سر ورق / مقالات / معصومین / حضرت فاطمہ ؑ / حضرت فاطمہ زہرا(ع) کی ولادت باسعادت کا احوال

حضرت فاطمہ زہرا(ع) کی ولادت باسعادت کا احوال

شیخ طوسیؒ نے مصباح میں اور اکثر علماء نے ذکر کیا ہے کہ اس مخدومہ کونینؑ کی ولادت 20 جمادی الثانی  کو ہوئی۔بروز جمعہ بعثت کا دوسرا سال تھا۔بعض نے پانچواں سال کہا ہے۔علامہ مجلسیؒ نے حیاۃ القلوب میں فرمایا ہے کہ صاحب عدد نے روایت کی ہے کہ بعثت حضرت رسول اکرمﷺ کے پانچ سال بعد شہزادی، حضرت خدیجہؑ کے بطن سے متولد ہوئیں۔

حضرت خدیجہؑ کے حمل کی کیفیت اس طرح ہے کہ ایک دن حضرت رسول اکرمﷺ ابطح نامی مقام پر کچھ اصحابؓ کے ساتھ تشریف فرما تھے کہ اچانک حضرت جبرائیل علیہ السلام اپنی اصلی صورت میں نازل ہوئے۔وہ اپنے پروبال کھولے ہوئے مشرق ومغرب کو پر کیے ہوئے تھے۔انہوں نے آنحضرتﷺ کو پکار کر کہا :

اے محمدﷺ! خداوند علی واعلی آپ کو سلام بھیجتا ہے اور حکم دیتا ہے کہ چالیس شب وروز خدیجہؑ سے الگ رہیں۔

 پس آپؐ چالیس روز تک حضرت خدیجہؑ کے پاس نہ گئے،دن کو روزہ رکھتے اور راتیں عبادت خدا میں گزارتے تھے آپ نے عمار کو خدیجہؑ کے پاس بھیجا اور فرمایا اس سے جا کر کہنا کہ میرا تمہارے پاس نہ آنا ناپسندی یا  رنجش کی بناء پر نہیں بلکہ میرے پروردگار کا حکم ہے تاکہ وہ اپنی تقدیرات جاری کرے اور اپنے متعلق سوائے اچھائی کے کوئی خیال نہ کریں کیونکہ خداوند عالم تمہاری وجہ سے ملائکہ پر دن میں کئی دفعہ فخر مباہات کرتا ہے،تم ہر رات گھر کا دروازہ بند کرکے سو جانا اور میں فاطمہ بنت اسدؑ کے گھر پر ہوں یہاں تک کہ وعدہ الہی پورا ہو۔

حضرت خدیجہؑ ہرو روز کئی مرتبہ آنحضرتﷺ کی جدائی میں گریہ کرتی تھیں جب چالیس دن پورے ہوگئے تو جبرئیل آنحضرتﷺ پر نازل ہوئے اور کہنے لگے:

 اے محمدﷺ! خداوند علی و اعلی آپ کو سلام بھیجتا ہے اور ارشاد فرماتا ہے کہ میرے تحفے اور کرامت کے لیے تیار ہوجائیں پس اچانک میکائیل ایک طبق لے کر آئے کہ جو سندس جنت کے رومال سے ڈھکا ہوا تھا اور وہ آپ کے سامنے رکھ دیا اور کہا کہ خداوندعالم فرماتا ہے کہ آج اس کھانے سے افطار کریں۔

حضرت امیرالمومنینؑ فرماتے ہیں کہ ہر رات افطار کے وقت حضرتؐ مجھے حکم دیتے تھے کہ دروازہ کھول دوجو شخص آئے میرے ساتھ افطار کرے اس رات مجھے حکم دیا کہ دروازہ پر بیٹھ جاؤں اور کسی کو اندر نہ آنے دوں۔کیونکہ یہ کھانا میرے غیر کے لیے حرام ہے۔جب آپؐ نے افطار کرنا چاہا تو طبق کو کھولا اس طبق میں جنت کے میووں میں سے ایک خوشہ خرما اور ایک خوشہ انگور تھا اور ایک جام جنت کے پانی کا تھا پس آپ نے اس میوہ سے اتنا کھایا کہ سیر ہوگئے۔اور اس پانی سےسیراب ہوئے تو جبرئیل اور میکائیل ابریق جنت سے آپ کے ہاتھ دھونے لگےاور اسرافیل نے جنت کے تولیہ سے آپ کے ہاتھ پونچھے اور باقی ماندہ کھانا ظروف کے سامان کی طرف چلا گیا۔

جب حضرتؐ کھڑے ہوئے کہ نماز میں مشغول ہوں تو جبرائیل نے کہا کہ اس وقت نماز جائز نہیں(معلوم ہو کہ یہاں نماز سے مراد نماز نافلہ ہے چونکہ نبی و امام کا طریقہ ہوتا ہے کہ نماز واجب کو افطار سے پہلے پڑھتے ہیں۔)ابھی خدیجہؑ کے گھر جائیں اور ان کے ساتھ  رات بسر کریں کیونکہ  خدا چاہتا ہے کہ اس رات آپ کی نسل سے ذریت طیبہ کو خلق فرمائے پس آپ حضرت خدیجہؑ کے گھر روانہ ہوئے جناب خدیجہؑ کہتی ہیں میں تنہائی سے مانوس ہوچکی تھی۔جب رات ہوئی تو میں دروازہ بند کرکے پردے لٹکا دیتی اور نماز پڑھ کر اپنے بستر پر لیٹ جاتی اور چراغ خاموش کردیتی۔اس رات میں سو رہی تھی کہ دروازے پر دستک سنائی دی تو میں نے پوچھا کہ دروازے پر کون ہےجسے محمدﷺ کے علاوہ کھٹکھٹانے کی اجازت نہیں تو آنحضرتﷺ نے فرمایا اے خدیجہؑ! دروازہ کھولو! میں محمدﷺ ہوں۔جب میں نے آنحضرت ﷺ کی صدائے فرح افزا سنی تو اٹھ کر دروازہ کھولا۔آنحضرتﷺ کی عادت تھی کہ جب آپ سونے کا ارادہ کرتے تو پانی منگواتے تجدید وضو کرتے دو رکعت نماز پڑھتے اور پھر بستر پر جاتے لیکن  اس رات آپ نے ان میں سے کوئی کام بھی نہ کیا بلکہ میرے ہمراہ آرام فرمانا پسند کیا۔اس کے بعد میں نے نور فاطمہؑ کو اپنے شکم میں محسوس کیا۔

ماخذ: احسن المقال ترجمہ منتہی الامال

شاید آپ یہ بھی پڑھنا چاہیں

امام علی نقی علیہ السلام کا مختصر تعارف

اپ کے فرامین اہم کلامی موضوعات پر مشتمل ہیں من جملہ ان موضوعات میں تشبیہ و تنبیہ اور جبر و اختیار وغیرہ شامل ہیں۔ زیارت جامعۂ کبیرہ جو حقیقت میں امامت سے متعلق شیعہ عقائد کے عمدہ مسائل اور امام شناسی کا ایک مکمل دورہ ہے