سر ورق / خبریں / غزہ،چند شبہات کے جواب(2)

غزہ،چند شبہات کے جواب(2)

چوتھا اعتراض:

بعض ملا نما افراد نے اعتراض کیا ہے کہ اسرائیل کے خلاف نعرہ نہیں لگایا جاسکتا کیونکہ “اسرائیل” حضرت یعقوب نبی علیہ السلام کا اسم مبارک ہے اس لیےاسرائیل مردہ باد کا نعرہ نہیں لگایا جاسکتا کیونکہ یہ الله کے نبی کی توهین شمار هوتا هے۔

اسی طرح بعض نے کہا ہے کہ اسرائیل کا معنی بہت زیادہ عبادت گزار بندہ ہے اور یہ نام امیرالمومنین علیہ السلام کے لیے بھی استعمال ہوا ہے یعنی السلام علیک یا اسرائیل الامۃ، اسکا معنی یہ ہے کہ سلام ہو امت کے سب سے زیادہ عبادت گزار بندے پر۔تو اس نعرے سے مولا علی علیہ السلام کی توہین بھی ہوسکتی ہے۔

اس اعتراض کا جواب یہ ہے کہ اولا یہ ایک مغالطہ ہے کہ اسرائیل جو ایک قابض ملک ہے اسکا نام حضرت یقوب علیہ السلام ہے ۔دوسرا یہ کہ اگر مردہ باد کا نعرہ اسرائیل کے خلاف لگایا جارہا ہے تو سب جانتے ہیں کہ اس سے مراد قطعی طور حضرت یعقوب علیہ السلام نہیں بلکہ  اس سے مراد یہی ملک ہے جو یہودیوں نے امریکہ اور یورپ کے ایما پر فلسطین پر قبضہ کرکے بنایا ہے اور یہ قابض اور غاصب ملک ہے جس نے فلسطینیوں کی زمینوں پر قبضہ جما کر اپنا وجود تشکیل دیا ہے جو ایک ناجائز ریاست ہے اور اس کا خاتمہ ضروری ہے ۔یہی ملک نہتے فلسطینیوں پر مسلسل حملے کررہا ہے ان کا قتل عام کر رہا ہے اور انکی نسل کشی کررہا ہے۔

پانچواں اعتراض:

یہ ہے کہ تمام فلسطینی اہلسنت اور ناصبی ہیں تو شیعہ یا ایران انکی مدد کیوں کررہا ہے؟

ناصبی یعنی جو امیرالمومنین علی علیه السلام کو برا بھلا کہے اور ان کی توہین کرے جبکہ سنی وہ ہے جو امیرالمومنین علیہ السلام کو چوتھا خلیفہ مانتا ہے اور ان کے احترام کا بھی قائل ہے۔پس سنی اور ناصبی دونوں میں فرق ہے سنی از لحاظ شرعی مسلمان اور پاک ہے جبکہ ناصبی کافر اور نجس ہے۔

اسکا جواب یہ ہے کہ ہمیں اہلبیت علیہم السلام نے حکم دیا ہے کہ ہمیشہ مظلوم کا ساتھ دو خواہ وہ کافر ہی کیوں نہ ہو اور ہمیشہ ظالم کے خلاف رہو خواہ وہ کوئی بھی ہو۔

دوسرا سب سے اہم یہ ہے کہ فلسطینیوں کی اکثریت شافعی مذہب ہے اور امام شافعی کی اہلبیت علیہم السلام سے محبت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں اور خود فلسطینی لیڈر بھی برملا اعتراف کرتے ہیں کہ ہم اہلبیت علیہم السلام سے محبت رکھتے ہیں۔

تیسرا یہ کہ اگر فلسطینی ناصبی ہوتے تو  فلسطین میں کتنی ہی مساجد ہیں جن کے نام امیرالمومنین علیہ السلام،حضرت زہرا علیہا السلام اور حضرات حسنین علیہما السلام کے نام پر ہیں تو اپنی مساجد کا یہ نام ہی کیوں رکھتے؟

چوتھا یہ کہ یہ شبہ اسرائیل اور ان کے حامیوں نے پھیلایا ہوا ہے تاکہ شیعہ و سنی وحدت قائم نہ ہوسکے اور شیعہ فلسطینی اہلسنت کی مدد نہ کرسکیں۔ استاد  شہید مطہری کے بقول کسی فلسطینی نے  حج کے موقعہ پر ا سے شرعی مسئلہ دریافت کیا تو آپ نے تعجب کیا تو اس فلسطینی نے جواب دیا کہ آقا میں شیعہ ہوں اور میرے ساتھی سنی ہیں۔

بعض رپورٹس کے مطابق،فلسطین میں اس وقت شیعہ کی تعداد ۷۰ ہزار سے زائد ہے جو غزہ اور دیگر مختلف علاقوں میں رہتے ہیں ۔کچھ معروف لیڈر جیسے ڈاکٹر محمود شقاقی اور لیلا خالد اور دیگر افراد بھی شیعہ ہیں۔1

حوالہ:ثقلین فاونڈیشن قم

1۔ شهید مطهری،آشنائی باقرآن، جلد 4 ، پاورقی صفحه 32

شاید آپ یہ بھی پڑھنا چاہیں

قرآن سوزی ،آزادی اظہار رائے یا اظہار نفرت؟

ہزاروں احتجاج کی درخواستوں میں سے صرف ایسی ہی درخؤاستوں کی اجازت دی جاتی ہے جس سے اسلام اور مسلمانوں کے مقدسات کی توہین ہوتی ہو۔