سر ورق / مقالات / واقعہ مباہلہ سے استدلال

واقعہ مباہلہ سے استدلال

تاریخ میں متعدد بار اہل بیتؑ کی حقانیت کے اثبات کے لئے واقعۂ مباہلہ سے استناد و استدلال کیا گیا ہے اور اس واقعے سے استدلال امیرالمؤمنینؑ، امام حسنؑ، امام حسینؑ اور باقی ائمۂ طاہرینؑ و دیگر کے کلام میں ملتا ہے۔ یہاں چند نمونے قارئین کی خدمت میں پیش کئے جاتے ہیں:

سعد بن ابی وقاص کا استدلال

عامر بن سعد اپنے والد سعد بن ابی وقاص سے نقل کرتے ہیں کہ معاویہ نے سعد سے کہا: تم کیوں علیؑ پر سب و شتم نہیں کرتے ہو؟

سعد نے کہا:

“جب تک تین چیزیں میرے ذہن میں ہوں میں کبھی بھی ان پر دشنام طرازی نہیں کروں گا؛ اور اگر ان تین چیزوں میں سے صرف ایک کا تعلق مجھ سے ہوتا تو میں اس کو سرخ بالوں والے اونٹوں سے زیادہ دوست رکھتا”۔ بعد ازاں سعد ان تین باتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں: منجملہ یہ کہ جب یہ آیت

فَقُلْ تَعَالَوْاْ نَدْعُ أَبْنَاءنَا وَأَبْنَاءكُمْ وَنِسَاءنَا وَنِسَاءكُمْ وَأَنفُسَنَا وأَنفُسَكُمْ…

 نازل ہوئی، تو رسول خداؐ نے علی، فاطمہ اور حسن اور حسین کو بلایا اور فرمایا:

“اللهم هؤلاء اهل بيتي

یعنی بار خدایا! یہ میرے اہل بیت ہیں۔

امام موسی کاظمؑ کا استدلال

ہارون عباسی نے امام کاظمؑ سے کہا: آپ یہ کیونکر کر کہتے ہیں “ہم نبیؐ کی نسل سے ہیں حالانکہ نبیؐ کی کوئی نسل نہیں ہے، کیونکہ نسل بیٹے سے چلتی ہے نہ کہ بیٹی سے، اور آپ رسول خداؐ کی بیٹی کی اولاد اولاد ہیں؟

امام کاظمؑ نے فرمایا: مجھے اس سوال کے جواب سے معذور رکھنا۔

ہارون نے کہا: اے فرزند علیؑ، آپ کو اس بارے میں اپنی دلیل بیان کرنا پڑے گی، اور آپ اے موسیؑ! ان کے سربراہ اور ان کے زمانے کے امام ہیں ـ مجھے یہی بتایا گیا ہے ـ اور میں جو کچھ بھی پوچھتا ہوں آپ کو اس کے جواب سے معذور نہيں رکھوں گا حتی کہ ان سوالات کی دلیل قرآن سے پیش کریں؛ اور آپ فرزندان علیؑ دعوی کرتے ہیں کہ قرآن میں کوئی بھی ایسی بات نہیں ہے جس کی تاویل آپ کے پاس نہ ہو، اور اس آیت سے استدلال کرتے ہیں کہ

مَّا فَرَّطْنَا فِي الكِتَابِ مِن شَيْءٍ

(ترجمہ: ہم نے اس کتاب میں کوئی چیز لکھے بغیر نہیں چھوڑی)۔ اور یوں اپنے آپ کو رای اور قیاس کے حاجتمند نہیں سمجھتے ہیں۔

امام کاظمؑ نے فرمایا: مجھے جواب کی اجازت ہے؟

ہارون نے کہا: کہیں!

امامؑ نے فرمایا:

أَعُوذُ بِاللّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ ٭ بِسْمِ اللّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

وَوَهَبْنَا لَهُ إِسْحَقَ وَيَعْقُوبَ كُلاًّ هَدَيْنَا وَنُوحاً هَدَيْنَا مِن قَبْلُ وَمِن ذُرِّيَّتِهِ دَاوُودَ وَسُلَيْمَانَ وَأَيُّوبَ وَيُوسُفَ وَمُوسَى وَهَارُونَ وَكَذَلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ ٭ وَزَكَرِيَّا وَيَحْيَى وَعِيسَى وَإِلْيَاسَ كُلٌّ مِّنَ الصَّالِحِينَ”۔

ترجمہ: اور ہم نے عطا کیے انہیں اسحاق اور یعقوب، ہر ایک کو ہم نے راستہ دکھایا اور نوح کو اس کے پہلے ہم نے راستہ دکھایا اور ان کی اولاد میں سے داؤد اور سلیمان اور ایوب اور یوسف اور موسٰی اور ہارون کو اور اسی طرح ہم صلہ دیتے ہیں نیک اعمال رکھنے والوں کو  اور زکریا اور یحیی اور عیسی اور الیاس کو، سب صالحین اور نیکو کاروں میں سے تھے۔

عیسیؑ کا باپ کون ہیں؟

ہارون نے کہا: ان کا کوئی باپ نہیں؟

امامؑ نے فرمایا:

پس خداوند متعال نے مریمؑ کے ذریعے انہیں انبیاءؑ کی نسل سے محلق فرمایا ہے اور ہمیں بھی ہماری والدہ فاطمہؑ کے ذریعے رسول اللہؐ کی نسل سے ملحق فرمایا ہے؛ کیا پھر بھی بتاؤں؟

ہارون نے کہا: کہیں!

