سر ورق / داستان و حکایات / مرج البحرین کی شادی

مرج البحرین کی شادی

مشہور قول کے مطابق یکم ذی الحجہ کے دن  کل ایمان کی جزو رسالت کے ساتھ عقد انجام پایا۔البتہ تاریخ میں دوسری تاریخیں بھی نقل ہوئی ہیں۔

اکثر شیعہ علماء اس بات کے قائل ہیں کہ شہزادیؑ کی شادی کے وقت عمر مبارک 9،یا 10،یا 11 سال تھی۔

تاریخ نے نقل کیا ہے کہ پیغمبر اکرم ﷺ کی عظمت کی وجہ سے شہزادیؑ کا ہاتھ مانگنے والے کئی افراد تھے جن میں سے بعض انتہائی مالدار اور ثروتمند تھے اور انہوں نے پیغمبر اکرمﷺ کی خدمت میں اپنے اموال کا ذکر بھی کیا مگر آنحضرتؐ ناراض ہوئے اور فرمایا میں وحی الہی کا منتظر ہوں خدا کی جانب سے جوحکم آئے گا اس کی تعمیل کروں گا۔

پھر نبی کریمﷺ نے شہزادیؑ کی شادی امیرالمومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام سے طے کردی اور شہزادیؑ سے فرمایا کہ میں تیری شادی اس شخص کے ساتھ کررہا ہوں جو سب سے زیادہ نیک اور  سب سے پہلے اسلام لانے والوں میں سے ہے۔

اصحاب نے حضرت علی ؑ کو آمادہ کیا کہ ہ نبی کریمﷺ کی خدمت میں جاکر شہزادیؑ کا رشتہ طلب کریں کیونکہ بعض اصحاب نبی کریمﷺ سے انکار سن چکے تھے۔حضرت علیؑ بارگاہ رسالت مآب میں شرفیاب ہوئے تو پیغمبرﷺ نے فرمایا: یاعلی! کوئی کام ہے؟کوئی حاجت ہے تو بتاؤ!

حضرت علیؑ نے اپنے کارنامے بتائے تو آنحضرتؐ نے فرمایا:یاعلی! تیرا مقام ان سے بڑا ہے۔

تو حضرت علیؑ نے شہزادیؑ سے شادی کی خواہش کا اظہار کیا۔

پیغمبر اسلامﷺ نے فرمایا کہ تجھ سے پہلے چند لوگ میرے پاس آئے تو میں نے ان کے نام فاطمہ کے سامنے رکھے تو اس نے رغبت نہیں دکھائی۔تم صبر کرو میں تیری بات شہزادیؑ سے کرتا ہوں دیکھیں کیا جواب ملتا ہے۔

پیغمبراکرمﷺ اندرون خانہ تشریف لے گئے اور شہزادیؑ سے مولا علیؑ سے شادی کے متعلق استفسار کیا تو شہزادیؑ کے چہرے پر ناگواری کے آثار نظر نہ آئے اور نہ ہی انہوں نے منہ پھیرا ۔نبی کریمﷺ نے اسے رضایت سمجھا اور واپس آکر حضرت علیؑ کو خوشخبری دی کہ فاطمہؑ راضی ہے اتنے میں جبرائیل امینؑ نازل ہوئے اور خدا کاپیغام پہنچایا کہ علی کی فاطمہ کے ساتھ شادی کردی جائے کیونکہ یہ رشتہ خدا نے بھی پسند فرمایا ہے۔

پیغمبر اسلامﷺ نے دونوں کے حق میں دعا فرمائی۔

رسول خداﷺ نے حضرت علیؑ کو بلا بھیجا اور پوچھا کہ حق مہر کے لیے تمہارے پاس کیا ہے؟آپ نے جواب دیا کہ یانبی اللہؐ! آپ میری مالی حالت بہتر جانتے ہیں ایک تلوار ،ایک زرہ اور ایک اونٹ کے علاوہ میرے پاس کچھ نہیں۔

آپ نے فرمایا کہ اے علی! تم مرد جنگ و جہاد ہو تمہیں تلوار کی ضرورت ہے  اور اونٹ سے تم حلال روزی کماؤ گے صرف ایک زرہ بچتی ہے اسے میرے پاس لے آؤ۔میں بھی تم پر زیادہ بوجھ نہیں ڈالتا۔

شہزادیؑ کا حق مہر پانچ سو درہم طے پایا۔

پیغمبر اسلامﷺ نے فرمایا اے علی! جلدی مسجد پہنچو میں بھی تمہارے پیچھے آرہا ہوں تاکہ خطبہ عقد پڑھا جاسکے۔

پھر آنحضرتؐ نے بلال سے فرمایا جاؤ مہاجرین و انصار کو بلاؤ۔جب سب لوگ آگئے تو نبی کریمﷺ نے اس آسمانی جوڑے کا خطبہ عقد پڑھا۔

سب نے رسول اللہﷺ اور آسمانی جوڑے کو شادی کی مبارکباد دی۔

حوالہ: بلاغ سائٹ

شاید آپ یہ بھی پڑھنا چاہیں

 حضرت صفیہ بنت عبدالمطلب کی شجاعت

میں نے دیکھا حسان  نےتو صاف جواب دیدیا ہے۔میں نے خود کمر ہمت باندھی اور قلعہ سے باہر نکلی اور ایک خیمے کی لکڑی سے اس پر حملہ آور ہوئی.