سر ورق / مقالات / بداخلاقی اور قضا نماز اور اس میں سستی کا علاج کیا ہے؟

بداخلاقی اور قضا نماز اور اس میں سستی کا علاج کیا ہے؟

سوال: انسان کیوں بداخلاق ہوجاتا ہے پھر نماز میں سستی کرتا اورنماز قضا ہوجاتی ہےجیسے خدا نے اسے اپنے حال پر چھوڑ دیا ہو وہ کیسے اپنا علاج کرے؟

جواب:

انسان کی بداخلاقی اور نماز میں سستی کا علاج یہ ہے کہ وہ اپنے عمل پر نظرثانی کرے اور اس سبب کو تلاش کرے جس کی وجہ سے  یہ مشکل پیش آئی ہے جیسے کوئی ایک گناہ،کوئی بے ادبی،کسی کا دل توڑنا یا کسی کی غیبت وغیرہ اس کا سبب ہوسکتا ہےکوشش کریں کہ اسکی وجہ تلاش کریں اور پھر اسکی تلافی کریں۔

اگلے قدم میں کوشش کریں کہ ہرقسم کے گناہ کو ترک کریں  کیونکہ دنیا و آخرت میں ہماری تمام مشکلات کا سبب گناہ ہیں۔اسکے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں۔

اسی طرح نماز کو شرعی احکام کے مطابق انجام دیں جیسےقرائت،احکام اور اول وقت میں ادا کریں۔

روزانہ امام زمانہ عج سےتوسل کریں جیسے زیارت آل یسین پڑھیں۔

زیادہ سے زیادہ صدقہ دیں ۔صدقہ کی مقدار خواہ کم ہی ہو مگر تعداد میں زیادہ صدقہ دیا جائے۔

ان چیزوں پر عمل کریں انشاءاللہ نتیجہ ملے گا۔

سب سے اہم بات نمازصبح کی قضا کے حوالے سے ہے ۔صبح کی نماز کیلئے نیند سے بیدار نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ آپ کے اعمال کا دارومدار آپ کے گزشتہ اعمال پرہے۔

اگر آپ کے اعمال حساب و کتاب کے مطابق ہوں اور ان اعمال میں آپ توجہ مرکوز رکھیں  تو نماز صبح کیلئے نیند سے بیدار ہوجائیں گے۔جیسے رات میں کم کھانا،جلدی سونا،غیبت کی محفل نہ بیٹھنا وغیرہ تو انشاءاللہ آپ کی صبح کی نماز قضا نہ ہوگی۔

حوالہ:کتاب”رہ نمای طریق”ص31،32

شاید آپ یہ بھی پڑھنا چاہیں

امام حسین علیہ السلام کی مجلس عزا کی بنیاد کس نے رکھی؟

یہاں سے عزاداری کی سنت کا آغاز ہوا۔بعد میں مدینہ میں جاری رہی اور وہاں سے ایک عظیم سنت کے طور پر پوری دنیا میں پھیل گئی۔