم سے مخالفت کا اظہار کیا۔

پارلیمنٹ کے 40 دیگر نمائندوں نے استعفی دے دیا۔

4/2/1979


حضرت امام خمینی نے ایک تقریر کے ذریعے جوانوں کو مظاہرے اور اجتماعات جاری رکھنے کی دعوت دی۔
امریکی اور برطانوی وزرائے خارجہ نے ایران کے حالات کے متعلق گفتگو کی۔بغداد نے بھی ایک وفد سعودی عرب بھیجا تاکہ ایران اور خطے کے حالات کے بارے میں تبادلہ خیال کیا جاسکے۔
ایران میں خصوصی امریکی ایلچی جنرل ہائزر اپنی حساس ذمہ داری کے ختم ہونے اور مسلسل ایرانی عہدیداروں کے ساتھ مذاکرات کے بعد امریکہ واپس چلا گیا۔امریکی وزرات خارجہ کے ترجمان نے کہا:ہائزرنے کوشش کی کہ ایرانی فوج بختیار کی حمایت کرے اور اس کی امریکہ واپسی کی وجہ یہ ہے کہ ایران میں اسکی موجودگی ایران میں امریکہ مخالف جذبات کو ہوا دے رہی تھی۔
بہبہان شہر میں ائیرفورس کے افسروں نے امام خمینی کی حمایت کے سلسلے میں جلوس نکالا۔
آیت اللہ سید محمد باقر صدر نے عراق سے حضرت امام خمینی کو خط لکھا اور ایرانی عوام کے احتجاج کی مکمل حمایت کی۔
حضرت امام خمینی کی ایران تشریف آوری کے سلسلے میں آیت اللہ مرعشی نجفی کی طرف سے انہیں ایک ٹیلیگراف بھیجا گیا۔
تہران کے مئیر نے امام کے سامنے استعفی دیدیا ۔امام نے اسے دوبارہ شہر کا مئیر منتخب فرمایا۔ حکومت بختیار کی جانب سے جواد شہرستانی کے باہر جانے پر پابندی لگا دی گئی۔
پارلیمنٹ کے بعض مستعفی نمائندوں نے امام سے ملاقات کی۔

5/2/1979


مہدی بازرگان کاعبوری حکومت کے سربراہ کے طورپر باقاعدہ سرکاری اعلان کردیا گیا۔انکی وزارت عظمی کا حکم انقلاب کمیٹی اور امام خمینی کے اتفاق رائے سے جاری کیا گیا اور حجت الاسلام ہاشمی رفسنجانی نے امام اور بازرگان کے سامنے وہ حکم پڑھا۔
ایسوسی ایٹڈ پریس:بختیار کی کامیابی کے چانس روز بروز کم ہوتے دکھائی دے رہے ہیں اسی وجہ سے امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نے بختیار حکومت کی حمایت میں کوئی گرمجوشی نہیں دکھائی۔
سی آئی اے کے سربراہ نے اعتراف کیا کہ ایران کے مسائل کی پیش بینی کرنے میں ہماری ایجنسی ناکام رہی ہے۔اس نے کہا کہ ہم نے یہ سوچا بھی نہ تھا کہ ایک ستر سالہ بوڑھا شخص جو 14 سال جلاوطنی میں رہا ہو ان تمام قوتوں کو نکتہ وحدت پر جمع کرلے۔
ہنری کسنجرنے کہا:ہمیں ڈر ہے کہ اسلامی انقلاب دوسرے ممالک میں سرایت نہ کرجائے ۔
آیت اللہ گلپائیگانی نے حضرت امام کی وطن واپسی پر انہیں مبارکباد پیش کی۔
چند وزارتخانوں پر فوج نے قبضہ کرلیا۔
22 پارلیمنٹ کے دیگر نمائندوں نے استعفی دیدیا۔
ملک میں جاری مظاہروں میں آغاجاری کی عوام میں سے چند افراد شہید ہوگئے۔
8 ہزار یہودی ایران سے اسرائیل منتقل ہوگئے۔

