سر ورق / مقالات / معصومین / حضرت امام محمد باقرؑ / دل میں شیطانی وسوسے کیوں آتے ہیں؟

دل میں شیطانی وسوسے کیوں آتے ہیں؟

دل میں شیطانی وسوسے کیوں آتے ہیں؟

اسکا جواب ہمیں امام محمد باقر علیہ السلام کی اس روایت میں ملتا ہے جو ذیل میں پیش کی جارہی ہے:

سلام بن مستنیر کہتے ہیں کہ میں امام باقر علیہ السلام کی خدمت میں تھا کہ حمران بن اعین آئے اور امام علیہ السلام سے چند سوالات کیے جب وہ واپس جانے لگے تو عرض کی کہ اے فرزند رسولﷺ! خدا آپ کو طول عمر عنایت فرمائے اور ہمیں زیادہ سے زیادہ استفادہ کرنے کی توفیق دے۔میں اپنی حالت آپ کی خدمت میں بیان کرنا چاہتا ہوں۔

جب ہم آپ کی خدمت میں شرفیاب ہوتے ہیں تو ابھی محفل سے نکلتے نہیں کہ ہمارے دل نورانی ہوجاتے ہیں اور مادیات اور دنیا کو بھلا دیتے ہیں لیکن جیسے ہی سماج ، تجارت اور کام کاج میں مشغول ہوتے ہیں تو پھر دل میں دنیا کی محبت آجاتی ہے۔

امام علیہ السلام نے فرمایا: دل ایسا ہے کہ کبھی سخت اور کبھی نرم ہوجاتا ہے پھر فرمایا:اصحاب رسول ﷺ آپ سے عرض کرتے تھے: ہمیں خوف ہے کہ ہم منافق نہ ہوں۔رسول خداﷺ نے پوچھا کس لیے؟ وجہ کیا ہے؟کہتے تھے: جب آپ کی خدمت اقدس میں ہوتے ہیں تو آپ ہمیں بیدار کرتے ہوئے آخرت کی طرف مائل کرتے ہیں ہمیں خوف ہوتا ہے کہ کہیں دنیا کو بھلا کر اسے بے رغبت ہوجائیں۔اس طرح کہ گویا ہماری آنکھ آخرت،جنت اور جہنم کو دیکھ رہی ہے۔یہ حالت تب تک باقی رہتی ہے جب تک ہم آپ کی خدمت میں ہوتے ہیں اور جیسے ہی ہم وہاں سے نکلتے ہیں اور اپنے گھروں کو جاتے ہیں اپنے بچوں کو دیکھتے ہیں اپنے خاندان اور اپنے گھربار کو جب دیکھتے ہیں تو جو معنوی او روحانی حالت ہم نے آپ کی محفل سے حاصل کی ہوتی ہے وہ کھو دیتے ہیں تو کیا ہم ان خصوصیات کے ساتھ نفاق میں مبتلا نہیں ہوجاتے؟

آپ نے فرمایا: یہ افکار شیطانی وسوسے ہیں جو تمہیں دنیا کی طرف مائل کرتے ہیں۔خدا کی قسم! اگر اسی پہلی والی حالت پر قائم رہو تو ملائکہ آپ سے مصافحہ کریں گے اور پانی پر چل سکو گے!

و لولا اَنّكُمْ تَذْنِبُونَ فَسْتَغْفِرُونَ الله لخَلقَ اللهُ خَلْقاً حَتيَّ يَذْنِبُوا ثُمَّ يَسْتَغْفِرُ لَهُمْ اَنَّ المؤمِن تَوّابٌ

اگر اس طرح نہ ہوتا کہ تم گناہ کرتے اور پھر اس سے توبہ کرتے ہو تو خدا ایک ایسا گروہ خلق کرتا جو گناہ کرتا اور پھر توبہ کرتا تاکہ خدا انہیں بخش دیتا۔

حقیقت یہی ہے کہ مومن کی ہمیشہ اور مسلسل امتحان اور آزمائش  ہوتی ہے کہ وہ گناہ کرے اور توبہ کرے پھر گناہ کرے پھر فورا توبہ کرے۔کیا تم نے خدا کا فرمان نہیں سنا؟ کہ خدا فرماتا ہے:

اِن الله يُحِبُّ التوابين و يُحِبُ المُتطّهرين

بے شک خدا توبہ کرنے والوں اور پاک و پاکیزہ لوگوں سے محبت کرتا ہے۔

نيزاس آیت میں فرماتا ہے:

 اسْتَغْفِروا رَبّكُم ثُمَّ تُوبُوا اِلَيْهِ

اے قوم! خدا سے استغفار کرو اس کے بعد اس کی طرف ہمہ تن متوجہ ہوجاؤ۔

ماخذ: شعبہ پاسخ بہ شبھات حوزہ 

شاید آپ یہ بھی پڑھنا چاہیں

کیا قرآن کریم میں قیامت کے متعلق آیات میں اختلاف اور تناقض ہے؟

قرآن کریم کے اوصاف میں سے ایک یہ ہے کہ اسکی آیات میں اختلاف اور تناقض نہیں پایا جاتا ،قرآن مجید نے خود فرمایا ہے کہ اگر تمہارے لیے خدا کے علاوہ کوئی قرآن تدوین کرتا تو اس میں بہت زیادہ اختلاف ہوتا۔