سر ورق / معرفت امام زمانؑ / امام عصر عج کو اذیت اور تکلیف دینے والے کون ہیں؟

امام عصر عج کو اذیت اور تکلیف دینے والے کون ہیں؟

امام عصر عج کو جہاں دشمن تکلیفیں پہنچاتے ہیں وہاں ان سے زیادہ تکلیف امام عصر عج کو آپ کے  ماننے والوں   کی نادانی اور کم عقلی سے پہنچتی ہے۔

قال مولانا الامام المهدي-عجل الله تعالي فرجه الشريف- :

(قَدْ آذانا جُهَلاءُ الشّيعَةِ وَحُمَقاؤُهُمْ، وَمَنْ دينُهُ جِناحُ الْبَعُوضَةِ أَرْجَحُ مِنْهُ)[1]

نادان اور کم عقل شیعہ ہمیں تکلیف پہنچاتے ہیں جن کے دین سے مچھر کا پر زیادہ محکم اور مضبوط ہے۔

یہ عبارت اس توقیع مبارکہ سے ماخوذ ہے جسے آنحضرت عج نے محمد بن علی بن ہلال کرخی کے خط کے جواب میں بھیجا۔

یہ توقیع مبارکہ غالیوں کے رد میں ہے جو آئمہ معصومین علیہم السلام کو خداوند متعال کے ساتھ اسکے علم و قدرت میں شریک ٹھہراتے ہیں۔

شیعوں کی ذمہ داریوں میں سے ہے کہ وہ آئمہ علیہم السلام کو اس طرح پہچانیں جیسے وہ ہیں  اور انہیں  عام لوگوں کی سطح پر نیچے لائے اور نہ  اتنا بڑھا دے کہ خداوندمتعال کے ساتھ شریک ٹھہرا دے۔

ہونا تو یہ چاہیے کہ جیساکہ متعدد روایات میں آئمہ علیہم السلام کا مقام و ذمہ داری واضح طور پر بیان ہوئی ہے انکی طرف مراجعہ کیا جائے اور اپنی فکر کو ان روایات کے مطابق ڈھالا جائے۔

غالیوں کے عقائد اور کردار کے باعث دشمنوں نے حقیقی شیعوں کی تکفیر کی اور انہیں کافر جانا اور ایک گروہ توشیعوں کے نجس ہونے اور واجب القتل ہونے کا فتوی دیتا ہے۔

امیر المومنین علیہ السلام نہج البلاغہ میں فرماتے ہیں:

ھلک فی رجلان؛ محب غال و مبغض قال

میرے بارے میں دو لوگ ہلاک ہونگے ؛ایک وہ جو میری محبت میں افراط کرتا ہے اور دوسرا جو میرے بغض میں تفریط کرتا ہے۔2

(افراط یعنی حد سے بڑھا دینا اور تفریط یعنی حد سے گھٹا دینا)

ماخذ:شعبہ پاسخ بہ شبہات حوزہ قم

[1]. احتجاج، ج2، ص289 ; بحارالأنوار، ج25، ص267، ح9 .

[2]. نهج البلاغه، حكمت 469 ; بحارالأنوار، ج39، ص295، ح96 .

شاید آپ یہ بھی پڑھنا چاہیں

غیبت امام کا نقصان

اس حدیث سے امام کی شناخت کی ضرورت اور نہ پہچاننے کی صورت میں جو نقصان ہوگا وہ واضح طور پر معلوم ہے۔