سر ورق / مقالات / دلائل کفر حضرت ابوطالبؑ کا رد

دلائل کفر حضرت ابوطالبؑ کا رد

تاریخ اسلام میں ایک اختلافی موضوع حضرت ابوطالب علیہ السلام کا ایمان ہے ۔اہلسنت کی کتابوں میں عام طور پر یہی درج ہے کہ حضرت ابوطالب علیہ السلام ایمان نہیں لائے اور غیرمسلم  ہی اس دنیا سے گئے۔یہی سبب تھا کہ  اہلسنت نے  جب اصحاب نبویؐ کی تاریخ لکھی تو حضرت ابوطالبؑ کو صحابی شمار نہیں کیا۔اسی لیے مصنفین نے آپ کے ایمان یا کفر کے متعلق متعدد کتابیں اور مقالے تحریر کیے۔

اسلام آنے کے بعد رسول خدا ﷺ کے بعض رشتہ دار جیسے حضرت حمزہ علیہ السلام مسلمان ہوگئے اور بعض دوسرے جیسے حضرت عباس رض دیر سے مسلما ن ہوئے اور بعض جیسے ابولہب نے اسلام  قبول نہ کیا بلکہ  رسول خداﷺ کا مقابلہ اور ان سے دشمنی کی اور آنحضرتؐ کو تکالیف دیں۔حضرت حمزہؑ اپنے اسلام کا واضح اعلان کرتے تھے اور حضرت ابوطالبؑ جوکہ نبیؐ کے سرپرست تھے فطری  طور پر انہیں سب سے پہلے اسلام لانا چاہیے تھااور آپ سے توقع بھی تھی کہ اگر اسلام قبول کرلیا ہے تو ظاہر کریں مگر حضرت ابوطالبؑ نے اس وجہ سے اسلام ظاہر نہ کیا کیونکہ آپؑ بہتر طریقے سے نبیؐ کی حمایت کرنا چاہتے تھے۔اگرچہ مختلف مواقع پر اشعار یا دوسرے طریقوں سے اپنے دین اور رسولؐ پر ایمان کو بیان کرچکے تھے۔ آپ کا اسلام ظاہر نہ کرنا سبب بنا کہ بعض مورخین نے آپ کو غیر مسلم تصور کیا اور اسی پر اصرار بھی کیا۔

ان مورخین نے حضرت ابوطالبؑ کے کفر کے متعلق کچھ دلائل ذکر کیے ہیں جنہیں ذیل میں پیش اور انکا جواب بھی  بیان کیا جارہا ہے:

حضرت ابوطالبؑ کے کفر کے دلائل

1۔آیات قرآن

پہلی آیت:

مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَن يَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِكِينَ وَلَوْ كَانُوا أُولِي قُرْبَىٰ مِن بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ

ترجمہ: نبی اور صاحبانِ ایمان کی شان یہ نہیں ہے کہ وہ مشرکین کے حق میں استغفار کریں چاہے وہ ان کے قرابتدار ہی کیوں نہ ہوں جب کہ یہ واضح ہوچکا ہے کہ یہ اصحاب جہنم ہیں۔

اس آیت میں رسول خداؐ اور مومنین کو مشرکین کے لیے استغفار کرنے سے منع کیا گیا ہے۔اس آیت کا شان نزول اہلسنت کے مطابق یہ ہے کہ سعید بن مسیب روایت کرتے ہیں کہ رسول خداؐ نے حضرت ابوطالبؑ کی وفات کے وقت کہا کہ وہ کلمہ توحید کا اقرار کریں تاکہ  میں خدا کی بارگاہ میں انکے حق میں گواہی دے سکوں۔لیکن حضرت ابوطالبؑ نے ابوجہل اور عبداللہ بن ابی امیہ کے کہنے پر لا الہ الااللہ نہیں کہا۔رسول خداؐ نے قسم کھائی کہ جب تک انہیں خدا کی جانب سے استغفار سے منع نہیں کیا جاتا تب تک حضرت ابوطالبؑ کے لیے استغفار کریں گے۔پھر یہ آیت نازل ہوئی۔

یہ روایت چند اسباب کی وجہ سے ناقابل قبول ہے:

1۔آیت میں (ماکان) نہی نہیں ہے بلکہ نفی ہے یعنی نفی کی صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ رسول خداؐ کی شان یہ  نہیں ہے کہ وہ مشرکین کے لیے استغفار کریں اور آنحضرتؐ کو منع نہیں کیا گیا۔

