سر ورق / مقالات / معصومین / حضرت زہرا علیہا السلام کی نظر میں حقیقی شیعہ کون ہے؟

حضرت زہرا علیہا السلام کی نظر میں حقیقی شیعہ کون ہے؟

متن حدیث:

[قَالَ الامام (علیه السلام) ‏] قَالَ رَجُلٌ لِامْرَأَتِهِ: اذْهَبِی إِلَى فَاطِمَهَ (علیهاالسلام) بِنْتِ‏ رَسُولِ‏ اللَّهِ‏ (صلی الله علیه و آله و سلم) فَسَلِیهَا عَنِّی، أَنَا مِنْ شِیعَتِکُمْ، أَوَ لَسْتُ مِنْ شِیعَتِکُمْ. فَسَأَلَتْهَا، فَقَالَتْ (علیها السلام): قُولِی لَهُ: إِنْ کُنْتَ تَعْمَلُ بِمَا أَمَرْنَاکَ، وَ تَنْتَهِی عَمَّا زَجَرْنَاکَ عَنْهُ فَأَنْتَ مِنْ شِیعَتِنَا، وَ إِلَّا فَلَا.فَرَجَعْتُ، فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: یَا وَیْلِی- وَ مَنْ یَنْفَکُّ مِنَ الذُّنُوبِ وَ الْخَطَایَا، فَأَنَا إِذَنْ خَالِدٌ فِی النَّارِ، فَإِنَّ مَنْ لَیْسَ مِنْ شِیعَتِهِمْ فَهُوَ خَالِدٌ فِی النَّارِ.فَرَجَعَتِ الْمَرْأَهُ فَقَالَتْ لِفَاطِمَهَ (علیهاالسلام) مَا قَالَ لَهَا زَوْجُهَا.فَقَالَتْ فَاطِمَهُ (علیهاالسلام): قُولِی لَهُ: لَیْسَ هَکَذَا [فَإِنَ‏] شِیعَتَنَا مِنْ خِیَارِ أَهْلِ الْجَنَّهِ، وَ کُلُّ مُحِبِّینَا وَ مُوَالِی أَوْلِیَائِنَا، وَ مُعَادِی أَعْدَائِنَا، وَ الْمُسَلِّمُ بِقَلْبِهِ وَ لِسَانِهِ لَنَا- لَیْسُوا مِنْ شِیعَتِنَا إِذَا خَالَفُوا أَوَامِرَنَا وَ نَوَاهِیَنَا- فِی سَائِرِ الْمُوبِقَاتِ. وَ هُمْ مَعَ ذَلِکَ فِی الْجَنَّهِ، وَ لَکِنْ بَعْدَ مَا یُطَهَّرُونَ مِنْ ذُنُوبِهِمْ بِالْبَلَایَا وَ الرَّزَایَا، أَوْ فِی عَرَصَاتِ الْقِیَامَهِ بِأَنْوَاعِ شَدَائِدِهَا، أَوْ فِی الطَّبَقِ الْأَعْلَى مِنْ جَهَنَّمَ بِعَذَابِهَا- إِلَى أَنْ نَسْتَنْقِذَهُمْ- بِحُبِّنَا- مِنْهَا، وَ نَنْقُلَهُمْ إِلَى حَضْرَتِنَا.[۱]

ترجمہ:

ایک شخص نے اپنی زوجہ سے کہا کہ شہزادی ع کی خدمت میں جاو اور آپ سے ریافت کرو کہ کیا میں آپ کے شیعوں میں سے ہوں یا نہیں؟وہ خاتون جنت ع کی خدمت میں پہنچی اور سوال کیا۔

شہزادی ع نے فرمایا: اس سے کہو کہ جو ہم نے حکم دیا ہے اس پر عمل کرتے ہو اور جس سے منع کیا ہے اس سے اجتناب کرتے ہو تو تم ہمارے شیعوں میں سے ہو؟وگرنہ ہمارے شیعہ نہیں ہو۔

وہ کہتی ہے کہ واپس گھر لوٹی اور شہزادی ع کا فرمان اسے سنایا تو شوہر نے کہا: وائے ہو مجھ پر کون ہمیں ان گناہوں سے نجات دلائے گا اور جہنم ہمیش کے لیے رہوں گا کیونکہ اگر کوئی شیعہ نہ ہو تو تاابد جہنم میں رہے گا۔

اسکی بیوی واپس دوبارہ شہزادی ع کی خدمت میں آئی اور سارا ماجرا کہہ سنایا۔

حضرت زہرا علیہا السلام نے اس سے فرمایا:

اپنے شوہر سے کہو کہ ایسا نہیں ہے جیسا تم سوچ رہے ہو،ہمارے شیعہ اہل بہشت کے نیک افراد سے ہیں،ہمارے سب محبین اور ہمارے محبوں کےمحب اور ہمارے دشمنوں کے دشمن اور وہ لوگ دل و زبان سے ہمارے تابع ہیں ،یہ سب ہمارے شیعہ نہیں ہیں جب تک ہمارے اوامر و نواہی کی مخالفت کریں گے(یعنی ہمارے اوامر کو انجام نہ دیں اور ہماری نواہی سے باز نہ آئیں) اور گناہوں کے مرتکب ہوں۔یہ سب اس کے باوجود اہل جنت میں سے ہیں لیکن مصائب اور مشکلات کے ذریعہ پاک ہوجائیں گے یا قیامت کے دن مختلف سختیوں میں مبتلا ہوں گے یا جہنم کے پہلے طبقہ میں انہیں عذاب ہوگا یہاں تک کہ ہماری محبت کی خاطر جو ہم سے کرتے ہیں ہم انہیں نجات دیں گے اور اپنی طرف لے آئیں گے۔

ترجمہ و پیشکش: ثقلین فاونڈیشن قم

حوالہ: التفسیر المنسوب إلى الإمام الحسن العسکری (ع)، ص۳۰۸

شاید آپ یہ بھی پڑھنا چاہیں

امام ہادی علیہ السلام کی امامت کے دلائل

چونکہ  حضرت موسی مبرقع نے کبھی بھی امامت کا دعوی نہیں کیا اور جو لوگ آپ کی امامت کی جانب مائل تھے انہیں خود سے دور کردیا۔پس امامت امام ہادی علیہ السلام میں منحصر ہوگئی۔