سر ورق / شبہات کے جوابات / امام علی علیه السلام کیسے نفس پیغمبرﷺ ہوسکتے ہیں؟

امام علی علیه السلام کیسے نفس پیغمبرﷺ ہوسکتے ہیں؟

سوال: امام علیؑ کیسے نفس پیغمبرﷺ ہوسکتے ہیں؟

جواب:

فریقین کا اتفاق ہے کہ آیت مباہلہ اہلبیتؑ کی شان میں اتری اور اس میں امام علیؑ کو نفس پیغمبرﷺ قرار دیا گیا۔نجران کے عیسائیوں نے جب حقانیت اسلام میں خدشہ کیا اور نبی اکرمﷺ سے بحث اور مناظرہ کرنے پر اتر آئے اور جو دلیل بھی مانگتے پیغمبر ﷺ انہیں دلیل دیتے مگر پھر بھی وہ راضی نہ ہوئے اور آخرکار نبی اکرمﷺ کو مباہلے کی دعوت دی۔تب آیت مباہلہ نازل ہوئی جس میں واضح طور پر امام علیؑ کو وصی اور ولی بنایا گیا اور انہیں نفس نبیﷺ قرار دیا گیا ۔

اس میں بعض نے شبہ کیا ہے کہ امام علیؑ آیت شریفہ کے مطابق نہ ابناءنا میں شامل ہیں اور نہ انفسنا میں۔تاکہ انکی ولایت اور وصایت اثبات کی جاسکے بلکہ آیت سے زیادہ سے زیادہ مراد یہ ہے کہ علیؑ خدا کی تعریف کے مستحق ہیں۔

امام علیؑ کی ولایت کے اثبات کیلئے آیت شریفہ مباہلہ کافی ہے جس میں ارشاد ہورہا ہے:

«فَمَنْ حاجَّكَ فِيهِ مِنْ بَعْدِ ما جائَكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعالَوْا نَدْعُ أَبْنائَنا وَأَبْناءَكُمْ وَنِسائَنا وَنِساءَكُمْ وَأَنْفُسَنا وَأَنْفُسَكُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَلْ لَعْنَتَ اللهِ عَلَى الْكاذِبينَ»؛

سوره آل عمران، آيه 61

ترجمه: پیغمبر علم کے آجانے کے بعد جو لوگ تم سے کٹ حجتی کریں ان سے کہہ دیجئے کہ آؤ ہم لوگ اپنے اپنے فرزند, اپنی اپنی عورتوں اور اپنے اپنے نفسوں کو بلائیں اور پھر خدا کی بارگاہ میں دعا کریں اور جھوٹوں پر خدا کی لعنت قرار دیں۔

شیعہ امامیہ اور متعدد اہلسنت علماء و مفسرین کی نظر میں نسائنا سے مراد حضرت زہراؑ اور ابناءنا سے حسنؑ و حسینؑ او انفسنا سے امام علیؑ مراد ہیں جبکہ علماء وہابی قائل ہیں کہ آیت میں علیؑ نہ ابناءنا میں شامل یں اور نہ انفسنا میں کیوں کہ انفسنا سے مراد خود پیغمبر اسلام ﷺ ہیں۔

جبکہ اسکے برخلاف اول یہ کہ کئی علماء اہل سنت ہیں جو قائل ہیں انفسنا سے مراد امام علیؑ ہیں جیساکہ  حاکم نیشاپوری نے اپنی صحیح سند کے ساتھ بیان کیا ہے کہ جابربن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ سے منقول روایت میں انفسنا سے مراد امام علیؑ ہیں۔

اسکا مطلب یہ ہوا کہ جو یہ کہتے ہیں امام علیؑ نہ ابناءنا میں شامل ہیں اور نہ انفسنا  میں ۔یہ نص کے مقابلے میں اجتہاد کرنا ہے جو بالاتفاق باطل اور مردود ہے۔

دوسرا یہ کہ اہلسنت علماء نے کہا ہے کہ ادبی طور پر بھی یہ بات درست نہیں کیونکہ انسان خود کو کیسے دعوت دے سکتا ہے بلکہ ہمیشہ کسی دوسرے کو بلاتا ہے مگر یہ کہ ہم کسی مجاز کے قائل ہوجائیں اور اس کیلئے قرینہ اور دلیل چاہیے کہ اسکے برعکس ثابت ہو  جو  قرینہ اور دلیل یہاں نہیں ہے۔

تیسرا یہ کہ اگر ہم ابناءنا میں امام علیؑ کو شامل کرتے ہیں تو انفسنا اور انفسکم زائد ہوجائے گا کیونکہ خود پیغمبرﷺ “تعالوا ندع ” کے امر میں  شامل ہیں۔

