سر ورق / معرفت امام زمانؑ / صدیوں بعد امام عصر عج کیسے خون امام حسین ؑ کا انتقام لیں گے؟

صدیوں بعد امام عصر عج کیسے خون امام حسین ؑ کا انتقام لیں گے؟

صدیوں بعد امام عصر عج کیسے خون امام حسین ؑ کا انتقام لیں گے؟

جواب:

امام عصر عج کے بارے میں ایک جملہ ملتا ہے کہ
این الطالب بدم المقتول بکربلا
کہ کربلا میں شہید ہونے والے کے خون کا بدلہ لینے والے کہاں ہو؟!

امام عصر عج امام حسینؑ کے قتل کا بدلہ لینے کیلئے قاتلین اور دشمنان امام حسینؑ کو سزائیں دیں گے  اور اپنے قیام کے دوران ان قاتلین کی اولادوں سے بازپرس کریں گے کہ انکے آباؤاجداد نے امام حسین ؑ پر کیوں ظلم کیا؟

اسکی وضاحت کچھ یوں ہے کہ اگرچہ قاتلین امام حسینؑ  کی اولادیں اس قتل میں بلاواسطہ شریک نہ تھیں لیکن تاریخ میں اپنے آباؤاجداد کے ان مظالم پر فخرکرتے تھے اور فخر کرتے ہیں  اور روز عاشور خوش ہوتے ہیں۔زیارت عاشورا میں اس کے بارے میں آیا ہے:

و هذا یوم فرحت به آل زیاد و آل مروان، بقتلهم الحسین صلوات الله علیه

روز عاشور ایسا دن ہے جس میں آل زیاد اور آل مروان امام حسینؑ کی شہادت کے مناسبت سے خوشحال ہیں۔

اسکے ساتھ ساتھ یہ بھی جان لینا چاہیے کہ جو کسی گروہ کے عمل پر راضی ہو گویا وہ انکے اعمال میں شریک ہے خواہ وہ اچھا عمل ہو یا برا؛ حتی کہ اسے اس عمل سے رضایت کی وجہ سے اس گروہ میں شمار کیا جاتا ہے۔

امیرالمومنین علیہ السلام فرماتے ہیں کہ جو کسی گروہ کے عمل سے راضی ہو گویا ایسے ہی ہے جیسے وہ انکے درمیان تھا اگر اس گروہ کا کام باطل ہوا تو اس شخص کیلئے دو عذاب ہیں ایک اس عمل کو بجالانے کا عذاب اور دوسرا اس کے انجام دینے پر راضی ہونے کا عذاب۔

اس دلیل کی وجہ سے قاتلین امام حیسنؑ کی اولادیں بھی  اپنے آباؤاجداد کے ساتھ عذاب میں شریک ہیں کیونکہ انہوں نے اس عمل سے رضایت کا اظہار کیا۔

یہ امام حسینؑ پر کیے جانے والے ظلم پر فخر کرتے ہیں لہذا عذاب کے مستحق ہیں پس امام عصرعج ان سے اپنے جد امام حسینؑ کا انتقام سے لیں گے۔

کسی نے امام رضاؑ سے سوال کیا کہ اگر یہ حدیث ٹھیک ہو تو خدا کے اس کلام کا کیا معنی ہوگا؟

ولاتزر وازرۃ وزر اخری
کسی کا بوجھ دوسرے پر نہیں ڈالا جائے گا۔

امام رضاعلیہ السلام نے فرمایا کہ خدا کا کلام حق ہے لیکن جان لو کہ انکی اولاد اپنے آباء کے فعل سے راضی اور اس پر فخر کرتے ہیں ۔۔۔جان لو کہ اگر مشرق میں کوئی قتل ہو اور مغرب میں کوئی اس قتل پر راضی ہو تو خدا اسے بھی اس فعل میں شریک قرار دے گا لہذا قائم عج بھی انہیں انکے آباؤاجداد کے عمل کی وجہ سے سزا دیں گے۔

اسی وجہ سے امام عصرعج کے ظہور کے وقت ایک نعرہ امام حسینؑ کے قتل کا بدلہ لینا ہے۔

امام رضا علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ملائکہ کا ایک لشکر امام حسینؑ کی مدد کیلئے روز عاشور کربلا آیا جن کی تعداد 4000 تھی جب وہ کربلا پہنچے تو امام شہید ہوچکے تھے تو وہی فرشتے کربلا میں باقی رہ گئے اور ہمیشہ غم و اندوہ کی حالت میں ہیں یہاں تک کہ ہمارے قائم کا ظہور ہوگا اور وہ قائم عج کے انصار و مددگار میں سے ہونگے اور انکا نعرہ امام حسینؑ کے خؤن کا بدلہ لینا ہے۔

بنابریں کربلا کے ظالموں اور انکے فعل پر راضی ہونے والوں کو سزا ملنے میں تاخیر کی ایک وجہ امام عصرعج کا ظہور ہے کہ شیعہ آپکے ظہور کے شدت سے منتظر ہیں اور ظہور میں تعجیل کی دعا کرتے ہیں تاکہ امام مظلومؑ کے خون کا بدلہ لیا جاسکے۔

حوالہ:شفقنا

شاید آپ یہ بھی پڑھنا چاہیں

امام عصر عج کو اذیت اور تکلیف دینے والے کون ہیں؟

یہ توقیع مبارکہ غالیوں کے رد میں ہے جو آئمہ معصومین علیہم السلام کو خداوند متعال کے ساتھ اسکے علم و قدرت میں شریک ٹھہراتے ہیں۔