6/2/1979

امام خمینی نے فرمایا:ملکی حالات کے لیے مفید اور ایک عاقلانہ کام یہی ہے کہ بختیار اور فوج، اسلامی انقلاب کے متعلق مثبت عکس العمل سامنے لائیں۔
عوام،شخصیات اور مختلف گروہوں کی جانب سے امام کی تشریف آوری پر بھیجے جانے والے پیغامات کے جواب میں ایک عمومی شکریہ کا پیغام منتشر کیا گیا۔
بازرگان نے عبوری طور پر نہضت آزادی تنظیم چھوڑ دی اور مدرسہ علوی میں منتقل ہوگئے۔(انکے وزارت عظمی کے حکم میں ان سے کہا گیا تھا کہ کسی بھی گروہ یا تنظیم سے قطع تعلق کریں)
چیئرمین پارلیمنٹ ڈاکٹر سعید نے آج کے اجلاس میں کہا:مرجع تقلید تشیع آیت اللہ خمینی کو وطن واپسی پر اپنی اور تمام ممبران کی طرف سے خوش آمدید کہتا ہوں۔
پارلیمنٹ کے اجلاس میں سابق وزراء کے کیسز اور ساواک کی تحلیل کابل منظور کرلیا گیا۔
آفیسر زکالج میں ٹریننگ مکمل کرنے والے افسروں کو شاہ ایران کی وفاداری کا حلف اٹھانے سے معاف کردیا گیا۔
حجت الاسلام فلسفی پر 8 سال سے تقریر کرنے پر پابندی تھی آج انہوں نے امام اور امام سے ملاقات کرنے والوں کے سامنے تقریر کی۔

7/2/1979

امام خمینی نے اہواز کے علماء سے ملاقات فرمائی۔
تہران کے فوجی گورنر نے شہر میں کرفیو کی مدت میں اس وجہ سےکمی کردی کہ لوگ فوجی حکومت کے قوانین کو اہمیت نہیں دیتے۔
پارلیمنٹ کے 13 ممبران نے استعفی دیدیا۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ایران کے حالات پر نگرانی کا اظہار کیا۔

8/2/1979

ایئرفورس نے امام کے سامنے پریڈ کی اور اس سے پیغام دیا کہ امام اور ایرانی عوام کی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں۔اسی طرح مہدی بازرگان کی حکومت کی حمایت میں عوامی ریلیوں پر قوم کا شکریہ ادا کیا۔

فوج کے مرکزی دفتر  نے اخبار کیہان کی پریڈ کے متعلق خبر مسترد کردی۔

گزشہ کل اور آج تہران میں عوامی مظاہرے ہوئے اور رجیم کے خلاف غم و غصے کا اظہار کیا گیا۔بینک اور دوسرے حکومتی اداروں پر شاہ کے ہاتھوں تنگ عوام کے حملوں سے محفوظ نہ رہے۔آگ چاروں طرف پھیل چکی تھی۔

امام خمینی نے ٹی وی چینل سے مختصر خطاب کیا جہاں ریڈیو اور ٹی وی کے عملے نے احتجاج کی کال دے رکھی تھی۔امام نے فرمایا کہ ایسے مراکز کو ہمیشہ قوم کی خدمت کے لیے وقف ہونا چاہیے تھا لیکن غاصب رجیم نے اسے اپنے غلط اہداف کی راہ میں استعمال کیا۔

گرگان میں لڑائی کے دوران 5 افراد ہلاک اور 11 زخمی ہوگئے۔

انجینئر شریف امامی پر  اٹارنی جنرل نے  باہر جانے پر پابندی لگا رکھی تھی وہ ملک سے فرار ہوگیا۔

9/2/1979

تہران میں ائیرفورس کی چھاؤنی پر اسپیشل گارڈز کے حملے سے جنگ گلی کوچوں میں پھیل گئی۔ائیرفورس کے مطابق جب ریڈیو سے اعلان ہوا کہ خبروں کے بعد ٹی وی پر امام خمینی کی وطن واپسی کی فلم نشر کی جائے گی تو سب ہال میں جمع ہوگئے اور جیسے ہی امام کی تصویر ٹی وی پر نشر ہوئی تو بلند آواز سے صلوات پڑھی گئی اسی وقت گارڈز نے ان پر فائرنگ کر دی اور لڑائی شروع ہوگئی۔
آس پاس کے لوگوں کو بھی حملے کی خبر ہوگئی اور انہوں نے دوسروں کو بھی باخبر کردیا اور تھوڑی دیر بعد ایک بہت بڑی تعداد وہاں جمع ہوگئی اور نعرہ تکبیر سے ائیرفورس کی حمایت کی۔
یہ عوامی اجتماع رات 10 بجے شروع ہوا اور رات گئے جاری رہا۔عوام کو ڈر ہے کہ انکے جانے کے بعد گارڈز دوبارہ حملہ نہ کردیں اسی لیے امام کے دفتر سے ذمہ داری کے متعلق دریافت کیا گیا تو امام خمینی نے جواب دیا کہ ابھی وہاں سے نہ جائیں۔
عوام وہاں نعرے لگا رہی تھی اور ٹائروں کی آگ سےخود کو گرم کررہی تھی کہ آدھی رات کو فوجی حکومت کا عملہ فوجی گاڑیوں پر وہاں آیا اور لوگوں پر دور سے فائرنگ شروع کردی تاکہ لوگ ڈر جائیں۔لوگ ساتھ والی گلیوں میں پناہ لینے پر مجبور ہوگئے۔البتہ انتظامیہ نے 150 افراد کو گرفتار کرکے تہران کے مرکزی تھانے میں منتقل کردیا۔جن میں دو عالم دین بھی گرفتار ہوئے۔یاد رہے کہ یہی وہ تھانہ ہے جس پر عوام نے حملہ کرکے سب سے پہلے قبضہ کیا تھا۔

