سر ورق / معرفت امام زمانؑ / امام زمان عج کیوں غائب ہیں اور ظہور نہیں ہورہا؟

امام زمان عج کیوں غائب ہیں اور ظہور نہیں ہورہا؟

اعتراض:

کیا امام زمان عج نے کوئی معیوب اور ناپسندیدہ کام کیا ہے جو لوگوں کے خوف سے غائب ہیں ۔ظہو ر کریں تاکہ خدا کی راہ میں آنے والی سختیاں اور مشکلات برداشت کریں اور دشمنوں کی تکالیف پر صبر کریں تاکہ شرعی واجب انجام دیں اور انسانیت کو ظالموں کے ہاتھوں سے آزاد کروائیں؟

جواب:

یعنی اعتراض کرنے والا یہ کہہ رہا ہے کہ امام اس وجہ غائب ہیں کہ انہیں اذیت سہنے کا خوف ہے جوکہ انکے خوف اور بزدل ہونے کی علامت ہے۔

اسکا جواب یہ ہے کہ اولا؛ امام خوف نہیں کھاتا اور خوفزدہ نہیں ہوتا بلکہ دنیا کی حکومتیں اور انکے حکمران امام سے خوف کھاتے ہیں امام  اس یاوہ گوئی سے بہت بعید ہیں ۔

ثانیا؛اسکا نقضی جواب یہ ہے کہ کیا رسول خدا ﷺ نے جب غار میں پناہ لی اور پھر وہاں سے مدینہ کی جانب ہجرت فرمائی ،آپ کا یہ عمل خوف اور ڈر کی وجہ سے تھا؟

کیا نبی مکرم ﷺ شجاع نہیں تھے جو تین سال اور چند مہینے شعب ابی طالب میں بھوکے پیاسے محصور رہے؟

کیا نبی اعظم ﷺ نے جب خدا کی جانب دعوت دی تو آپ اور آپ کے اصحاب ارقم کے گھر میں خفیہ عبادت کرتے تھے تو آپ کو اپنے خدا پر اعتماد نہیں تھا؟

بلکہ نکتہ یہ ہے کہ حکمت ایک چیز ہے اور خوف دوسری شئ۔اعتراض کرنے والے نے دونوں کے درمیان کوئی فرق نہیں کیا۔ امام اپنے  کام حکمت کے تحت انجام دیتا ہے ناکہ خوف کی وجہ سے ۔

یعنی پیغمبر اسلامﷺ نے جب غار میں پناہ لی تو آپ کو یقین تھا کہ خدا آپ کے دین کو غالب کرے گاپھر بھی ہجرت کا راستہ کیوں چنا؟

کیوں حضرت موسی علیہ السلام نے ساری رات خوفزدہ رہے؟کیوں مصر سے خوف کے عالم میں نکلے؟کیوں فرمایا کہ میں تمہارے خوف سے جارہاہوں؟یہ کونسا خوف انہیں لاحق تھا؟ جبکہ انہیں یقین تھا کہ وہی بنی اسرائیل کو فرعون کے ظلم سے نجات دینے والے ہیں۔

پس جو جواب آپ حضرت موسی علیہ السلام اور خاتم النبیین ﷺ کے خوف کا دیں گے وہی جواب امام زمان عج کے غائب ہونے کا سبب ہے۔

دوسرے لفظوں میں امام زمان عج خدا کی اجازت اور حکم کے منتظر ہیں کہ ظہور کریں لیکن جب شرائط اور اسباب کی فراہمی ہوجائے گی تب خداکی اجازت بھی آجائے گی اور ظہور ہوجائے گا۔

ماخذ:المہدی از تولد تا بعد از ظہور،قزوینی

شاید آپ یہ بھی پڑھنا چاہیں

امام عصر عج کی ولادت کے وقت حمل کے آثار ظاہر کیوں نہ تھے؟

یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ایک ایسا بچہ جس کی والدہ کے حمل کے آثار شب ولادت تک ظاہر نہ ہوں پھر اس بچے کی ولادت ہو اور بات کرے اور پھر بچپنے میں ہی اسکا والد اس دنیا سے رخصت ہوجائے اور امامت اسے مل جائے؟؟