سر ورق / خبریں / سپریم لیڈر کی توہین ،اتنا غصہ تو بنتا ہے!

سپریم لیڈر کی توہین ،اتنا غصہ تو بنتا ہے!

فرانس کے ہفتہ وار مزاحیہ (طنزیہ) میگزین ’چارلی ہیبڈو‘ میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کا کارٹون شائع کرنے پر ایران میں عوامی طور پر احتجاج جاری ہے۔

اس میگزین کی جانب سے پہلے بھی مسلمانوں کے پیارے نبی حضرت محمد مصطفیﷺ کی شان میں گستاخی کی جاچکی ہے اور اس کے خلاف ایک حملہ بھی ہوچکا ہے جس میں 12 لوگ مارے گئے تھے۔فرانسیسی حکومت نے اس وقت بھی کہا تھا کہ ہمارا میڈیا آزاد ہے اور ہمارے ملک میں توہین مذہب کا کوئی قانون موجود نہیں ہے۔

سب سے پہلے اس فرانسیسی حکومتی دعوے پر سوال اٹھتا ہے کہ اس میگزین کی یہ شرمناک حرکت آزادی نہیں بلکہ توہین کے ذمرے میں آتی ہے۔دوسرا یہ کہ فرانس سمیت پورے یورپ میں ہولوکاسٹ کے جھوٹ ہونے پر کسی بھی قسم کی تحقیق پر پابندی ہے اور اس حوالے سے کوئی آزادی نہیں  ہے۔اگر کی یونیورسٹی کا پروفیسر ہولوکاسٹ کے حوالے سے تحقیق پیش کرتا ہے کہ یہ سب جھوٹ کا پلندہ ہے  تو فورا حکومتیں حرکت میں آتی ہیں اور اس محقق کو یونیورسٹی سے نہ صرف نکال باہر کرتی ہیں بلکہ سالوں تک اسے جیل کی ہوا بھی کھانی پڑتی ہے۔

کیا یہی ہے وہ آزادی جس کا یورپ اور امریکہ ڈھنڈورا پیٹتے ہیں؟؟!

آخر کیوں اب  سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی توہین کی گئی ہے ؟اسکی وجوہات کیا ہیں ؟کیوں فرانس آیت اللہ خامنہ ای سے اتنا ناراض اور غصے میں ہے؟

اس ناراضگی اور غصے کی وجہ جاننے کے لیے تاریخ کا سہارا لینا پڑے گا۔

پہلی بات یہ ہے کہ یہ کارٹون شائع کرنا کسی منصوبہ بندی کے بغیر نہیں ہےبلکہ ان کی اشاعت فرانس حکومت کی سابقہ سرگرمیوں سے مکمل طور پر ہمآہنگ ہے۔

ہمیں جان لینا چاہیے کہ فرانس جوکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا مستقل رکن ہے اور یورپ کا تیسرے نمبر کا اقتصادی مرکز ہے اور سابقہ دور میں تاریخی مفکرین و محققین  کی تربیت گاہ ہے لیکن اس دور میں اتنا پستی میں گرچکا ہے کہ ایران مخالف ایسے لوگوں سے حمایت طلب کررہا ہے جنہیں ایرا ن میں بھی کوئی نہیں جانتا۔اس ملک کے ایک طنزیہ میگزین سے اس سے زیادہ توقع بھی نہیں کی جاسکتی۔

البتہ جس وجہ سے فرانس ایرانی سپریم لیڈر سے اتنا غصہ میں ہے جب فرانس اور برطانیہ کا دور دورہ تھا اور عرب ممالک کی سرزمین کو آپس میں تقسیم کررہے تھے اور لبنان اور شام فرانس کے حصہ میں آئے لیکن برطانیہ نے شام کے بادشاہ شاہ فیصل بن شریف  کی تاج پوشی کی تو فرانس کو اتنا برا لگا کہ اس نے باقاعدہ لشکر کشی کرکے جواب چکتا کردیا۔

یا لبنان جس کے صدورمملکت  اسکی آزادی یعنی 1943ء سے بیروت کی بندرگاہ پر دھماکے تک فرانس کی حمایت سے منتخب ہوتے آرہے تھے اور بیروت بندرگاہ دھماکے کےبعد میکرون بھی اسی زعم میں مبتلا فورا لبنان پہنچا اور لبنان کے لیے ڈیڈ لائن طے کر دی کہ فلا ں تاریخ تک اپنا صدر منتخب کرلو مگر کسی نے اس کی بات پر توجہ نہیں کی بلکہ یوں کہا جائے کہ اسے کسی نے منہ تک نہ لگایا۔اس کی  بہت سبکی ہوئی۔

اب ظاہر سی بات ہے کہ جن ممالک پر فرانس کا حکم چلتا تھا اب وہاں کی علاقائی سیاست سپریم لیڈر کے ہاتھ میں آگئی ہے تو اس پر اتنا غصہ تو بنتا ہے!!

دوسری جانب عراق فرانس کے لیے ATM کی حیثیت رکھتا تھا فرانس عراق کو اسلحہ فروخت کرتا تھا اور اس کے بدلے منہ مانگی قیمت وصول کرتا تھا صدام حکومت کے جانے کے بعد بھی اس کا یہی وتیرہ رہا مگر کچھ عرصہ قبل سپریم لیڈر کے سیاسی تدبر کی وجہ سے عراق میں ایسی حکومت آئی جس نے اسے انکار کردیا اور اب سارا منصوبہ ناکام ہوا تو غصہ تو بنتا ہے!!

اس کے علاوہ چار ماہ سے جاری احتجاج میں پورے یورپ اور امریکہ نے سر توڑ کوشش کی کہ ایران کو تقسیم کردیا جائے مگر ایران نہ صرف ڈٹ گیا بلکہ انکے تمام منصوبے ناکام کردیئے اور یہ صرف سپریم لیڈر کی تدبیر کی بنا پر ہوا تو اتنا غصہ تو بنتا ہے!!

اب جب  فرانس سمیت پورےیورپ اور امریکہ نے  سب کچھ  کرنے کے بعد دیکھ لیا کہ سپریم لیڈر کی قیادت میں جمہوری اسلامی ایران کی ترقی کے سامنے بند نہیں باندھا جاسکتا تو اتنا پستی میں گرا کہ اپنی حکومت کی امداد سے چلنے والا ایک طنزیہ میگزین سے درخواست کی کہ سپریم لیڈر توہین کرو۔

فرانس کو جان لینا چاہیئے کہ اب یہ 20 ویں صدی نہیں جس میں انکا راج تھا اب 21ویں صدی ہے اور اس میں بہت کچھ بدل گیا ہے۔

حوالہ:میڈیا

شاید آپ یہ بھی پڑھنا چاہیں

ایران سے استکبار کی دشمنی کی وجہ؟

استکبار جمہوری اسلامی کا دشمن ہے کیونکہ ایران نے لبرل ڈیموکریسی کو مسترد کرکے ملک میں انکا داخلہ بند کردیا ہے۔