سر ورق / ادعیہ و مناجات / چوبیسویں دن کی دعا اور شرح

چوبیسویں دن کی دعا اور شرح

بسم الله الرحمن الرحیم

«اللهمّ إنّی أسْألُکَ فیه ما یُرْضیکَ وأعوذُ بِکَ ممّا یؤذیک وأسألُکَ التّوفیقَ فیهِ لأنْ أطیعَکَ ولا أعْصیکَ یا جَوادَ السّائلین»

بارالہا! اس ماہ میں تجھ سے ہر اس چیز کا سوالی ہوں جو تجھے مجھ سے راضی کردے!

اور اس ماہ میں ہر اس شے سے تیری پناہ مانگتا ہوں جو تجھے مجھ سے ناراض کردے!

اور اس ماہ میں اس بات کی توفیق چاہتا ہوں کہ تیری اطاعت کروں اور تیری معصیت  نہ کروں!

اے گداؤں کو عطا کرنے والے!

پہلا جملہ:

آیت اللہ مجتہدی تہرانی فرماتے ہیں کہ خدایا میں اس ماہ رمضان میں تجھ سے چند چیزوں کا سوال کرتا ہوں۔پہلا یہ کہ تو مجھ سے راضی ہوجا اور میری زندگی ایسی ہو کہ تو مجھ سے خوش اور راضی ہو۔یہ توفیق تب ملتی ہے جب انسان اپنے کام اس طرح انجام دے کہ خدا اس سے راضی ہوجائے اور میں  تیری پناہ مانگتاہوں   اس چیز سے جو تجھے ناراض کرے یعنی گناہ اور شیطان کی اطاعت اور نفس کی اطاعت۔

آپ فرماتے ہیں کہ اگر جاننا چاہتے ہو کہ خدا تم سے راضی ہے یا نہیں تو اپنے دل میں دیکھو تم کتنا خدا سے راضی ہو؟اگر تم خدا سے راضی ہو تو وہ بھی تم سے راضی ہے۔

حدیث میں ہے کہ تم بیمار کی طرح ہو اور خدا ،ڈاکٹر اور طبیب کی طرح ہے۔جس طرح  ڈاکٹر جوکہتا ہے بیمار قبول کرتا ہے  اسی طرح خدا بھی جو کہے  اور جو عطا کرے، اس پر راضی اور قانع ہونا چاہیے اور اسکا حکم بجا لانا چاہیے۔

آپ فرماتے ہیں کہ اگر مصیبتوں اور مشکلات میں خدا سے گلہ نہ کریں اور خدا کے سامنے تسلیم رہیں یعنی ہم خدا سے راضی رہیں اور خدا بھی ہم سے راضی ہے لیکن انتہائی سخت مرحلہ ہے کہ انسان اپنے خدا سے گلہ نہ کرے۔

دوسرا جملہ:

استاد اخلاق فرماتے ہیں کہ خدایا میں اس ماہ رمضان میں مجھے توفیق دے کہ تیری اطاعت کروں اور گناہ نہ کروں۔روایت میں ہے کہ امام محمد تقی علیہ السلام فرماتے ہیں:مومن کے پاس تین خصلت ہونی چاہئیں:پہلی اس کے پاس توفیق ہو دوسری وہ خود اپنے آپ کو موعظہ کرے اور تیسری دوسروں کی نصیحت قبول کرے۔

بعض افراد اپنے وارث کے لیے مال جمع کرتے رہتے ہیں ۔ان کے لیے نصیحت ہے کہ وہ اپنے وارثوں کو مال و ثروت کے بجائےخدا کے حوالے کریں۔حدیث میں ہے اگر اچھا وارث ہے تو خدا خود اسکا محافظ ہے اور برا ہے اور دشمن خدا ہے تو دشمن خدا کے لیے کیوں اتنی زحمت کررہے ہو؟؟

آخری جملہ:

آیت اللہ مجتہدی فرماتے ہیں کہ اے وہ خدا جو بھی تجھ سے کسی چیز کا سوال کرتا ہے تو اپنے جود اور سخا  سے اسے بخش دیتا ہے۔خدایا ہماری آج کی دعا  قبول فرما۔ہم کبھی سائلین کو واپس پلٹا دیتے ہیں لیکن خدا سب کی دعاؤں کو قبول کرتا ہے اور رد نہیں کرتا لیکن کبھی ایک چیز ہماری مصلحت میں نہیں ہوتی اور ہم وہ خدا سے مانگیں  تو خدا نہیں دیتا لیکن ہماری دعا قیامت کے دن برلائے گا۔

خدایا قیامت میں بندے پوچھیں گے کہ خدایا یہ جو ہمیں عطا کررہے ہو کیا ہے؟خطاب ہوگا تم نے دنیا میں طلب کیا تھا مگر تمہاری مصلحت میں نہیں تھا اور آج میں اسے پورا کررہا ہوں۔

تاریخ: 18/5/2020 بمطابق  24  رمضان المبارک  1441 ھ ق

ترجمہ و پیشکش:ثقلین فاؤنڈیشن

شاید آپ یہ بھی پڑھنا چاہیں

چھبیسویں دن کی دعا اور شرح

بسم الله الرحمن الرحیم «اللهمّ اجْعَل سَعْیی فیهِ مَشْکوراً وذَنْبی فیهِ مَغْفوراً وعَملی فیهِ مَقْبولاً …