سر ورق / ادعیہ و مناجات / پچیسویں دن کی دعا اور شرح

پچیسویں دن کی دعا اور شرح

بسم الله الرحمن الرحیم

«اللهمّ اجْعَلْنی فیهِ محبّاً لأوْلیائِکَ ومُعادیاً لأعْدائِکَ مُسْتَنّاً بِسُنّةِ خاتَمِ انْبیائِکَ یا عاصِمَ قُلوبِ النّبییّن.»

بارالہا! اس ماہ میں تو مجھے اپنے دوستوں کا دوست اور اپنے دشمنوں کا دشمن قرار دے!

اور مجھے اپنے آخری نبیؐ کی سنت پر چلنے والا بنا دے!

اے نبیوںؑ کے دلوں کے محافظ!

پہلا جملہ:

آیت اللہ مجتہدی فرماتے ہیں کہ خدایا مجھے توفیق دے کہ اس ماہ رمضان میں میں نیک لوگوں کو  پسند کروں اور تیرے دشمنوں کا دشمن ہوں۔ آپ کے لیے  اگر کوئی عمل روز قیامت امید بخش ہو سکتا ہے کہ تم نجات یافتہ لوگوں میں شمار ہو تو نیک اور متقی افراد کو پسند کرو اور بے تقوا لوگوں سے بیزاری کا اظہار کرو۔

اگر آپ کی اولاد بے تقوا ہے ،بے نمازی ہے تو اسے بھی مت پسند کرو۔حدیث میں ہے کہ اس وقت تک ایمان کی حقیقت تک نہ پہنچ سکو گے جب تک اپنے قریبی ترین  رشتہ داروں سےخدا کے لیے محبت کرو کیونکہ آپ دیندار ہیں تو دور ترین افراد سے  اگر دیندار ہیں تو ان سے محبت کرو۔

آپ فرماتے ہیں کہ دوسری حدیث میں ہے کہ امام باقر علیہ السلام  نے ایک شخص سے فرمایا کہ اگر جاننا چاہو کہ جنتی ہو یا جہنمی؟تو اپنے دل میں دیکھو ،اگر دیکھو کہ دل میں  اہل اطاعت کی محبت ہے تو جنتی ہو اور اگر اہل گناہ کی محبت ہے تو جہنمی ہو۔انسان قیامت میں جس سے محبت کرتا ہوگا اسی کے ساتھ محشور ہوگا۔

دوسرے مقام پر معصومؑ نے فرمایا کہ آخری زمانے میں مومن کا دل غمگین ہوگا کیونکہ گناہ کو دیکھے گا اور اسے تبدیل کرنے کی استطاعت نہ رکھتا ہوگا۔

آج معاشرے میں امر بالمعروف اور نہی از منکر نہیں کرسکتے۔اگر کوئی کسی مومن سے محبت کرتا ہے حتی اگر  وہ محب منحرف بھی ہو تب بھی کچھ مدت بعد اس محبت کے ذریعے راہ راست پر آجائے گا۔

آخری جملہ:

آپ فرماتے ہیں کہ  خدایا ہماری مدد فرما کہ ہم تیرے نبیؐ کے طریقے پر مستحبات،دعاؤں اور اسلامی احکامات پر عمل پیراہوں۔خدایا مدد فرما کہ نبی مکرمؐ نے جو بھی فرمایا ہے اس پر عمل کریں اور جس چیز سے روکا ہے اسے ترک کریں۔خدایا آج کے دن ہماری دعائیں قبول فرما۔آمین

تاریخ: 19/5/2020 بمطابق  25  رمضان المبارک  1441 ھ ق

ترجمہ و پیشکش:ثقلین فاؤنڈیشن

شاید آپ یہ بھی پڑھنا چاہیں

چھبیسویں دن کی دعا اور شرح

بسم الله الرحمن الرحیم «اللهمّ اجْعَل سَعْیی فیهِ مَشْکوراً وذَنْبی فیهِ مَغْفوراً وعَملی فیهِ مَقْبولاً …