سر ورق / خبریں / غزہ،چند شبہات کے جواب

غزہ،چند شبہات کے جواب

۷ اکتوبر  ۲۰۲۳ سے اسرائیل اور حماس جنگ جاری ہے  اور اس جنگ میں ۲۰۰ سے زائد اسرائیلی فوجی اور افسران یرغمال بنائے جاچکے ہیں۔درحقیقت حماس کے ۶ ہزار جنگووں نے لاکھوں کی  آرمی کو شکست دے دی ہے جو بہترین اسلحہ اور سازوساما ن سے لیس ہے اور جس کا بجٹ بھی باقی ممالک کی فوجوں سے زیادہ ہے مگر حماس کے ۱۵۰۰ جنگجوں کے حملے کے سامنے بھیگی بلی بن گئی اور دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ حملہ اتنا شدید اور اچانک تھا کہ اسرائیلی افسران سمیت وزیراعظم کو بھی اس کا یقین نہ آیا کہ حماس اتنا بڑا حملہ کرسکتی ہے؟

حماس کے حملے کے بعد اسرائیل کے حامی ممالک کے صدر اور وزرائے اعظم نے جنگی امدادوں کا وعدہ کیا اور خود بنفس نفیس اسرائیل کا دورہ کیا اور اسرائیل کا حوصلہ بڑھایا۔اسی مدد اور حوصلے سے اسرائیل نے حماس کے جنگجووں کا تو کچھ نہیں بگاڑا مگر غزہ نشینوں اور ہسپتالوں اور رہائشی علاقوں پر بمباری کرکے خود کو راضی رکھنے کی کوشش کی ہے۔حال ہی میں المعمدانی ہسپتال پر حملہ کیا اور ۱۰۰۰  سے زائد نہتے فلسطینی مارے گئے جن میں مریض اور زخمی اور عام لوگ موجود تھے۔

جس طرح کسی بھی جنگ میں لڑنے کے لیے اسلحہ اور دیگر سازوسامان کی ضرورت ہوتی اسی طرح جنگ میں پراپیگنڈا بھی ایک اہم رکن تصور کیا جاتا ہے۔اسرائیل اور اسکے حامی ممالک کے میڈیا نے مختلف قسم کے جھوٹ اور پراپیگنڈے پھیلا رکھے ہیں جن سے بعض اوقات ایک عام انسان او مسلمان بھی شکار ہوکر وہی اسرائیل کی زبان بولنے لگتے ہیں۔ہم یہاں چنیدہ شبہات کا جواب دیں گے تاکہ فلطین کے متعلق غلط پراپیگنڈے کا سدباب کیا جاسکے۔

پہلا اعتراض:

 جو ۷۰ سال سے جاری ہے کہ فلسطینیوں نے پیسے کے لالچ میں اپنی زمینیں اور باغات خود یہودیوں کو بیچےاور اب جب اسرائیل نے سب کچھ خرید کراس پر قبضہ جما لیا ہے تو رونا کس بات کا؟

اسکا جواب یہ ہے کہ اولا درست ہے کہ فلسطینیوں نے زمین فروخت کی مگر ۵ فیصد تک زمینیں فروخت کیں باقی زمینوں سے انہیں زبردستی نکالا گیا اور انہیں بے گھر کردیا گیا۔

دوسرا یہ کہ فلسطینیوں نے زمین زیادہ تر ایک برطانوی پٹھو کو بیچی جو خود کو مسلمان کہتا تھا ان سے  خرید کر وہ آگے یہودیوں کے ہاتھ فروخت کردیتا تھا۔فلسطینیوں کو کانوں کا خبر تک نہ ہوتی تھی۔

تیسرا یہ کہ تسلیم کرلیا کہ زمین خود فلسطینیوں نے بیچی مگر یہ دنیا کے کس قانون میں لکھا ہے کہ جب کوئی اپنی زمین بیچے گا تو وہ اپنی شہریت سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے گا؟یہاں فلسطینیوں سےزمین کے ساتھ ساتھ ان کی شہریت بھی چھین لی گئی اور انہیں اپنے ہی ملک میں پنا ہ گزین بنا دیا گیا۔

دوسرا اعتراض:

