سر ورق / مقالات / معصومین / حضرت امام محمد باقرؑ / کربلا کے بعد علمی ثقافتی انقلاب کی بنیاد کس نے رکھی؟

کربلا کے بعد علمی ثقافتی انقلاب کی بنیاد کس نے رکھی؟

کربلا کے بعد علمی وثقافتی انقلاب کے بانی حضرت امام محمد باقر علیہ السلام ہیں۔

امام حسین علیہ السلام کی شہادت کے بعد کچھ ایسا ماحول بن گیا جس میں امام باقر اور امام صادق علیہما السلام نے ایک عظیم انقلاب کی بنیاد رکھ دی ۔

امام باقر علیہ السلام کے زمانے میں مروانیوں کی حکومت تھی اور اسلام کئی ممالک میں پھیل چکا تھا اور نئی نئی اقوام اسلام لا چکی تھیں اور نت نئے دینی مسائل جنم لے رہے تھے۔کئی نئی کتابیں ترجمہ ہوچکی تھیں اور معاشرے میں جدید شبہات کو جنم دے رہی تھیں۔حکومت وقت  اندرونی اختلافات اور کرپشن کے باعث کمزور ہوچکی تھی امام باقر علیہ السلام حالات کو مساعد خیال کرتے ہوئے مدینہ میں ایک یونیورسٹی کی بنیاد رکھی اور کئی شاگردوں کی تربیت کی۔حکومت میں اتنی طاقت نہیں تھی کہ امام علیہ السلام کو احکام اور دین کی تبلیغ سے روک سکے۔امام علیہ السلام کے درس میں دنیا کے گوشہ وکنار سےعالم اور محدثین شریک ہوتے تھے اور حج اور عمرہ کے دنوں میں انکی تعداد کئی گنا  بڑھ جاتی تھی۔

مسلم امہ میں  انحطاط

کتاب توحید صدوق علیہ رحمہ کو اگر دیکھا جائے تو امام باقر اور امام صادق علیہما السلام سے جو سوالات کیے جاتے تھے اس سے گمان ہوتا تھا کہ مسلمان توحید اور معرفت خدا کے بارے میں یہودیوں سے بھی بدتر سوال کرتےتھے!!

یہ انحطاط اچانک ہی وجود میں نہیں آیا بلکہ اس کے لیے ایک عرصہ تک مختلف عوامل اور اسباب کو ملا کر قوم کو انحطاط اور پستی کا شکار کیا گیا جیسے فرقہ پرستی،بدعات،انحرافی کتابوں کا ترجمہ اور یہ کام منظم انداز میں کیے گئے تاکہ اسلام کو سرنگوں کیا جاسکے۔

اس مقام پر امام باقر اور امام صادق علیہ السلام نے اسلامی دنیا میں ایک علمی تحریک کی بنیاد رکھی جس نے ناصرف شیعوں بلکہ اہل سنت کو بھی فکری انحطاط سے نجات دی اور اہل سنت کے شاگردوں کی تربیت کی۔

امام باقر اور امام صادق علیہ السلام نے اسلامی معاشرے میں امام معصوم کی علمی مرجعیت اور مقام کی شناسائی کروائی اور مسائل کے حل کےلیے لوگوں کو ایک راہ دکھائی کہ لوگ مسائل کے حل کے لیے امام کی طرف رجوع کریں۔

اس سے پہلے شیعہ حضرات اپنے مسائل اہل سنت علما سے دریافت کرتے تھے لیکن امام باقر اور امام صادق علیہما السلام نے  وہ راستہ بدل کر شیعہ معاشرے کا رجوع اہل بیت علیہم ا لسلام کی جانب کردیا۔

ماخذ: شفقنا

ترجمہ و تلخیص:ثقلین فاؤنڈیشن قم

شاید آپ یہ بھی پڑھنا چاہیں

امام ہادی علیہ السلام کی امامت کے دلائل

چونکہ  حضرت موسی مبرقع نے کبھی بھی امامت کا دعوی نہیں کیا اور جو لوگ آپ کی امامت کی جانب مائل تھے انہیں خود سے دور کردیا۔پس امامت امام ہادی علیہ السلام میں منحصر ہوگئی۔