سر ورق / شبہات کے جوابات / کیا امام حسینؑ کی شہادت(نعوذباللہ)خودکشی کے مترادف تھی؟

کیا امام حسینؑ کی شہادت(نعوذباللہ)خودکشی کے مترادف تھی؟

اگر امام حسینؑ کربلا میں اپنی شہادت کا علم رکھتے تھے تو کیا یہ(نعوذ باللہ) خودکشی نہیں؟

جواب:

امام حسین علیہ السلام پہلے سے ہی جنگ کا نتیجہ اور اپنی شہادت کا علم رکھتے تھے اور جانتے ہوئے جنگ کی ؛تو یہاں دو سوال ہوسکتے ہیں:

1۔کہ یہ خدا کے مقدرات اور جبر کا نتیجہ تھا اور امام کے پاس کوئی اختیار نہ تھا

2۔اگر امام نے جانتے ہوئے  جنگ کی تو آپ نے گویا(نعوذ باللہ) خودکشی کی جو دین  سےمنافات رکھتی ہے۔

پہلا سوال غلط ہے کیونکہ اس میں مغالطہ ہے یعنی خدا کے علم اور اسکے ارادے میں فرق نہیں کیاگیا۔ہمارے دینی معارف میں اس پر اتفاق ہے اور کوئی اختلاف نہیں کہ خدا کا پیشگی علم تمام امور سے متعلق ہے اس میں بھی کوئی تردید نہیں کہ خدا نے ہرچیز کے لیے اسباب رکھے ہیں کہ اس چیز کا وجود ان اسباب سے تعلق رکھتا ہے۔یعنی ایسا نہیں ہے کہ جو چیز بھی اس جہان میں موجود ہے وہ اپنے ماقبل اور مابعد سے کوئی تعلق نہ رکھتی ہو اور بے حساب اور اتفاقیہ طور پر وجود میں آئی ہو۔جیساکہ برف و بارش وغیرہ کیلئے اسباب ہیں  اور بغیر علت کوئی چیز وجود میں نہیں آتی۔انسان بھی اتفاقی کام نہیں کرتا پہلےتصور کرتا ہے پھر  سوچ وبچار کرتا ہے  پس اگر اسے حقیقی فائدہ ہو یا اسکی عقل اسے قبول کرے پھر اسے انجام دینے کی کوشش کرتا ہے۔پس اس جہان میں علت و سبب ہے اور یہ ایسا نظام ہے جس سے اختلاف  یا اس کے بغیر نہیں رہا جاسکتا اور یہی خدا کا مقرر کردہ فیصلہ ہے۔

انسان اپنے کاموں کے حوالے سے پتھر کی مانند نہیں کہ اسے اوپر لڑھکا دیا جائے تو خواہ نخواہ اسے زمین پر گرنا ہے ۔

اگر انسان خود کو کسی دوراہے پر دیکھتا ہے تو مجبور نہیں ہے کہ کسی ایک کو اختیار کرے کسی ایک راہ کا انتخاب اسکی فکرونظر سے مربوط ہے یعنی اسکی طرز فکر اسے ایک خاص راہ انتخاب کراتی ہے۔

پس خدا کی تقدیر یہ ہے کہ انسان اپنے کام اپنے ارادہ و اختیار سے انجام دیتا ہے۔اسے مجبور نہیں کیا جاتا۔

لیکن علم خدا انسانوں کے مستقبل اور انکی تقدیر  سے متعلق یا بزرگ ہستیوں کا ان میں سے بعض امور کے متعلق علم رکھنا اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ یہ علم انسانوں کی رفتار و کردار میں کسی قسم کا اثر نہیں رکھتا۔

اسکی مثال علم طب ہے جب ڈاکٹر جانتا ہے کہ فلاں مریض  آئندہ دنوں میں فلاں جسمی مشکل کا شکار ہوگایا یہ تندرست ہوجائے گا یا اسکی بیماری کہاں تک جائے گی۔ا ن مسائل کا علم بیماری کے لگنے یا نہ لگنے میں کوئی تاثیر نہیں رکھتا۔

اب آئمہ معصومین علیہم السلام اپنی شہادت کا علم رکھنے کے باوجود اس سے دوری اختیار نہیں کرتے تھے اس کے لیے مختلف جوابات دیئے گئے ہیں:

جیسے اگر چہ آئمہؑ علم غیب رکھتے تھے لیکن انکا وظیفہ عام لوگوں کی طرح عادی علم کی بنا پر تھا ۔علم غیب ان پر فرض  نہیں کرتا۔

امام حسین علیہ السلام نے بھی عادی علم کی بنا پر کوفیوں کے خطوط کا جواب دینے اور کوفہ کے حالات سے آگاہی کے باوجود مدینہ چھوڑا  اگرچہ علم امامت سے جانتے تھے کہ یہ سفر کربلا پر ختم ہوگا۔

آپ اپنے عادی علم پر عمل کرنے پر مامور تھے۔

ہاں البتہ اگر امام حسن علیہ السلام  کی طرح عادی طریقے سے آپ کو کوئی مطلع کرتا کہ آپ پر حملہ ہونے والا ہے تو آپ نے احتیاط برتی اور زرہ پہن کر نماز پڑھنے گئے۔

آئمہؑ کیوں اپنے عادی علم پر مامور ہیں؟ اس کی دو دلیلیں ہیں:

1۔علم غیب پر عمل کرنا، انبیاء کی بعثت اور آئمہ کے منصوب ہونے سے منافات رکھتا ہے کیونکہ اس صورت میں نمونہ عمل نہیں بن سکیں گے اور عام لوگوں کے پاس دلیل آجائے گی کہ انکے پاس تو علم غیب ہے اور وہ نافرمانی کیلئے مختلف بہانے تلاش کریں گے۔

2۔علم غیب پر عمل کرنے سے نظام میں اختلال آتا ہے کیونکہ خدا کا ارادہ طبیعی او ر عادی اسباب اور مسببات اور عادی علم کی بنیاد پر ہے اسی لیے نبی اکرمﷺ اور آئمہؑ اپنے قریبیوں کی بیماری کیلئے علم غیب کو استعمال نہیں کرتے تھے۔

اسکے علاوہ کیا ہر طرح کا جان کو خطرے میں ڈالنا حرام ہے؟؟ اگر یہی دلیل ہو تو جنگوں میں شرکت کرنا بھی حرام ہے اور دشمن اسلام کے مرکز پر حملہ کردے تو کسی قسم کی مزاحمت نہ کی جائے؟!

خدا نے حکم دیا ہے کہ خود کو اپنے ہاتھو ں سے ہلاکت میں نہ ڈالو! اس ہلاکت کا معنی کیا ہے؟ یعنی ضائع ہونا اور تباہ ہونا لیکن ہر قسم کا نابود ہونے کا معنی یہی ہے؟

خداوندمتعال نے قرآن میں جگہ جگہ اپنی جان نچھاور کرنے کا حکم دیا ہے، قتل کرنا اور قتل ہونا خدا کی راہ  میں پسندیدہ عمل قرار دیتا ہے۔اب اگر کوئی اختیار سے جہاد کرے اور شہید ہوجائے تو کیا یہ مذموم امر ہے؟ہرگز نہیں پس اس ہلاکت کا مطلب کچھ اور ہے جو قرآن میں بیان ہوئی ہے۔

یعنی تھوڑا غور وفکر  کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جان کو ہلاکت میں ڈالنا اس وقت صادق آتا ہے جب جان سے بڑھ کر کوئی ہدف نہ ہو، اگر جان سے بڑھ کر مقدس ہدف ہوتو جان قربان کی جاسکتی ہے جیسے امام حسین علیہ السلام اور آپ کے ساتھیوں نے کیا۔

حوالہ:پاسخ بہ شبہات حوزہ

مزید مطالعہ کیلئے:

1. شهيد مطهري ، مجموعة‌آثار

2. آیت الله لطف الله صافی، معارف دین

شاید آپ یہ بھی پڑھنا چاہیں

امام حسین علیه السلام نے حج کے احرام توڑے یا عمرہ کے؟

امام حسین علیہ السلام نے 60 ہجری میں روز عرفہ اور عیدقربان سے پہلے حج نامکمل چھوڑ دیا۔دعائے عرفہ بھی 60 ہجری سے پہلے امام حسین علیہ السلام سے روایت ہوئی ہے۔