10/2/1979

لڑائی میں اسلحہ کے استعمال کی وجہ سے انقلابی گروہ نے لوگوں میں اسلحہ تقسیم کرنا شروع کردیا۔

تہران کے مرکزی تھانے پر عوام نے قبضہ کرلیا اور یکے بعد دیگرے دوسرے تھانوں پر عوام کا قبضہ ہوتا گیا۔

تہران کے فوجی گورنر نے کرفیو کی مدت میں اضافہ کردیا اور عوام صرف دوپہر 12 بجے سے شام 4:30 بجے تک روزمرہ کے کام انجام دے سکتی ہے۔

امام خمینی نے تہران کے فوجی گورنر کی جانب سے کرفیو کا حکم کینسل کردیا اور فرمایا کہ یہ حکم خلاف شرع ہے اور اگر گارڈز واپس بیرکوں میں نہ جائیں تو ہم خدا کے حکم سے فیصلہ کردیں گے۔عبوری حکومت نے بھی اس کرفیو کو سازش قرار دیا۔

عوام نے بسوں اور گاڑیوں پر سوار ہوکر اسپیکروں پر اس حکم کے کینسل ہونے کے اعلانات کرنے شروع کردیے ۔فوج چاہتی تھی کہ کرفیو کی مدت میں اضافہ کرکے عوام اور انقلابی لیڈروں کو گرفتار کرلیا جائے۔اس سازش کو امام خمینی نے ناکام بنا دیا۔

تہران میں جنگ میں شدت آگئی اور ہزاروں افراد نے مورچوں میں پناہ لے لی۔

حجت الاسلام مفتح نے امام خمینی کی جانب سے اخبار کیہان میں ائیرفورس کی پریڈ کے متعلق شائع ہونے والی تصویر کو صحیح قرار دیا۔

امام خمینی کے دفتر کی جانب سے وزیراعظم بختیار اوراعلی  فوجی افسروں  سے ہرقسم کے رابطے کی نفی کر دی گئی۔

امام خمینی نے فرمایا کہ میں خود اہم قلم اور اہل بیان ہوں مجھے کسی ترجمان کی ضرورت نہیں۔

11/2/1979

ایک اجلاس میں طے پایا کہ وزیراعظم بختیار اپنا استعفی دیں گے لیکن اس اجلاس میں وہ شریک ہی نہیں ہوئے۔

مختلف شہروں سے بکتربند گاڑیوں پر مشتمل فوجی قافلے تہران کی جانب روانہ ہوئے مگر عوام نے تہران جانے والے راستے بند کردیے۔

تہران میں عوام اور فوج کی لڑائی میں مزید اضافہ ہوگیا اور شہداء اور زخمیوں کی تعداد میں اتنا اضافہ ہوا کہ  ناقابل شمار ہوگئے۔

عوام نے فوج کے اسلحہ خانے،اوین جیل،ساواک کے دفتر،سینیٹ اور اسمبلی کی عمارتیں،ریڈیو اور ٹی وی کے دفاتر ،وزیراعظم ہاؤس،میونسپلٹی کی بلڈنگ پر قبضہ کرلیا۔

ساواک کا سربراہ،کردستان میں قتل عام کرنے والا شخص اور فوجی حکمران  عوام کے ہاتھوں گرفتار ہوگیا۔اسی طرح کئی اعلی ا فسر قتل کردیے گئے۔

تینوں افواج کے کمانڈروں نے امام خمینی کو اپنا استعفی پیش کردیا۔

امام خمینی نے عوام کے نام پیغام میں کہا کہ اب حکومت کے اصلی دفاتر عوام کے قبضے میں آچکے ہیں لہذا اب قانون پر عمل کیا جائے۔

اور امام خمینی کی رہبری میں اسلامی انقلاب کامیاب ہوگیا اور 2500 سالہ  شہنشاہی نظام سرنگون ہوگیا۔

(بصد شکریہ فارس نیوز)

شاید آپ یہ بھی پڑھنا چاہیں

قم مقدس کے امام جمعہ آیت اللہ امینی کا انتقال

قم مقدس کے امام جمعہ اور شوری خبرگان کے رکن آیت اللہ امینی قم کے …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے