سر ورق / مقالات / تربت امام حسین علیہ السلام پر سجدہ

تربت امام حسین علیہ السلام پر سجدہ

تربت پاک سید الشہداء علیہ السلام پر سجدہ کرنے  کی بنیاد سنت نبوی میں پائی جاتی ہے۔فرمایا:

جعلت لی الارض مسجدا وطہورا

زمین  میرے لیے سجدہ گاہ اور پاک قرار ی گئی ہے۔

پیغمبر اسلام ص نے زمین کو سجدہ گاہ ہونے کے ساتھ ساتھ اسکا طہور  ہونا بھی ذکر فرمایا ہے۔یعنی اس کا مطلب یہ ہے جو زمین پاک کرنے والی اور مطہر ہے وہی سجدہ گاہ بھی ہے۔دوسرے لفظوں میں فقط اس چیز پر سجدہ کیا جاسکتا ہے جو طہور اور پاک ہو اور اسی سے تیمم کیا جاسکتا ہے۔

بنابریں مسلمانو ں کا کوئی بھی فرقہ قالین پر تیمم کو طہارت کا موجب قرار نہیں دیتا۔پس اس پر نماز میں سجدہ کرنا بھی درست نہیں کیونکہ خاک اور پتھر بھی مسلمانوں کے نزدیک طہور ہیں پس ان  پر سجدہ  کرنا صحیح ہے۔

پس اسی بنا پر مسجد حرام اور مسجد نبوی کا فرش، قالین بچھے ہونے کی وجہ سے شریعت نبوی کے مطابق زمین شمار نہیں ہوتا۔مجبور ہیں کہ پاک مٹی کا ایک ٹکڑا ہمراہ رکھیں۔اس سرزمین سے زیادہ بابرکت خاک کونسی ہوسکتی ہے جس میں کائنات کے بہترین انسان جیسے امام حسین علیہ السلام کا بے گناہ خون بھی ملا ہوا ہو۔لہذا ہم اس خاک سے سجدہ گاہ بناتے ہیں اور اس پر سجدہ کرتے ہیں۔

ہرچند قرآن وحدیث میں موجودہ شکل میں سجدے گاہ کا ذکر نہیں آیا لیکن احادیث میں خاک پر سجدے کی جانب اشارہ کیا گیا ہے۔

امام صادق علیہ السلام کے پاس ایک جائے نماز تھی جس میں تھوڑی سی خاک کربلا تھی اور آپ اسی پر سجدہ کرتے تھے۔ اور فرماتے تھے:

“خاک کربلا پر سجدہ ،نماز کو سات حجابوں تک اوپر لے جاتا ہے۔”

بنابریں خاک پر سجدہ اور تربت کربلا پر سجدہ دینی تعلیمات سے منافات نہیں رکھتا بلکہ عین دین ہے کیونکہ پیغمبر اکرم ص خاک پر سجدہ فرماتے تھے۔ہر جگہ خاک نہیں ملتی،اس لیے مناسب یہی ہے کہ خاک کا ایک ٹکڑا بہتر یہ ہے خاک کربلا سے ہو اپنے پاس ہمیشہ رکھیں تاکہ جہا ں خاک میسر نہ ہو وہاں اس ٹکڑے پر سجدہ کیا جاسکے۔

ترجمہ و پیشکش: ثقلین فاونڈیشن قم

حوالہ:درسنامہ نقد وہابیت،آیت اللہ سبحانی، ص ۳۷۲

شاید آپ یہ بھی پڑھنا چاہیں

امام ہادی علیہ السلام کی امامت کے دلائل

چونکہ  حضرت موسی مبرقع نے کبھی بھی امامت کا دعوی نہیں کیا اور جو لوگ آپ کی امامت کی جانب مائل تھے انہیں خود سے دور کردیا۔پس امامت امام ہادی علیہ السلام میں منحصر ہوگئی۔