2۔اگر یہ روایت صحیح بھی مان لیں  تب بھی حضرت ابوطالبؑ کا کفر ثابت نہیں ہوتا کیونکہ آپ نے رسول خداؐ سے کہا تھا” میں عبدالمطلب کے دین پر ہوں” اور یہ وہی دین حنیف اور دین ابراہیمی تھا۔

3۔یہ آیت مدینہ میں اور سورہ توبہ کے ذیل میں نازل ہوئی جوکہ آخری سورہ تھی یا نویں ہجری یا رسولؐ کی عمر مبارک کے آخری سال میں نازل ہوئی اور حضرت ابوطالب ؑ کی وفات ہجرت سے تین سال قبل ہوئی پس خدا نے رسولؐ کو انکی وفات کے 12 سال بعد استغفار سے منع کیا۔پس مطلب یہ ہوا کہ رسولؐ چند سال اپنے چچا کے لیے دعائے مغفرت کرتے رہے۔

دوسری جانب کسی کے لیے دعائے مغفرت کرنا ایک قسم کی محبت کی دلیل ہےجبکہ رسولؐ کا یہ عمل خدا کے حکم کے منافی ہے:

لَّا تَجِدُ قَوْمًا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ يُوَادُّونَ مَنْ حَادَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَلَوْ كَانُوا آبَاءَهُمْ أَوْ أَبْنَاءَهُمْ أَوْ إِخْوَانَهُمْ أَوْ عَشِيرَتَهُمْ

ترجمہ: آپ کبھی نہ دیکھیں گے کہ جو قوم اللہ اور روزِ آخرت پر ایمان رکھنے والی ہے وہ ان لوگوں سے دوستی کررہی ہے جو اللہ اور اس کے رسول سے دشمنی کرنے والے ہیں چاہے وہ ان کے باپ دادا یا اولاد یا برادران یا عشیرہ اور قبیلہ والے ہی کیوں نہ ہوں۔

خاص کر یہ آیت ہجرت کے شروع میں یا دوسرے ہجری سال میں نازل ہوئی۔جبکہ سورہ توبہ کی آیت جس میں استغفار سے منع کیا گیا وہ مدینہ میں اور آخری سال میں نازل ہوئی۔

اسکا مطلب یہ ہوا کہ رسول خداؐ چند سال دعائے مغفرت بھی کرتے رہے اور ا ن سے محبت کا اظہار بھی کرتے رہے۔جوکہ آیت کے مطابق منع تھا!

4۔اس روایت کی بنیاد یہ ہے کہ رسولؐ کی گواہی سے بہرہ مند ہونے کے لیے حضرت ابوطالب ؑ لا الہ الا اللہ کہیں ۔

تو سوال یہ ہے کہ رسولؐ نےاپنی گواہی کے لیے کلمہ شرط قرار دیا پس اگر حضرت ابوطالبؑ نے شرط پوری کی اور کلمہ پڑھا تو عذاب کے مستحق نہیں ہیں اگر نہیں پڑھا تو شرط پوری نہیں ہوئی لیکن پھر بھی رسول خداؐ  اپنی شرط پوری نہ ہونے کے باوجوداپنے چچا کے لیے دعائے مغفرت کرتے رہے!یہ جائے سوال ہے!!

اسکے علاوہ دوسری آیات میں ہے کہ اگر کوئی ایمان نہیں لایا تو ا س سے محبت اور دوستی نہیں کی جاسکتی،پس ان آیات کے باوجود رسول خداؐ نے حکم خدا کے خلاف عمل کیا؟؟

اس بحث کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اس روایت کا حضرت ابوطالبؑ کے ایمان سے کوئی واسطہ نہیں اور حضرتؑ مومن تھے جن کے لیے پیغمبر اسلامؐ استغفار کرتے رہے۔

جاری ہے۔۔۔

حوالہ:خلاصہ مقالہ  بررسی اتہام کفر بہ ابوطالبؑ،قاسم خانجانی

1۔بخاری(98:1401/2)

2سورہ توبہ آیت 113

3۔سورہ مجادلہ آیت 22

شاید آپ یہ بھی پڑھنا چاہیں

فلسفہ نبوت، قرآن کی روشنی میں

آیت میں "لم تکونوا تعلمون"کا مطلب یہ نہیں کہ (تم نہیں جانتے تھے)بلکہ اس جملہ کا مفہوم یہ ہے کہ "تم لوگ اس قابل ہی نہیں تھے کہ ان کو جان پاتے"