سر ورق / مقالات / نبوت کے فوائد و برکات

نبوت کے فوائد و برکات

حسن بعثت انبیاءؑ(نبوت کے فوائد و برکات)

گزشتہ مطالب کے مطابق موجودہ بحث کو دو مرحلوں میں تقسیم کرنا چاہیے؛پہلے مرحلے میں  یہ بحث کی جائے کہ انبیاء کی بعثت ایک امر حسن ہے جوکہ تمام متکلمین کے درمیان ایک مشترکہ امر ہے پھر دوسرے مرحلے میں  ضرورت بعثت انبیاء کو ثابت کیا جائے(البتہ یہ مبحث صرف ان متکلمین سے خاص ہوگی جو حسن و قبح عقلی کے معترف ہیں)۔

چنانچہ بعثت کے حسن اور فائدہ مند ہونے کے بارے میں مختلف وجوہ کو ذکر کیا گیا ہے جو تقریبا کلامی متون میں ایک مشترکہ امر ہے مثال کے طور پر خواجہ نصیر الدین طوسیؒ جو ایک عظیم فلسفی اور اسلامی متکلم ہیں کتاب تحریر الاعتقاد میں وجوہ حسن بعثت کے بارے میں ذکر کرتے ہیں جنہیں ہم ذیل میں مختصر وضاحت کے ساتھ بیان کرتے ہیں۔

1۔عقل کی تائید اور معارف دینی کا بیان

بعثت انبیاء کے فوائد میں سے ایک فائدہ یہ ہے کہ وہ قضایا او ر مسائل جنہیں عقل مستقلا اور بذات خود سمجھتی ہے وحی اور نقل کے ذریعہ انکی تائید ہوتی ہےاور وہ مسائل جنہیں عقل مستقلا نہیں سمجھ پاتی جیسے احکام شرعیہ،  ان معارف کو وحی اور نقل  بیان کرتے ہیں۔

2۔خوف کا خاتمہ

ہوسکتا ہے انسان اپنی عقل کے ذریعہ  اس بات کا ادراک کرلے کہ وہ غیر (یعنی خدا)کی ملیکت ہے اور وہ یہ بھی سمجھ لے کہ کسی دوسرے کی ملکیت میں اسکی اجازت کے بغیر تصرف کرنا جائز نہیں۔ایسی حالت میں انسان جب تک وحی کے ذریعہ اپنے اختیارات اور ذمہ داریوں کا تعین نہ کرلے تب تک ہمیشہ اپنے افعال میں ڈر اور خوف سے جان نہیں چھڑا سکتا۔کیونکہ ہمیشہ یہی احتمال دیتا رہے گا کہ شاید اسکے فعل  سے خدا راضی نہ ہو۔شاید “بغیر اجازت کے تصرف”کے مصادیق میں آتا ہوجوکہ ایک قبیح کام ہے ارسال رسل اور لوگوں کی تکالیف کے ابلاغ سے مذکورہ خوف اور ڈر ختم ہوجائے گا۔

3۔بعض افعال کے حس و قبح سے آشنائی کرانا

یہ واضح سی بات ہے کہ عقل فقط کچھ افعال کے لیے حسن و قبح کو سمجھ پاتی ہے جبکہ دوسرے کئی افعال کے حسن و قبح کو ادراک کرنے سے ناتواں ہےاس بنا پر بعثت انبیاء کایک فائدہ یہ ہے کہ لوگ ا ن دوسرے افعال کے حسن و قبح سے بھی واقف ہوجاتے ہیں۔اسی لیے ان  افعال کو نمونہ عمل قرار دے سکتے ہیں۔

4۔اشیاء کے فوائد و نقصانات سے آگاہ کرنا

عقل بذات خود بہت سارے امور کے نقصانات او فوائد سے آشنا نہیں ہے مثلا بہت سی غذائیں اور دوائیں،ہوسکتا ہے وحی کے ذریعہ انسان ان امور سے آشنائی حاصل کرلے۔

5۔بشر اچھے سماج کے لیے قانون کا محتاج ہے

انسان اپنی طبیعت کے لحاظ سے ایک اجتماعی اور معاشرتی موجود ہے دوسری جانب ہمیشہ دوسروں پر تسلط اور برتری کا خواہاں رہتا ہے بنابریں لازم ہے کہ ایک مقنن یعنی قانون بنانے والا ہو جو معاشرتی فتنہ وفساد  کو روکنے کے لیے کچھ قواعد و قوانین بنائے پھر بعثت انبیاء اور نزول شرائع کے ذریعے وہ قوانین لوگوں تک پہنچائے تاکہ اس طرح سے بشر کی اجتماعی حیات برقرار رہ سکے۔

6۔علمی استعداد کی شکوفائی

انبیاء کی بعثت کے ذریعہ  لوگوں کے اندر موجود علوم و معارف کی وہ استعدادات اور قابلیتیں جو ابھی شکوفا نہیں ہوئیں ہیں وہ بھی اپنے اوج وکمال تک پہنچ سکتی ہیں۔

7۔مختلف فنون و صنعتوں کو سکھانا

انسان اپنی بقاء کے لیے بہت سارے وسائل و آلات کا محتاج ہے جب آلات ووسائل کے بنانے سے واقف نہیں ہے انبیاء الہی وہ فنون و صنائع بشر کو سکھاتے تھے تاکہ اپنی مذکورہ ضرورتوں   کا ازالہ کرسکے۔

8۔حکمت عملی  کی تعلیم

انسان حکمت عملی (اخلاق و سیاست)کے حوالے سے بھی ایک مربی استاد او انبیاء الہی کا محتاج ہے جو اپنی تعلیمات کے ذریعہ بشر کی اس ضرورت کو بھی پورا کریں۔

9۔شریعت کی تعلیم(شرعی واجبات  محرمات)

بعثت انبیاء کے ذریعہ لوگوں کی دینی ذمہ داریوں کو بیان کردیا جاتا ہے لوگ واجبات او ر محرمات سے واقف ہوجاتے ہیں پھر لطف الہی انکے حق میں ہوتا ہے۔

مذکورہ بالا وجوہِ حسن کے بارے میں قضاوت  کرتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ  وجوہِ حسن میں سے بعض ایسے ہیں جن میں مختصر تمیم یا تکمیل کی جائے تو ضرورت بعثت انبیاء کے لیے بہترین دلیل بن سکتی ہیں (نہ کہ صرفا حس بعثت کے لیے)جیسے پہلی ،پانچویں اور آٹھویں وجہ بلکہ نویں وجہ میں بھی اگر ایک مقدمہ کا ضمیمہ کیا جائے (یعنی وجوب لطف)تو ضرورت بعثت انبیاء کے لیے کلامی دلیل بن جائےگی اور یہ ایسی بات ہے جس سے بات خود متکلمین بھی غافل نہیں ہیں۔

حوالہ: کلام اسلامی،سعیدی مہر،ترجمہ استاد وسیم رضا سبحانی

شاید آپ یہ بھی پڑھنا چاہیں

فلسفہ نبوت، قرآن کی روشنی میں

آیت میں "لم تکونوا تعلمون"کا مطلب یہ نہیں کہ (تم نہیں جانتے تھے)بلکہ اس جملہ کا مفہوم یہ ہے کہ "تم لوگ اس قابل ہی نہیں تھے کہ ان کو جان پاتے"