سر ورق / مقالات / حضرت اباالفضل العباس علیہ السلام کا ادب بچپن سے جوانی تک

حضرت اباالفضل العباس علیہ السلام کا ادب بچپن سے جوانی تک

انسانی اور اسلامی بلندترین اقدار میں ایک ادب کی رعایت کرنا ہے۔بزرگان اور مقدسات کے سامنے ادب اخلاق کی خوبصورتی ہے اور انسان کی روحانی شخصیت کا اہم رکن ہے۔

ایک دن امام علی علیہ السلام  نے بچپنے کے عالم میں حضرت عباسؑ سے فرمایا کہ بولو: ایک!حضرت عباس علیہ السلام بولے:ایک۔پھر امام علیہ السلام نے فرمایا کہ بولو: دو!آپ نے جواب میں عرض کیا: میں نے  جس زبا ن سے ایک کا اقرار کر لیا ہے مجھےشرم آتی ہے کہ کہوں:دو!

یہ جواب سن کر امام علی علیہ السلام نے حضرت عباس علمدارؑ کی دونوں آنکھوں کو چوم لیا۔

بعض روایات میں ہے حضرت عباسؑ کی عمر مبارک اس وقت 5 سال تھی۔

امام صادق علیہ السلام نے حضرت عباس علیہ السلام کی شان میں فرماتے ہیں:

کان عمّنا العباس نافذ البصیره

ہمارے چچا عباس نافذ بصیرت یعنی تیزبین آنکھ اور گہری نظر رکھنے والے تھے۔

امام علی علیہ السلام نے اپنی اولاد کی اس طرح کی تربیت کی تھی اور اسی وجہ سے اولاد علیؑ معاشرے کے مودب ترین افراد میں سے تھی۔حضرت عباسؑ بھی اسی مکتب علیؑ سے تربیت یافتہ تھے اور آپ کی زندگی میں یہی ادب قدم قدم پر دیکھا جاسکتا ہے۔

جیسے روایت میں ہے حضرت عباسؑ امام حسینؑ کی اجازت کے بغیر انکے ساتھ نہیں بیٹھتے تھے اور اگر اجازت مل جانے کے بعد بیٹھتے تو ایک خاضع غلام کی طرح دوزانو ہوکر امام کی خدمت میں بیٹھتے۔

دوسری روایت میں ہے کہ حضرت عباسؑ نے پوری زندگی امام حسین علیہ السلام کو بھائی کہہ کر نہیں بلایا بلکہ کہتے:سیدی ،مولای،یابن رسول اللہ! صرف ایک موقع پر آپ نے بھائی کہہ کر امام کو مخاطب کیا جب شہادت کےو قت آواز دی :اے بھائی! بھائی کی مدد کو آئیے!

یہ تعبیر بھی ایک قسم کا  بہترین ادب تھا۔
ایک دوسری جگہ نقل ہوا ہے کہ ایک دن امام حسین علیہ السلام مسجد میں تشریف فرماتھے اور آپ نے پانی مانگا تو حضرت عباسؑ اس وقت چھوٹے بچے تھے آپ یہ سن کر فورا جلدی سے مسجد سے نکلے اور تھوڑی دیر بعد ایک ظرف پانی سے لبالب بھرا ہوا اٹھائے انتہائی احترام سے مولا حسین علیہ السلام کی خدمت میں پیش کیا۔

ایک حضرت عباسؑ کو گھر میں انگورکھانے کیلئے ملے تو جلدی سے گھر سے باہر آئے تو کسی نے پوچھا کہاں جا رہے ہیں؟ تو  آپ نے جواب دیا کہ یہ اپنا حصہ میں اپنے مولا کیلئے لے کر جارہا ہوں۔

حوالہ:شفقنا

شاید آپ یہ بھی پڑھنا چاہیں

بداخلاقی اور قضا نماز اور اس میں سستی کا علاج کیا ہے؟

ہرقسم کے گناہ کو ترک کریں کیونکہ دنیا و آخرت میں ہماری تمام مشکلات کا سبب گناہ ہیں۔اسکے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں۔