سر ورق / معرفت امام زمانؑ / کیا کروں کہ امام زمان عج کے نزدیک ہوجاؤں؟

کیا کروں کہ امام زمان عج کے نزدیک ہوجاؤں؟

امام عصر عج کے زدیک ہونے کے لیے ان چند نکات پر توجہ کیجئے:

معرفت وشناخت امام

پیغمبر اکرمﷺ اور اہل بیتؑ کی جانب سے امام زمان ( عج ) کی معرفت و شناخت کے بارے میں کثیر روایات آئی ہیں۔یہا ں سے معلوم ہوتا ہے کہ امام کے ساتھ قلبی اور معنوی تعلق  کا اہم ترین رکن امام زمان ( عج )کی معرفت ہے۔اسی لیے متعد روایات میں آیا ہے کہ :

من مات و لم یعرف امام زمانه مات میتة جاہلیة

اگر کوئی اس حال میں مرجائے کہ اپنے زمانے کے امام کو نہ پہچانتا ہو تو وہ جاہلیت کی موت مرا ۔

فطری سی بات ہے کہ اگر انسان ایک حقیقت کی جتنی زیادہ اور گہری و وسیع معرفت رکھتا ہو اس سے باطنی رابطے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔انسان امام مہدی ( عج ) کی معرفت سے ہرجگہ اور ہروقت آپ کے حضور کو محسوس کرتا ہے اور خود کو آپ کے ساتھ اور آپ کی خدمت میں شرفیاب پاتا ہے۔

ایسی معرفت تک رسائی کے لیے خدا سے مدد طلب کی جائے ۔ دعائے غیبت میں پڑھتے ہیں:خدایا! اپنی حجت کی معرفت دے اگر میں تیری حجت کو نہ پہچان سکا تو اپنےد ین سے گمراہ ہوجاؤں گا۔

ہمیشہ امام کی یاد میں رہنا

امام ( عج ) سے نزدیک ہونے کے لیے جو کہ تمام خوبیوں اور اچھائیوں کا سرچشمہ ہیں مختلف بہانوں سے متوسل ہواجائے کبھی زیارت آل یسین کے ذریعہ آپ کی خدمت میں سلام دیں اور کبھی دعائے ندبہ کے ذریعہ آپ کی جدائی میں نالہ و فریاد کریں اور آنسو بہائیں اور روزانہ دعائے عہد کے ذریعہ  آپ ( عج ) سے اپنے عہد و پیمان کی تجدید کریں۔

تہذیب نفس اور روحی ومعنوی فضائل کا حصول

امام عصر  ( عج ) سے قریب ہونے ، بہتر رابطے اور انس کے  لیے گناہوں کی پلیدگی سے دور رہیں اور دل کے آئینے کو آپ کے وجود کے لیے ہمیشہ پاک اور صاف رکھیں۔دل میں رذائل اور برائیوں کے بجائے نیکیوں ، فضیلتوں اور خوبصورت اخلاقی خصلتوں  کا بیج بوئیں۔انسان کا دل اور اس کا کردار جتنا زیادہ پاک ہوگا یقینا کائنات کے پاک و پاکیزہ ترین موجود سے بہتر اور مضبوط رابطہ قائم کیا جاسکتا ہے کیونکہ اس صورت میں سنخیت اور یکسانیت وجود میں آجائے گی اور دو چیزوں میں سنخیت  کا ایجا د ہونا ان دونوں کے نزدیک آنے کا باعث بنے گا۔

قرآن نے فرمایا ہے:

لایمسه الا المطهرون

مفسرین کہتے ہیں کہ اس سے مراد یہ ہے کہ وہ افرا د قرآن کے عمیق معارف  کو سمجھ سکتے ہیں جو روح کی طہارت کے حامل ہوں۔ان کا کمال نمونہ معصوم امام ہیں جو  قرآن سے اسرار سے آگاہ ہیں اور ان اسرار کو دوسروں کے لیے بیان کرتے ہیں۔

پس سعی کی جائےکہ اخلاقی کمالات اور تقوی کے حصول  سے حضرت ولی عصر ( عج ) کے کردار سے مشابہت کی جاسکے۔

قرآن اور معصومین علیہم السلام  کی روایات کے مطابق تقوی الہی کا مطلب یہ ہے کہ واجبات کو انجام دینا اورحرام کاموں سے اجتناب کرنا۔

ترجمہ وپیشکش: ثقلین فاؤنڈیشن قم

حوالہ: آفتاب مہر،مہدوی سوالات کے جواب،ص 87،89

شاید آپ یہ بھی پڑھنا چاہیں

امام زمان عج کے ساتھ کیسے ارتباط قائم ہو؟

حضرت امام زمان عج سے ملاقات  اور آنحضرتؑ کی زیارت سے مشرف ہونا  عظیم شرف ہے لیکن زمانہ غیبت میں اصل یہ ہے کہ آنحضرتؑ لوگوں کی آنکھوں سے پنہان اور پوشیدہ رہیں