سر ورق / شبہات کے جوابات / کیااستغاثہ سنت نبویؐ کے برخلاف ہے؟

کیااستغاثہ سنت نبویؐ کے برخلاف ہے؟

وہابیت کے پیروکار کہتے ہیں کہ سنت پیغمبرؐ دلالت کرتی ہے کہ استغاثہ ممنوع ہےکیونکہ بعض مسلمانوں نے ایک یہودی کے اذیت و آزار سے چھٹکارے کے لیے پیغمبرؐ سے استغاثہ کیا اور مدد مانگی۔آپؐ نے فقط  خدا سےاستغاثہ  کو جائز قرار دیا اور فرمایا:

انه لایستغاث بی انما یستغاث بالله

(مجھ سے استغاثه جائز نهیں بلکه خدا سے استغاثه کیا جائے)

جواب:

یہ روایت ان قرآنی آیات سے تناقض رکھتی ہے جن میں انبیاء اور اولیاء سے استغاثہ کو نقل اور اسکی تائید کی گئی ہے  اور اسی طرح مختلف مواقع پر صحابہ کے استغاثہ کے جواب میں سیرت نبویؐ کے اقدام کے  بھی برخلاف ہے۔اس روایت اور استغاثہ کو جائز قرار دینے والی  آیات و روایات کے درمیان جمع  یہ ہے کہ حوائج کی برآوری میں مخلوقات سے استغاثہ کے جائز ہونے  کے ساتھ اس بات کا خیال رکھا جائے کہ انہیں اسباب اور وسائط فیض سمجھا جائے اور نفع و نقصان میں کسی کو بھی مستقل نہ سمجھا جائے۔جیساکہ قرآن کریم میں متعدد آیات میں اس نکتے کی جانب توجہ دلائی گئی ہے:

وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَٰكِنَّ اللَّهَ رَمَىٰ

ترجمہ: اور (اے رسول(ص)) وہ سنگریزے تو نے نہیں پھینکے جبکہ تو نے پھینکے بلکہ خدا نے پھینکے(انفال،17)

یہ آیت تیر اندازی کو پیغمبر اسلامؐ سے نسبت دے رہی ہے لیکن حضرت کو مستقل قرار نہیں دیا اور اس کام کو خدا کی اجازت اور قدرت سے جوڑا ہے۔پیغمبر اکرم ﷺ نے بھی اس مذکورہ بالا روایت  میں مسلمانوں کی توجہ خدا کی جانب دلائی ہے تاکہ وہ آنحضرتؐ کو مستقل نہ سمجھیں۔

ترجمہ و پیشکش: ثقلین فاؤنڈیشن قم

حوالہ: درسنامہ نقد وہابیت،آیت اللہ سبحانی دام ظلہ،ص 207 و 208

شاید آپ یہ بھی پڑھنا چاہیں

استغاثہ مخالف روش سلف

صحابہ کی جانب سے کسی کام کو انجام نہ دینا "سنت ترکیہ" کہلاتا ہے جو استغااثہ کے خلاف شرع ہونے کی دلیل نہیں بن سکتا۔