سر ورق / مقالات / معصومین / حضرت امام مہدیؑ / غیبت امام کا نقصان

غیبت امام کا نقصان

سوال: غیبت امام زمان عج کا سب سے بڑا نقصان کیا ہے؟

جواب:

امام کی غیبت سے دو معانی مراد ہوسکتے ہیں:

اول: اگر غیبت امام سے مراد یہ ہو کہ امام کی شناخت اور پہچان نہ ہو  تو امام کے بغیر اسلامی معاشرہ جاہلیت اور بے دین معاشرے کے مساوی اور یکساں ہے اس میں کوئی فرق نہیں کیونکہ رسول خداﷺ کی حدیث اس مطلب کو واضح طور پر بیان کررہی ہے۔

1«مَنْ مَاتَ وَ  لَا (لم)یَعْرِفُ إِمَامَهُ، مَاتَ مِیتَةً جَاهِلِیَّة»؛

اگر کو ئی مرجائے اور اسے اس حالت میں موت آئے کہ اپنے امام کو نہ پہچانتا ہو تو وہ جاہلیت کی موت مرا۔

اس حدیث سے امام کی شناخت کی ضرورت اور نہ پہچاننے کی صورت میں جو نقصان ہوگا وہ واضح طور پر معلوم ہے۔

دوم:اگر غیبت امام سے مراد یہ ہو کہ امام ظاہر نہیں ہیں اور غائب ہیں ۔اس کے بارے میں بھی اہلبیت علیہم السلام کی روایات موجود ہیں کہ:

زمانہ غیبت میں امام کا فائدہ  بادلوں میں چھپے سورج کے مانند ہے۔2

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ امام کے غیبت کے زمانے میں بھی لوگ امام کے وجود مبارک کی برکات سے مستفید ہورہے ہیں لیکن اسکے باوجود معاشرہ امام کے حضور یعنی معصوم کا معاشرے کے دنیاوی اور اخروی امور کو خود چلانا  اور سیاسی اور ثقافتی طور پر معاشرے کی رہنمائی کرنا  اس سے محروم ہے ۔

مآخذ:

1۔کلینی، کافی

2۔شیخ صدوق، امالی، ص 186

3۔اسلام کوئیسٹ

شاید آپ یہ بھی پڑھنا چاہیں

تاریخ اسلام ،پیغمبرؐ کی ولادت کس تاریخ کو ہوئی؟

جب وفات پیغمبر ﷺ کی تاریخ مسلمانوں میں متفق نہ رہ سکی تو ولادت کی تاریخ میں اختلاف ہونا کونسا تعجب خیز ہے۔غنیمت یہ ہے کہ مہینہ متفق علیہ ہے