سر ورق / مقالات / معصومین / حضرت امام زین العابدینؑ / جب ایک یہودی نے یزید کے سامنے کلمہ حق کہا!

جب ایک یہودی نے یزید کے سامنے کلمہ حق کہا!

جب امام سجاد علیہ السلام نے دربار شام میں  اپنا بلیغ خطبہ مکمل کیا جس سےمسجد میں موجود لوگ انتہائی متاثر ہوئےاور ان کو بیدار کردیا اور انہیں جرات ملی تو “مسجد اور مجلس یزید میں موجود ایک یہودی عالم” نے یزید سے کہا: اے امیرالمؤمنین (!؟)! یہ نوجوان کون ہے؟

یزید نے کہا: یہ علی بن الحسین ہے۔

یہودی نے کہا: حسین کون ہے؟

یزید نے کہا: وہ علی ابن ابی طالب کا بیٹا ہے۔

یہودی نے پوچھا: اس کی والدہ کون ہیں؟

یزید نے کہا: محمد (ص) کی بیٹی؛

یہودی نے کہا: سبحان اللہ! یہ (امام حسین (ع)) تمہارے پیغمبر کی بیٹی کے فرزند ہیں جنہیں تم نے اتنی عجلت سے (رسول اللہ (ص) کے وصال کے صرف 48 برس بعد) قتل کردیا ہے؟! خدا کی قسم! اگر موسی بن عمران ہمارے درمیان کوئی فرزند چھوڑ کر جاتے تو ہم  اس کا پرستش کی حد تک احترام کرتے اور تمہارے پیغمبر (ص) کل دنیا سے گئے اور تم نے آج ان کے بیٹے کے خلاف بغاوت کردی اور انہیں تہہ تیغ کردیا؟! وائے  ہو تم امت پر!!

یزید غضبناک ہوا اور حکم دیا کہ یہودی عالم کو زد و کوب کیا جائے اور یہودی عالم اٹھا اور کہا: چاہو تو مجھے مارو اور چاہو تو مجھے قتل کرو! مجھے کوئی پروا نہیں ہے؛ یا چاہو تو مجھے چھوڑ دو کیونکہ میں نے تورات میں دیکھا ہے کہ جو کوئی پیغمبر کے فرزند کو قتل کرے گا وہ ہمیشہ کے لئے ملعون رہے گا اور اس کا ٹھکانہ جہنم کی آگ ہے۔

حوالہ: بحار الانوار 45/137؛ الاحتجاج 2/132

شاید آپ یہ بھی پڑھنا چاہیں

غزوہ غابہ کب اور کیسے ہوا؟

دشمن نے رسول خداﷺ کے دودھ دینے والے اونٹوں میں سے 20 اونٹ چرا لیے اور ابوذرغفاری رض کے بیٹے وہاں پر محافظ تھے انہیں شہید کردیا اور اسی زوجہ کو قیدی بنا لیا۔