سر ورق / شبہات کے جوابات / کیا اسلام امن کا دین ہے یا جنگ کا؟

کیا اسلام امن کا دین ہے یا جنگ کا؟

لوگ حالیہ دہشتگردی کے واقعات اور بعض اسلام کے نام پر بنی دہشتگرد تنظیموں کے عمل کی وجہ سے ناخوش ہیں اور وہ سوال کرتے ہیں کہ کیا اسلام امن و سلامتی کے بجائے جنگ کا دین ہے؟

اس سوال کا جواب شہید مطہری رح نے اپنی کتاب سیری درسیرہ آئمہ اطہارؑ میں بیان فرمایا ہے۔

شہید مطہری فرماتے ہیں کہ ہم اس سوال کا کیا جواب دیں؟ اس کیلئے ہم قرآن مجید کی طرف مراجعہ کرتے ہیں جس میں جنگ کا حکم بھی ہے اور امن وسلامتی کا بھی۔دونوں طرح کی آیات موجود ہیں۔کئی آیات ہیں جو کفار اور مشرکین کے ساتھ جنگ کے بارے میں ہیں،جیسے:

 وَ قاتِلوا فی سَبیلِ اللهِ الَّذینَ یقاتِلونَکمْ وَ لا تَعْتَدوا

ترجمہ: جولوگ تم سے جنگ کرتے ہیں تم بھی ان سے راہِ خدا میں جہادکرو اور زیادتی نہ کرو۔

سورہ بقرہ آیت 190

اسی طرح امن و سلامتی کے بارے میں بھی آیات موجود ہیں،جیسے:

وَ انْ جَنَحوا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَها

رجمہ: اور اگر وہ صلح کی طرف مائل ہوں تو تم بھی جھک جاؤ 

سورہ انفال آیت 61

پھر فرمایا:

وَ الصُّلْحُ خَیرٌ

ترجمہ: صلح میں بہتری ہے

سورہ نساء آیت 128

پس دین اسلام امن کا دین ہے یا جنگ کا؟

اسکا جواب یہ ہے کہ اسلام  امن کو ایک ثابت اصل و قانون کی طرح قبول نہیں کرتا کہ ہر قسم کے حالات میں ضروری ہے کہ امن و سلامتی کو رواج دیا جائے اور مخالفت اور جنگ ترک کر دی جائے اور اسی طرح اسلام جنگ کو بھی ایک ثابت اصل اور قانون کے طور پر قبول نہیں کرتا کہ تمام حالات میں فقط جنگ ہوگی اور صرف جنگ ہوگی۔

امن و صلح اور جنگ شرائط اور حالات کے تابع ہیں ۔پس مسلمان چاہے وہ عہد رسالت نبویؐ کے ہوں خواہ امیرالمومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام یا کسی دوسرے امام کے زمانے میں ہوں خواہ ہمارے زمانے میں ہوں ہر جگہ ہر زمانے میں اپنے اہداف کو حاصل کرنے کی کوشش کریں  اور انکا ہدف اسلام اور مسلمانوں کے حقوق ہیں۔

پس وہ دیکھیں کہ اگر ان موجودہ شرائط اور حالات میں جنگ اور مبارزہ کے ذریعہ بہتر طریقے سے اپنے اہداف کو حاصل کرسکتے ہیں تو اس راستہ پر چلیں اور اگر تشخیص دیں کہ امن و صلح اور بغیر جنگ کے اپنے ہدف تک پہنچ جائیں گے تو اس راہ کو اپنائیں۔

پس مسئلہ جنگ اور امن کا نہیں ہے کہ دونوں صحیح نہیں ہیں بلکہ دونوں شرائط اور حالات کے تابع ہیں۔

حوالہ: کتاب سیری در سیرہ آئمہ اطہارؑ،شہید مطہری رح

شاید آپ یہ بھی پڑھنا چاہیں

امام علی علیه السلام کیسے نفس پیغمبرﷺ ہوسکتے ہیں؟

امام علیؑ آیت شریفہ کے مطابق نہ ابناءنا میں شامل ہیں اور نہ انفسنا میں۔تاکہ انکی ولایت اور وصایت اثبات کی جاسکے بلکہ آیت سے زیادہ سے زیادہ مراد یہ ہے کہ علیؑ خدا کی تعریف کے مستحق ہیں۔