سر ورق / ادعیہ و مناجات / چھبیسویں دن کی دعا اور شرح

چھبیسویں دن کی دعا اور شرح

بسم الله الرحمن الرحیم

«اللهمّ اجْعَل سَعْیی فیهِ مَشْکوراً وذَنْبی فیهِ مَغْفوراً وعَملی فیهِ مَقْبولاً وعَیبی فیهِ مَسْتوراً یا أسْمَعِ السّامعین.»

بارالہا! اس ماہ میں تو میری سعی و کوشش کو لائق اجر بنا دے!

اور اس ماہ میں میرے گناہ معاف فرما دے!

اور اس ماہ میں میرے عمل کو  قبول فرما لے!

اور اس ماہ میں میرے عیب چھپا دے!

 اے سب سے اچھے سننے والے!

پہلا جملہ:

آیت اللہ مجتہدی تہرانی فرماتے ہیں کہ خدایا اس مہینے میں ہماری کوششیں اور جدوجہد قبول فرما۔مشکور کا مقصد یعنی قبول فرما ۔انسان زحمت کرتا ہے، روزہ رکھتا ہے، بھوک اور پیاس برداشت کرتا ہے، کم سوتا ہے اور اگر خدا س مہینے میں ہماری کوششیں قبول نہ فرمائے تو ہم کہیں کے نہیں رہیں گے۔ہم کچھ بھی نہیں کرسکیں گے۔اگر ایک زحمت کی جائے اور اسکا کوئی فائدہ اور نفع نہ ہو  یہ بہت برا ہے۔ہمیں اس بات پر پریشان رہنا چاہیے کہ ہمارے اعمال کو کوئی آفت ضائع نہ کردے۔مثلا ایک غیبت کرنے سے  40 دن تک ہمارے اعمال قبول نہیں ہوتے اور غیبت کرنے والے کا ثواب اس شخص کے نامہ اعمال میں درج ہوجاتا ہے جس کی غیبت کی گئی ہو اور اگر نیکیاں نہ ہوں تو غیبت کیے جانے والے شخص کے گناہ غیبت کرنے والے کے نام پر درج ہوجاتے ہیں۔یہ روایت میں ہے۔

استاد اخلاق فرماتے ہیں کہ ہمیں ہرروز اپنے اوپر دھیان دینا چاہیے کہ ہم نے کیا کیا ہے؟کیا ہمارے اندر کوئی عیب نہیں؟عیوب سے پاک صرف خدا کی ذات ہے ہمارا عیوب سے پاک ہونا  ناممکن ہے۔روایت میں ہے کہ انسان اپنے بڑے بڑے عیبوں کو نہیں دیکھتا اور اسے دوسرے کے چھوٹے سے عیب بھی نظر آجاتے ہیں۔یہ بھی روایت ہے کہ خوش قسمت ہے وہ شخص جو اپنے عیوب کی طرف متوجہ رہتا ہے اور دوسروں عیبوں پر پردہ ڈالتا ہے۔

دوسرا جملہ:

خدایا ہمارے گناہ معاف اور ہمارے اعمال قبول فرما۔خدایا اس ماہ رمضان سے پہلے جو گناہ کرچکے ہیں   وہ بخش دے کیونکہ ماہ رمضان میں معنوی فوائدکی تجارت ہورہی ہے۔یعنی جس مہینے میں سونا اور سانس لینا بھی عبادت شمار ہوتا ہے۔

آپ فرماتے ہیں کہ خطبہ شعبانیہ میں  نبی مکرمﷺ فرماتے ہیں کہ تمہاری پشت گناہوں کے بوجھ تلے دب چکی ہے ماہ رمضان میں اسے ہلکا کرو۔بعض لوگ صبح کی نماز کے لیے بیدار نہیں ہوسکتے کیونکہ گناہ اتنے زیادہ ہوتے ہیں جن کے بوجھ کی وجہ سے نماز صبح ادا نہیں کرسکتے۔کسی نے امام حسن عسکریؑ سے عرض کیا کہ میں ہر رات نماز تہجد پڑھنے کا ارادہ کرتا ہوں لیکن پڑھ نہیں پاتا۔آپ نے فرمایا کہ گناہ نے تجھے زنجیروں میں جکڑ لیا ہے۔یعنی اگر کوئی چاہتا ہے کہ نماز تہجد پڑھے لیکن  پڑھ نہیں سکتا تو استغفار کے ذریعہ اس مشکل کو حل کرے۔

استاد اخلاق فرماتے ہیں کہ اگر کوئی صبح کے وقت سو رہا ہے تو وہ نہیں جانتا کہ وہ کون ہے اسے خود کو تلاش کرنا چاہیے۔امام علیہ السلام فرماتے ہیں کہ کتنا عجیب ہے کہ لوگ اپنی گمشدہ چیز کو تلاش کررہے ہیں مگر اپنے آپ کو تلاش نہیں کرتے۔

وضو کرو اور رات کی تاریکی میں  اپنے آپ سے پوچھو کہ تم کون ہو؟شاید خود کو تلاش کرلو اور جب تلاش کرلو گے تو نماز تہجد کا شوق پیدا ہوجائے گا۔

تیسرا جملہ:

آپ فرماتے ہیں کہ خدایا میرے عیب مخفی رکھنا اور کوئی میرے عیبوں سے مطلع نہ ہو۔خدا ستار العیوب ہے اور اس نے کسی کو ہمارے عیوب سے باخبر نہیں کیا وگرنہ دو لوگ اکٹھے نہ بیٹھ سکتے۔اگر عیب ظاہر ہوجاتے تو  کوئی کسی کا جنازہ  دفن نہ کرتا۔

آخری جملہ:

خدایا  اے بہترین سننے والے۔خدا ہر چیز کو سنتا ہے اگر آہستہ بولو گے تب بھی سنے اگر بلند آواز سے بولو گے تب بھی سنے گا۔حضرت موسی علیہ السلام نے عرض کیا کہ خدایا اگر قریب ہو تو آہستہ عرض کروں اور اگر دور ہو تو بلند آواز سے عرض کروں، خدانے فرمایا میں ہر اس شخص کا ہم نشین ہوں جو میری یاد میں رہتا ہو۔خدا سب سے بہترین سننے والا ہے۔اے بہترین سننے والے خدا ہماری دعاؤں کو قبول فرما۔آمین

تاریخ: 20/5/2020 بمطابق  26  رمضان المبارک  1441 ھ ق

ترجمہ و پیشکش:ثقلین فاؤنڈیشن

شاید آپ یہ بھی پڑھنا چاہیں

پچیسویں دن کی دعا اور شرح

بسم الله الرحمن الرحیم «اللهمّ اجْعَلْنی فیهِ محبّاً لأوْلیائِکَ ومُعادیاً لأعْدائِکَ مُسْتَنّاً بِسُنّةِ خاتَمِ انْبیائِکَ …