سر ورق / مقالات / علم کلام میں مباحث نبوت

علم کلام میں مباحث نبوت

علم کلام میں مباحث نبوت

اسلامی کلام میں معمولا مباحث نبوت دو حصوں میں بیان کیے جاتے ہیں ایک نبوت عامہ اور دوسرا نبوت خاصہ۔

نبوت عامہ سے مراد وہ چند مباحث ہیں جو کسی معین نبی کے بارے میں نہیں ہوتے بلکہ ایسے مشترکہ امور ہیں جو تمام انبیاء سے تعلق رکھتے ہیں جبکہ نبوت خاصہ کا اطلاق ان مباحث پر ہوتا ہے جو خاص نبی کے ساتھ مخصوص ہوتے ہیں۔

مباحث کی اس طرح تفکیک اور ترتیب ،متکلمین کے ہاں اس اعتبار سے مرسوم ہوئی ہے کہ ایک جانب سے دیکھا جائے تو انبیاء کی تعداد بہت زیادہ ہے اور انکے متعلق عقیدہ بھی رکھتے ہیں اور دوسری جانب دیکھا جائے تو انبیاء میں سےکسی ایک کے دین کے پیروکار ہوتے ہیں لہذا نبوت عامہ اور خاصہ کی تقسیم ایک منطقی اور قابل قبول تقسیم ہوگی کیونکہ پہلے حصہ میں انبیاء کے مابین مشترک مسائل کو بیا ن کیا جاتا ہے اور دوسرے حصہ میں اپنے پیغمبر کی خصوسیات کے بارے میں بحث کی جائے گی۔

انبیاء کی بعثت کا حسن یا ضرورت

نبوت عامہ میں سب سے پہلی اور اہم بحث یہ ہے کہ”کیا انسانی معاشروں میں اصلا انبیاء کو مبعوث کرنے کی ضرورت بھی ہے یا نہیں؟”دوسرے الفاظ میں یوں کہا جائے کہ ارسال انبیاء کیا ان افعال میں سے ہےجن کے بارے میں عقل حکم کرتی ہے کہ پروردگار عالم کی جانب سے انکا صدور حتمی ہے یا عقل کی نگاہ میں اس طرح کی حتمیت ووجوب کی کوئی بات نہیں ہے؟

اس مقام پر اشعری متکلمین کا جواب نفی میں ہے اشاعرہ کی نگاہ میں انسانی عقل کبھی بھی پروردگار عالم سے کسی فعل کے صدور کی حتمیت و وجوب کا حکم نہیں کرتی کیونکہ اگر اس طرح ہو تو لازم آئے گا خداوندمتعال اپنے افعا ل میں فاعل موجَب (غیر مختار)اور مجبور ہوگا جبکہ حق تعالی “فعال ما یشاء”ہے۔اس اعتبار سے اصلا انسانی خرد و عقل کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ کسی فعل (من جملہ بعثت انبیاء)کے بارے میں یہ فیصلہ کرے کہ اسکا صدور واجب تعالی سے حتمی ولازمی ہے۔

نتیجہ کے طور پر اشعری  متکلمین (ضرورت بعثت انبیاء)کی بحث کو سرے سے مانتے ہی نہیں فقط حُسن بعثت پر اکتفا کرتے ہیں انکے عقیدہ کے مطابق انبیاء کا مبعوث کرنا اپنے اندر بہت سارے منافع اور برکات لیے ہوئے ہے اور اس میں لوگوں کے لیے بہت منافع ہیں۔ یہ خدا کے لطف و رحمت کا مصدا ق ہے ۔بنابریں اشاعرہ حسن بعثت کو تو قبول کرتے ہیں لیکن اسکی ضرورت کے منکر ہیں۔

شیعہ اور معتزلی متکلمین حسن و قبح عقلی کے اصول کو مانتے ہوئے اشاعرہ کے ساتھ حسن بعثت کے عقیدے کو مانتے ہوئے اضافہ بھی کرتے ہیں کہ بعثت ضرورت بھی رکھتی ہے اور اسکی ضرورت پرد لائل بھی پیش کرتے ہیں۔

حوالہ: کلام اسلامی،مہدوی مہر،ترجمہ استاد وسیم رضا سبحانی

شاید آپ یہ بھی پڑھنا چاہیں

فلسفہ نبوت، قرآن کی روشنی میں

آیت میں "لم تکونوا تعلمون"کا مطلب یہ نہیں کہ (تم نہیں جانتے تھے)بلکہ اس جملہ کا مفہوم یہ ہے کہ "تم لوگ اس قابل ہی نہیں تھے کہ ان کو جان پاتے"