سر ورق / خبریں / گستاخ رسول رشدی پر جان لیوا حملہ

گستاخ رسول رشدی پر جان لیوا حملہ

مغربی نیویارک میں نامعلوم شخص نے گستاخانہ کتاب کے مصنف سلمان رشدی پر حملہ کردیا۔ 

غیرملکی خبررساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ‘ کے مطابق سلمان رشدی پر اس وقت حملہ کیا گیا جب وہ مغربی نیویارک میں واقع ایک ہال میں لیکچر دینے والا تھا۔

ایک شخص نے اسٹیج پر دھاوا بولا اور سلمان رشدی پر گھونسوں کی بارش کردی۔ بعدازاں انتظامی حکام نے سلمان رشید کو حملہ آور سے بچایا۔

نیویارک پولیس نے بتایا کہ سلمان رشدی کی ‘گردن پر چھری کا زخم‘ ہے لیکن ان کی حالت کے بارے میں تسلی بخش جواب دینا قبل از وقت ہے۔

خیال رہے کہ سلمان رشدی کی کتاب گستاخانہ کتاب پر 1988 سے ایران میں پابندی عائد ہے۔ رہنما آیت اللہ خمینی نے سلمان رشدی کے قتل کا فتویٰ جاری کیا تھا۔سلمان رشدی کو مارنے والے کے لیے 30  لاکھ ڈالر سے زیادہ کا انعام بھی ہے.

واضح رہے کہ رشدی ملعون کا علاج جاری ہے اور کہا جارہا ہے کہ اسے 15 سے 20 زخم آئے ہیں اور مصنوعی سانس کے ذریعہ زندہ ہے۔

نیویارک پولیس کے مطابق ملعون سلمان رشدی پر ہادی ماتر نے چاقو سے حملہ کیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ 24 برس کے ہادی ماتر کا تعلق امریکی ریاست نیوجرسی سے ہے، ان کی جانب سے حملے کی وجہ تاحال واضح نہیں۔

حوالہ: میڈیا

شاید آپ یہ بھی پڑھنا چاہیں

نائیجیریا؛ عزاداروں پر حکومتی اہلکاروں کا حملہ،متعدد شہید اور زخمی

نائیجیریا کے شہر زاریا میں سیکورٹی اہلکاروں نے عاشورا کے جلوسوں میں شامل عزاداروں پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں شیخ زکزاکی کے بھتیجے بھی زخمی ہوچکے ہیں۔