سر ورق / مقالات / سید حمیری؛ایسا شاعر جس کے دل میں دشمنی کی جگہ محبت اہل بیتؑ نے لے لی

سید حمیری؛ایسا شاعر جس کے دل میں دشمنی کی جگہ محبت اہل بیتؑ نے لے لی

سید اسماعیل حمیری  المعروف سید حمیری بنی امیہ کے دور اقتدار کے اواخر اور بنی عباس کے دور حکومت کے اوائل میں مشہور شیعہ شعراء میں سے تھے۔مکتب اہلبیت علیہم السلام کے عاشق تھے اور انکی زندگی کئی نشیب وفراز سے بھری ہوئی ہے۔

سید حمیری 105 ہجری یعنی خلافت اموی کے خاتمے سے 27 سال قبل بصرہ میں پیدا ہوئے ۔آپ کے وادین فرقہ اباضیہ سے تعلق رکھتے تھے جوکہ خوارج کا انتہاءپسند فرقہ تھا۔دونوں خوارج کے عقائد رکھتے تھے اور انکی کوشش تھی سید حمیری بھی انہیں عقائد پر یقین رکھیں اور انہیں تسلیم کریں تاکہ خوارج کے عقائد پر رہتے ہوئے دشمنی اہلبیت علیہم السلام کا بیج انکے دل میں بویاجاسکے۔

جوانی میں سید حمیری کیسانیہ فرقہ میں شامل ہوگئے جو شیعہ کا منحرف فرقہ تھا اور اسکے بعد اسے بھی ترک کرکے مذہب جعفری اختیار کرلیا۔

تاریخ میں لکھاہے کہ سید حمیری نے امام صادق علیہ السلام  کے صحابی مومن الطاق سے مناظرہ کیا اور شیعہ مذہب اختیار کیا۔لیکن شیخ صدوقؒ کے مطابق سید حمیری امام صادق علیہ السلام کی ترغیب سے شیعہ ہوئے۔سید حمیری نے امام صادق علیہ السلام میں امامت کی نشانیاں ملاحظہ کیں اور امام علیہ السلام سے مختلف سوالات کیے اس کے بعد جب ان پر حق واضح ہوگیا توشیعہ مذہب قبول کرلیا۔

محمد بن نعمان نے رجال کشی میں روایت کی ہے کہ میں نے سید حمیری کو کوفہ میں دیکھا، شدید بیمار تھے اور آپکا چہرہ سیاہ اور آنکھیں ادر دھنس چکی تھیں اور پیاس سے انکی جان نکل رہی تھی اور پیاس کی شدت کو کم کرنے کیلئے کبھی کبھی شراب پیتے تھے۔امام صادق علیہ السلام ان دنوں کوفہ میں تھے  ۔میں نے سید حمیری کے حالات سے امام علیہ السلام کو آگاہ کیا۔ہم سید حمیری کے گھر گئے ۔امام علیہ السلام انکے سرہانے بیٹھ گئے اور انہیں نام سے پکارا، سید نے اپنی انکھیں کھولیں اور امام کی جانب دیکھا لیکن بات کرنے کی سکت نہ تھی۔امام علیہ السلام نے سید حمیری کے ہونٹوں کو حرکت دی تو سید کی زبان کھل گئی اور عرض کی:قربان جاؤں آپ پر!کیا آپ اپنے ماننے والوں کے ساتھ ایسا برتاؤ کرتے ہیں؟!امام نے فرمایا: اے سید! حق اور سچ بات کہو تاکہ خدا تمہیں اس بیماری سے شفا عطا فرمائے اور تجھے بخش دے اور جس جنت کا اپنے اولیاء سے وعدہ کیا ہے اس میں تمہیں داخل کرے۔ سید نے اس موقع پر شعر کہے جس کے دو بیت یہ ہیں:

تَجَعفَرتُ باسم الله و الله اکبر                         و أیقنتُ انّ الله یعفو و یغفِر

ودِنتُ بدینٍ غیر ما کنت دایناً                       به و نهانی سید الناس جعفرً

ترجمہ: میں اللہ کےنام پر جعفری مذہب پر ہوں اور میں نے یقین کرلیا ہے کہ خدا بخشنے اور عفو و درگزر کرنے والا ہے۔جس دین پر میں پہلے قائم تھا اور اسکا عقیدہ رکھتا تھا اب تمام لوگوں کے سید و سردار امام صادق علیہ السلام  نے مجھے سابقہ دین سے منع فرما دیا ہے۔

علماء نے لکھا ہے کہ اس کے بعد سید حمیری آخر عمر تک شیعہ مذہب پر باقی رہے۔

کسی نے سید حمیری سے پوچھا کہ تم کیسے شیعہ ہوئے جبکہ تم شامی فرقے سے تعلق رکھتے ہو؟

تو سید حمیری نے جواب دیا:

صبت علی الرحمة صبا فکنت کمؤمن آل فرعون

مجھ پر خدا کی رحمت اس طرح برسی کہ میں مومن آل فرعون کی طرح کا مومن ہوگیا۔

ماخذ: خلاصہ از ویکی شیعہ و دیگر

شاید آپ یہ بھی پڑھنا چاہیں

غزوہ غابہ کب اور کیسے ہوا؟

دشمن نے رسول خداﷺ کے دودھ دینے والے اونٹوں میں سے 20 اونٹ چرا لیے اور ابوذرغفاری رض کے بیٹے وہاں پر محافظ تھے انہیں شہید کردیا اور اسی زوجہ کو قیدی بنا لیا۔