پس انفسنا سے مراد امام علیؑ ہی ہیں۔

نفس پیغمبرﷺ ہونے کا مفہوم

ظاہر سی بات ہے کہ امام علیؑ کا نفس پیغمبرﷺ ہونے سے مراد عینیت اور مثلیت نہیں ہیں کیونکہ ایسا امر محال اور ناممکن ہے ایک شخص وہی دوسرا شخص ہو عینا۔کیونکہ ایسی تعبیریں قرآن میں دین اور ملت و قوم کے ساتھ شریک ہونے کیلئے بہت زیادہ استعمال ہوئی ہیں کیونکہ امام علیؑ عینا نفس پیغمبرﷺ تو ہو نہیں سکتے جو کہ امر محال ہے پس مراد دین ا ور ملت و قوم میں شریک اور نزدیک مراد لیا جاسکتا ہے اسی لیے انفسنا کی تعبیر امام علیؑ کیلئے آئی۔

اسکا جواب یہ ہے کہ ان آیات میں جو نفس کی تعبیریں آئی ہیں ان سے مختلف معانی مراد ہوسکتے ہیں اور ہر ایک معنی کے لیے جدا دلیل اور شواہد کی ضرورت ہے تاکہ اسکا صحیح معنی دریافت کیا جاسکے۔

دوسرا یہ اگر امام علیؑ دین اور ملت نبیﷺ میں نزدیک اور شریک ہیں تو نبیﷺ نے اپنے چچا عباس اور جناب ابوبکر کو مباہلے میں جانے کی دعوت کیوں نہ دی؟وہ بھی تو نزدیک افراد میں شمار ہوتے تھے۔پس اگر نبیﷺ امام علیؑ کو تمام اصحاب میں انتخاب کرتے ہیں  تو مراد یہی ہے کہ امام علیؑ نبیﷺ کے فضائل اور کمالات میں مساوی ہیں  اور اگر یہ مراد نہ ہوتو باقی سب کو چھوڑ کر صرف امام علیؑ کا انتخاب ترجیح بلا مرجح ہوگا اور ایسا کام نبیﷺ سے سرزد ہونا صحیح نہیں۔

امام علیؑ فضائل میں نبیﷺ کے مساوی ہیں

اسی ضمن ایک اعتراض یہ بھی کیا جاتا ہے کہ اما م علیؑ بعض فضائل میں نبی اکرمﷺ کے ساتھ شریک ہیں تمام فضائل میں مساوی نہیں ہیں پس بعض فضائل میں امام علیؑ کا نبی ﷺ کے ساتھ شریک ہونا انہیں دوسروں پر ترجیح نہیں دلا سکتا!

اسکا جواب یہ ہے کہ اول یہ کہ ہم نص کے تابع ہیں کہ خود آیہ شریفہ اور دوسری قطعی ادلہ سے واضح ہوتا ہے کہ امام علیؑ تما م فضائل اور کمالات میں نبی مکرم اسلامﷺ کے ساتھ شریک اور مساوی ہیں  جیسے صحیح بخاری میں ہے کہ پیغمبرﷺ نے فرمایا:یاعلی! تم مجھ سے ہو اور میں تم سے ہوں اور اسی طرح دوسرے مقام پر فرمایا کہ یاعلی تیری نسبت مجھ سے ایسی ہے جیسے ہارون کو موسیٰ سے تھی لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔

پس امام علیؑ سوائے نبوت کے نبیﷺ کے تمام فضائل کے حامل ہیں ۔

دوسرا اسی نکتہ کی علماء اہلسنت نے بھی تشریح کی ہے کہ امام علیؑ صرف نبوت کے علاوہ نبیﷺ کے تمام فضائل اور کمالات کے مالک ہیں۔پس امام علیؑ افضل امت ہیں۔پس جب ثابت ہوگیا کہ امام علیؑ افضل امت ہیں  اور نفس نبیﷺ ہیں اور تمام اصحاب پر بھی افضلیت رکھتے ہیں  تو امت کی رہبری کیلئے بھی نبیﷺ ے بعد فقط امام علیؑ ہی استحقاق رکھتے ہیں اور وہی رہبر و ولی ہیں۔

ماخذ: شعبہ پاسخ بہ شبہات حوزہ

شاید آپ یہ بھی پڑھنا چاہیں

کیا خدا قادر ہے کہ دنیا کو انڈے میں سمو دے کہ نہ دنیا چھوٹی ہو نہ انڈا بڑا ہو؟

کیا اس بات پر قدرت رکھتا ہے کہ خود کو عاجز اور محتاج بنا لے؟یعنی خدا خود سے اپنی ذات کو سلب کرلے۔ایسا فرض کرنا محال ہے یعنی خدا اپنے خدا ہونے کے باوجود خدا نہ ہو