 یہ ہے جسے حال ہی میں امریکی صدر جوبائیڈن نے بیان کیا ہے تاکہ غزہ پر اسرائیلی حملے کا جواز فراہم کیاجاسکے۔ وہ شبہ یہ ہے کہ حماس بھی داعش کی طرح کی دہشتگرد تنظیم ہے جس سے دفاع کرنا اسرائیل کا بنیادی حق ہے۔

اسکا جواب یہ ہے داعش ،طالبان اور القاعدہ جیسی دوسری دہشتگرد تنظیموں کوخود امریکہ ،یورپ اور انکے حامی ممالک  نےتشکیل دیا  جن کا کام صرف مسلم ممالک میں فساد پھیلانا تھا ۔ انکا لب و لہجہ،رہن سہن ،کھانا پینا لباس اور ظاہری شکل صورت کو بھی خاص انداز میں تشکیل دیا۔یہاں تک کہ انہیں نعرے بھی بنا کردیئے گئے ایسی تنظیمیں اپنوں کے قتل عام کے لیے بنائی گئیں اور ان کی مکمل پشت پناہی کی گئی اور یہی بنیاد پرست دہشتگرد ہیں جنہیں اسلام اور جہاد وہی پسند ہے جو ان کے آقاوں کو پسند ہے۔یہ تبھی جہاد کا نام لیتے ہیں جب ان کے آقا انہیں  حکم دیتے ہیں لیکن  حماس اس طرح کی تنظیم نہیں ہے یہ ایک مزاحمتی تنظیم ہے جو زمین پرست ہے اور قابض اسرائیل سے اپنی سرزمین آزاد کروانا چاہتی ہے اور اسکا مقصد قبلہ اول کی آزادی ہے اسی لیے جن اسلامی ممالک نے داعش جیسی تنظیموں کی مدد کی ہے اگر اس امداد کا عشر عشیر بھی حماس کو دیا جاتا تو یقینا نتیجہ کچھ اور ہوتا لیکن عرب ممالک ا ن تنظیموں کا اپنے لیے خطرہ سجھتے ہیں کہ شاید کل کلاں ان کی بادشاہت کےلیے خطرہ نہ بن جائیں۔

تیسرا اعتراض:

 یہ ہے کہ اسرائیل کو باقی ممالک کی طرح اپنے دفاع کا حق ہے لیکن یہ شبہ بھی نہایت کمزور ہے اسکا جواب یہ ہے کہ اگر کسی کے گھر پر ڈاکو آجائیں تو گھر والے کہیں کہ آئیں ہم آپس میں مذاکرات کرتے ہیں اور آدھا گھر تم رکھ لو اور آدھا ہم رکھ لیتے ہیں  اور ڈاکو آدھے سے بھی زیادہ گھر اپنے پاس رکھ لیں اور ہرروز گھر والوں پر دفاع کے نام ظلم و ستم ڈھائیں۔دنیا کا کونسا باشعور انسان اسے تسیم کرے گا؟ ایک ڈاکووں نے گھر پر قبضہ کرلیا پھر ظلم و ستم بھی گھر والوں پرکرتے رہے اب اسے اپنا دفاع بھی قرار دیں۔ڈاکو جتنا زیادہ عرصہ بھی گھر پر قابض رہیں وہ مالک نہی بن سکتے وہ غاصب ہی رہیں گے۔

یہ کیسے ممکن ہے کہ غزہ ۷۰ سال سےایک کھلی جیل کی مانند ہےاس پر قبضہ بھی اسرائیل کا ہے کہ وہ توقع رکھے کہ فلسطینی مجھ پر حملہ نہیں کریں گے؟جب اتنے طویل عرصے سے فلسطینی ظلم وستم سہہ رہے ہوں تو ایک دن آئے گا جب وہ آزادی کے لیے بھرپور کوشش کریں گے اور اپنی سرزمین قابض اسرائیل سے آزاد کروائیں اور اب شاید وہ وقت آچکا ہے۔

کیونکہ اسرائیل عنکبوت کے جالے سے بھی زیادہ کمزور ہے اور فتح یقینا مسلمانوں کی ہوگی۔انشاءاللہ

نوٹ: تحریر سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

شاید آپ یہ بھی پڑھنا چاہیں

قرآن سوزی ،آزادی اظہار رائے یا اظہار نفرت؟

ہزاروں احتجاج کی درخواستوں میں سے صرف ایسی ہی درخؤاستوں کی اجازت دی جاتی ہے جس سے اسلام اور مسلمانوں کے مقدسات کی توہین ہوتی ہو۔