سر ورق / مقالات / معصومین / حضرت امام حسن العسکریؑ / امام عسکری علیہ السلام اور نماز

امام عسکری علیہ السلام اور نماز

شیخ مفید رح نے روایت کی ہے کہ بنی عباس صالح بن وصیف کے پاس آئے جو امام عسکری علیہ السلام کا زندانبان تھا اور اسے کہا  کہ اس شخص پر سختی کرو۔صالح  نے کہا کہ اس سے زیادہ  کیا کروں؟ ! کہ میں نے دو بدترین افراد تلاش کیے ایک کا نام علی بن یارمش اور دوسرے کا نام اقتامش ہے اور انہیں امام عسکری علیہ السلام  پر ظلم کرنے کی خاطر لایا اب ہ دونوں اہل نماز و روزہ ہوگئے ہیں اور عبادت کے عظیم مقام تک پہنچ گئے ہیں۔اس نے حکم دیا ان دونوں کو لایا جائے۔جب وہ آئے تو اس نے کہا وائے ہو تم پر! یہ کیا ہے؟تو انہوں نے کہا کہ ہم اسکے متعلق کیا کہیں جو دن میں روزہ رکھتا ہے اور راتوں میں  صبح تک عبادت میں مشغول رہتا ہے۔کسی کے ساتھ کلام نہیں کرتا او عبادت کے علاوہ کوئی دوسرا کام نہیں کرتا اور جب وہ ہمیں دیکھتا ہے تو ہمارابدن لرز جاتا ہے۔ایسے لگتا ہے جیسے ہم اپنے سانس کے مالک بھی نہیں ہیں ۔بنی عباس نے جب یہ سنا تو بدترین حالت اور انتہائی ذلت کے ساتھ واپس لوٹ گئے ۔

مولف کہتے ہیں :ان روایات سے ظاہر ہوتا ہے کہ امام عسکری علیہ السلام زیادہ تر قید میں تھے اور دوسروں سے ملاقات نہیں کرسکتے تھے ااور مسلسل عبادت میں مشغول رہتے تھے۔

حوالہ: مناقب آل ابيطالب/ ج 4/ 429

شاید آپ یہ بھی پڑھنا چاہیں

سخاوت

ایک فقیر نے عبیداللہ ابن عباس کے پاس جانے کا ارادہ کیا لیکن غلطی سے پیغمبر اسلامﷺ کی خدمت میں پہنچ گیا او آنحضرتؐ کو عبیداللہ سمجھ بیٹھا