سر ورق / ادعیہ و مناجات / اٹھائیسویں دن کی دعا اور شرح

اٹھائیسویں دن کی دعا اور شرح

بسم الله الرحمن الرحیم

«اللهمّ وفّر حظّی فیهِ من النّوافِلِ واکْرِمْنی فیهِ بإحْضارِ المَسائِلِ وقَرّبِ فیهِ وسیلتی الیکَ من بینِ الوسائل یا من لا یَشْغَلُهُ الحاحُ المُلِحّین. »

بارالہا! اس ماہ میں میری  مستحب نمازوں میں مزید اضافہ فرما!

اور اس ماہ میں مجھ پر کرم فرما کہ میں اپنی تمام حاجتوں کو تیری بارگاہ میں پیش کرسکوں!

اور اس ماہ میں وہ وسیلہ میرے نزدیک کردے جو مجھے تجھ تک پہنچاتا ہو!

اے وہ ذات جسے بندوں کی مسلسل پکار (دوسروں سے) غافل نہیں کرتی!

پہلا جملہ:

آیت اللہ مجتہدی تہرانی فرماتے ہیں کہ  دعا انسان کے کمال کا باعث ہے۔دعا کمالات تک رسائی کے لیے ہونی چاہیے جبکہ عام لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ دعا کا مقصد ثواب کا حصول ہے۔دعاؤں کے مضامین اخلاق،حکمت سے پر ہیں جن کے معانی کی طرف  توجہ انسان کے کمال کا سبب ہے۔اگر کسی عربی زبان نہیں آتی تو وہ ان دعاؤں کا ترجمہ پڑھے۔ان نکات کی جانب توجہ کرے جن کی وجہ سے انسانی کمال تک پہنچ جائے۔جیسے دعائے کمیل،دعائے ابو حمزہ ثمالی وغیرہ  یہ سب ہمارے کمال تک پہنچنے کا باعث ہیں۔دعائے ابوحمزہ ثمالی میں امام سجاد علیہ السلام فرماتے ہیں کہ خدا مجھ سے بھی بدتر تیرا کوئی بندہ  ہے؟۔یہ کمال کے لیے ہے اور غرور کے خلاف جنگ کا درس ہے کہ جب امام علیہ السلام اس طرح کلام فرما رہے ہیں تو ہمارے  لیےسارا معاملہ روشن ہوجاتا ہے۔یعنی ہم دو رکعت مستحبی  نماز اور ایک نماز تہجد پر اتنے مغرور نہ ہو جائیں۔

موت کے لیے آمادگی

دعائے ابو حمزہ ثمالی میں امام علیہ السلام فرماتے ہیں کہ خدایا اگر میں اس حال میں مرجاؤں تو کیا کروں؟ اگر ہم آج خالی ہاتھ مر جائیں تو کیا کریں گے ،دعا کریں خداہمیں ایک موقعہ دے تاکہ موت کے لیے آمادہ ہوسکیں۔

پر امید آنسو

آیت اللہ خوانساری مرحوم فرماتے تھے کہ میں اس دنیا سے جا رہا ہوں جبکہ میرے ہاتھ خالی ہیں  لیکن مجھے ایک عمل کی امید ہے جو میری نجات کا باعث بنے گا۔اور وہ میرے آنسو ہیں  جو میں نے عزاداری امام حسین ع اور اہل بیت ع میں بہائے ہیں۔

مجلس اہل بیت ع کی اہمیت

عورتوں کی طرح مجالس امام حسین ع کی تلاش کرو اور امام حسین ع پر گریہ کرو اور کبھی اس گریہ کو کم اور چھوٹا نہ سمجھو۔مرحوم آیت اللہ خوانساری نے خواب میں حضرت حبیب بن مظاہر کی زیارت کی اور انہوں نے فرمایا مجھے بہت زیادہ پسند ہے کہ میں دنیا میں واپس جاؤں اور امام حسین ع کی مجالس میں گریہ کروں۔

خدایا ہمیں نوافل اور مستحب اعمال انجام دینے کی توفیق عطا فرما۔

اساتید فرماتے ہیں کہ کبھی انسان مستحبات میں خلاقیت انجام دے۔کبھی نماز تہجد میں اور کبھی دعاؤں میں ۔اگر کوئی اہل مستحبات نہیں تو اسکا کوئی فائدہ نہیں  ۔مستحبات کو ہمیشہ یا اکثر اوقات  انجام دو۔

دوسرا جملہ:

استاد اخلاق فرماتے ہیں کہ خدایا مجھ پر کرم فرما تاکہ میں اپنے شرعی مسائل جان سکوں۔انسان کے لیے ضروری ہے کہ  اپنے شرعی مسائل کا علم رکھتا ہو۔

تیسرا جملہ:

آپ فرماتے ہیں کہ خدایا جو وسیلہ مجھے تجھ  تک جلدی پہنچانے کا باعث ہے وہ مجھے عطا فرما اور بہترین وسیلہ اہل بیت ع سے توسل ہے۔

آخری جملہ:

آیت اللہ مجتہدی تہرانی فرماتے ہیں کہ اے وہ خدا جسے بندوں کی مسلسل پکار غافل نہیں کرتی۔اگر پوری دنیا کے لوگ خدا سے ہم کلام ہوں  تب بھی دوسروں سے خدا غافل نہیں ہوگا اور اس وقت بھی اپنے بندوں پر توجہ کیے ہوئے ہے۔خدایا ہماری دعاؤں کو مستجاب فرما۔آمین

تاریخ: 22/5/2020 بمطابق  28  رمضان المبارک  1441 ھ ق

ترجمہ و پیشکش:ثقلین فاؤنڈیشن

شاید آپ یہ بھی پڑھنا چاہیں

پچیسویں دن کی دعا اور شرح

بسم الله الرحمن الرحیم «اللهمّ اجْعَلْنی فیهِ محبّاً لأوْلیائِکَ ومُعادیاً لأعْدائِکَ مُسْتَنّاً بِسُنّةِ خاتَمِ انْبیائِکَ …