سر ورق / شبہات کے جوابات / امام حسین علیه السلام نے حج کے احرام توڑے یا عمرہ کے؟

امام حسین علیه السلام نے حج کے احرام توڑے یا عمرہ کے؟

مشہور یہ ہے کہ امام حسین علیہ السلام نے اپنا آخری حج مکمل نہیں فرمایا اور حج کے احرام توڑ ڈالے یہ ایک غلط  بات ہے۔اسکی وجہ یہ ہے کہ حج کے اعمال نویں ذی الحجہ کی ظہر سے شروع ہوتے ہیں ۔پس امام علیہ السلام نے حج شروع ہی نہیں کیا تھا کہ اسے مکمل کرتے۔

یہ مشہور شبہ ہے کہ امام حسین علیہ السلام نے 60 ہجری میں روز عرفہ اور عیدقربان سے پہلے حج نامکمل چھوڑ دیا۔

یہ تعبیر غلط ہے کیونکہ امام حسین علیہ السلام آٹھ ذی الحجہ کو یعنی یوم الترویہ کو مکہ چھوڑا جبکہ حج کے اعمال نویں ذی الحجہ سے شروع ہوتے ہیں۔امام علیہ السلام نے اصولی طور پرحج شروع ہی نہیں کیا تھا کہ اسے نامکمل چھوڑ دیتے۔اور دعائے عرفہ بھی 60 ہجری سے پہلے امام حسین علیہ السلام سے روایت ہوئی ہے۔

امام علیہ السلام نے مکہ میں پہنچ کر عمرہ مفردہ انجام دیا اور جب  مکہ میں قیام فرمایا تو ہر تھوڑے فاصلے سے امام نے عمرہ انجام دیا۔لیکن عمرہ مفردہ کے اعمال کو انجام دینے کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ حج کے اعمال شروع کردئیے ہیں۔بعض روایات میں فقط عمرہ مفردہ کے متعلق کہا گیا ہے۔جسے امام علیہ السلام نے انجام دیا۔

اگرچہ معروف یہ ہے کہ بعض  کتب جیسے الارشاد شیخ مفید رح میں ہے کہ امام علیہ السلام نے اپنے حج کو عمرہ میں تبدیل کرلیا تھا طواف اور سعی کی اور احرام سے خارج ہوگئے کیونکہ حج مکمل نہیں کرسکتے تھےلیکن یہ بات بعید ہے کہ حضرتؑ نے حج کا احرام باندھا ہو کیونکہ جو احرام حج باندھتا ہے وہ آٹھ یا نویں ذی الحجہ کو مُحرم ہوتا ہے اور جلدی مُحرم ہونے کی کوئی وجہ نہیں۔

اس مطلب کی تائید کیلئے روایت ہے:

عَنْ أَبِی عَبْدِ اللَّهِ ع أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ خَرَجَ فِی أَشْهُرِ الْحَجِّ مُعْتَمِراً ثُمَّ رَجَعَ إِلَی بِلَادِهِ قَالَ لَا بَأْسَ وَ إِنْ حَجَّ فِی عَامِهِ ذَلِکَ وَ أَفْرَدَ الْحَجَّ فَلَیْسَ عَلَیْهِ دَمٌ فَإِنَّ الْحُسَیْنَ بْنَ عَلِیٍّ ع خَرَجَ قَبْلَ التَّرْوِیَهِ بِیَوْمٍ إِلَی الْعِرَاقِ وَ قَدْ کَانَ دَخَلَ مُعْتَمِراً

ایسے شخص کے بارے میں سوال کیا گیا کہ جو ایام حج میں عمرہ انجام دے کر اپنے شہر کو پلٹ گیا،آپؑ نے فرمایا:کوئی حرج نہیں۔

امام صادق علیہ السلام  نے فرمایا جیسا کہ امام حسین علیہ السلام آٹھ ذی الحجہ کو مکہ سے نکلے  جبکہ آپؑ نے عمرہ کا احرام باندھ کر عمرہ انجام دینے کیلئے مکہ میں آئے تھے اور عمرہ انجام دیا ۔اس روایت میں یہ معلوم نہیں  کہ حضرتؑ نے حج کو عمرہ میں تبدیل کیا ہو۔

حوالہ: شفقنا

شاید آپ یہ بھی پڑھنا چاہیں

کیا خدا قادر ہے کہ دنیا کو انڈے میں سمو دے کہ نہ دنیا چھوٹی ہو نہ انڈا بڑا ہو؟

کیا اس بات پر قدرت رکھتا ہے کہ خود کو عاجز اور محتاج بنا لے؟یعنی خدا خود سے اپنی ذات کو سلب کرلے۔ایسا فرض کرنا محال ہے یعنی خدا اپنے خدا ہونے کے باوجود خدا نہ ہو