چنانچہ امامؑ نے آیت مباہلہ کی تلاوت فرمائی اور فرمایا:

کسی نے بھی یہ نہیں کیا کہ رسول اللہؐ نجران کے نصارٰی کے ساتھ مباہلے کے لئے علی بن ابی طالب، فاطمہ اور حسن و حسین، کے سوا کسی اور کو کساء کے کے نیچے جگہ دی ہے! پس آیت میں ہمارے بیٹوں (“ابنائنا”) سے مراد حسن و حسین، ہماری خواتین (“نسائنا”) سے مراد فاطمہ اور ہماری جانوں (“انفسنا”) سے مراد علی بن ابی طالب ہیں۔[پس خداوند متعال نے آیت مباہلہ میں امام حسنؑ اور امام حسینؑ کو رسول اللہؐ کے بیٹے قرار دیا ہے اور یہ صریح ترین ثبوت ہے اس بات کہ امام حسنؑ اور امام حسینؑ اہل بیتؑ رسول اللہؐ کی نسل اور ذریت ہیں]۔

امام رضاؑ کا استدلال

مأمون عباسی نے امام رضاؑ سے کہا: امیرالمؤمنینؑ کی عظیم ترین فضیلت ـ جس کی دلیل قرآن میں موجود ہے ـ کیا ہے؟

امام رضاؑ نے کہا: امیرالمؤمنینؑ کی فضیلت مباہلہ میں؛ اور پھر آیت مباہلہ کی تلاوت کرتے ہوئے فرمایا:

رسول خداؐ، نے امام حسنؑ اور امام حسینؑ ـ جو آپؐ کے بیٹے ہیں ـ کو بلوایا اور حضرت فاطمہؑ کو بلوایا جو آیت میں “نسائنا” کا مصداق ہیں اور امیرالمؤمنینؑ کو بلوایا جو اللہ کے حکم کے مطابق “انفسنا” کا مصداق اور رسول خداؐ کا نفس اور آپؐ کی جان ہیں؛ اور ثابت ہوا ہے کہ کوئی بھی مخلوق رسول اللہؐ کی ذات با برکات سے زیادہ جلیل القدر اور اور افضل نہیں ہے؛ پس کسی کو بھی رسول خداؐ کے نفس و جان سے بہتر نہیں ہونا چاہئے۔

بات یہاں تک پہنچی تو مامون نے کہا: خداوند متعال نے “ابناء” کو صیغہ جمع کے ساتھ بیان کیا ہے جبکہ رسول خداؐ صرف اپنے دو بیٹوں کو ساتھ لائے ہیں، “نساء” بھی جمع ہے جبکہ آنحضرتؐ صرف اپنی ایک بیٹی کو لائے ہیں، پس یہ کیوں نہ کہیں کہ “انفس” کو بلوانے سے مراد رسول خداؐ کی اپنی ذات ہے، اور اس صورت میں جو فضیلت آپؐ نے امیرالمؤمنینؑ کے لئے بیان کی ہے وہ خود بخود ختم ہوجاتی ہے!

امام رضاؑ نے جواب دیا:

نہیں، یہ درست نہیں ہے کیونکہ دعوت دینے والا اور بلوانے والا اپنی ذات کو نہیں بلکہ دوسروں کو بلواتا ہے، آمر (اور حکم دینے والے) کی طرح جو اپنے آپ کو نہیں بلکہ دوسروں کو امر کرتا اور حکم دیتا ہے، اور چونکہ رسول خداؐ نے مباہلہ کے وقت علی بن ابیطالبؑ کے سوا کسی اور مرد کو نہیں بلوایا جس سے ثابت ہوتا ہے کہ علیؑ وہی نفس ہیں جو کتاب اللہ میں اللہ کا مقصود و مطلوب ہے اور اس کے حکم کو خدا نے قرآن میں قرار دیا ہے۔

پس مامون نے کہا: جواب آنے پر سوال کی جڑ اکھڑ جاتی ہے۔

ماخذ: ویکی شیعہ

شاید آپ یہ بھی پڑھنا چاہیں

بداخلاقی اور قضا نماز اور اس میں سستی کا علاج کیا ہے؟

ہرقسم کے گناہ کو ترک کریں کیونکہ دنیا و آخرت میں ہماری تمام مشکلات کا سبب گناہ ہیں۔اسکے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں۔