سر ورق / معرفت امام زمانؑ / حضرت زہرا علیہا السلام امام عصرعج کے لیے کیسے نمونہ عمل ہیں؟

حضرت زہرا علیہا السلام امام عصرعج کے لیے کیسے نمونہ عمل ہیں؟

حدیث میں آیا ہے:

قال مولانا الامام المهدي-عجل الله تعالي فرجه الشريف- : (وَفي إِبْنَه رَسُولِ اللّهِ(صلى الله عليه وآله وسلم) لي أُسْوَه حَسَنَه

شیخ طوسیؒ نے کتاب الغیبہ میں ایک مناظرہ بیان کیا ہے جو ایک شیعہ گروہ اور ابن ابی غانم کے درمیان ہوا ۔یہ مناظرہ امام حسن عسکری علیہ السلام کی جانشینی کے بارے میں تھا۔ابن ابی غانم امام حسن عسکری علیہ السلام کی جانشینی کا قائل نہیں تھا۔چند مومنین نے امام زمان عج کی خدمت میں خط لکھا اور ابن ابی غانم  اور شیعوں کے درمیان ہونے والے مناظرہ کی تفصیل بیان کی۔

آنحضرت عج اپنے دست مبارک سے خود تحریر شدہ  اپنے  جوابی خط میں شیعوں کیلئے عافیت کی دعا کے ساتھ فرماتے ہیں:

فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا دختر رسول خداﷺ میرے لیے اس مسئلہ میں بہترین نمونہ عمل ہیں۔

اس میں آنحضرت عج نے سیدہ علیہا السلام کی کونسی رفتار،یاگفتار کو مدنظر قرار دیا ہے اس کے بارے میں مختلف  احتمال بیان ہوئے ہیں۔ان میں سے تین ذیل میں بیان کیے جارہے ہیں:

1۔حضرت زہراء سلام اللہ علیہا نے تا آخر عمر  کسی بھی ظالم حکمران کی بیعت نہیں کی۔حضرت مہدی عج  کی گردن پر بھی کسی ظالم حکمران و سلطان کی بیعت نہیں ہے۔

2۔اس خط کی شان یہ ہے کہ بعض شیعوں نے امام کی امامت کو قبول نہیں کیا۔حضرت عج فرماتے ہیں کہ اگر میں چاہتا اور مجھے اجازت ہوتی تو میں وہ کام کرتا جس سے حق مکمل طور پراس طرح واضح ہوجاتا کہ اس میں کوئی شک و شبہ باقی نہ رہتا لیکن میری رہنما حضرت زہراء علیہا السلام کی ذات ہے۔انہوں نے جب امام علی علیہا لسلام سے حق حکومت غصب کرلیا گیا کبھی بھی خلافت کی واپسی کیلے غیر عادی او غیر متعارف  اسباب کا سہارا نہیں لیا۔میں بھی آپ کی پیروی  کرتا ہوں اور اس دور میں اپنے حق کے اثبات کیلئے غیر عادی راستہ پر نہیں چلوں گا۔

3۔حضرت عج نے جوابی خط میں فرمایا ہے:اگر تمہاری ہدایت اور دستگیری کا  بہت زیادہ شوق نہ ہوتا تو جو ہمارے حق میں مظالم ہوئے ہیں ہم تم لوگوں سے منہ پھیر لیتے۔

آپ عج اس جملے میں فرما رہے ہیں  کہ جیسا دشمنوں نے حضرت زہراء سلام اللہ علیہا پر ظلم روا رکھا اور مسلمانوں نے اس حوالے خاموشی اختیار کی ۔یہ سب چیزیں باعث نہ بنیں کہ آپ مسلمانوں کیلئے دعا نہ کریں بلکہ آپ اپنی دعاؤں میں دوسروں کو خود پر ترجیح دیتی تھیں میں بھی ان مظالم اور انکار کو برداشت کروں گا اور دلسوزی اور رہنمائی اور دعا وغیرہ سے تمہیں محروم نہیں کروں گا۔

ترجمہ و پیشکش: ثقلین فاؤنڈیشن قم

ماخذ: الغيبه طوسى، ص286، ح245 ; احتجاج، ج2، ص279 ; بحارالأنوار، ج53، ص180، ح9 .

شاید آپ یہ بھی پڑھنا چاہیں

امام عصر عج کی ولادت کے وقت حمل کے آثار ظاہر کیوں نہ تھے؟

یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ایک ایسا بچہ جس کی والدہ کے حمل کے آثار شب ولادت تک ظاہر نہ ہوں پھر اس بچے کی ولادت ہو اور بات کرے اور پھر بچپنے میں ہی اسکا والد اس دنیا سے رخصت ہوجائے اور امامت اسے مل جائے؟؟