سر ورق / مقالات / معصومین / حضرت فاطمہ ؑ / شکم مادر میں گفتگو

شکم مادر میں گفتگو

کتاب امالی شیخ صدوقؒ میں مفضل بن عمر سے نقل ہوا ہے کہ انہوں نے کہا:

میں نے امام صادق علیہ السلام سے عرض کی:حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کی ولادت باسعادت کیسے ہوئی؟

امامؑ نے فرمایا: جب رسول خداﷺ نے حضرت خدیجہؑ سے شادی کی تو مکہ کی عورتیں حضرت خدیجہؑ سے دور ہوگئیں اور آپ کے پاس نہیں آتی تھیں۔آپ کو سلام نہیں کرتی تھیں اور کسی دوسری خاتون کو بھی آپ سے ملنے نہیں دیتی تھیں۔عورتوں کا یہ رویہ حضرت خدیجہؑ کے لیے دردناک تھا البتہ انہیں زیادہ غم اس بات کا تھا کہ مبادا  پیغمبر اسلامﷺ کو کوئی نقصان پہنچے۔

جب حضرت خدیجہؑ شہزادیؑ سے حاملہ ہوئیں  تو شہزادیؑ  ہی رحم مادر میں آپ کی ہمدم اور ساتھی تھیں اور اپنی والدہ کے ساتھ کلام کرتی تھیں۔آپ کو صبر کی تقلین کرتی تھیں،حضرت خدیجہؑ نے اس بات کو رسول خداﷺ سے چھپایا ہوا تھا یہاں تک کہ ایک  دن رسول خداﷺ حضرت خدیجہؑ کے پاس آئے اور آپ نے سنا کہ بی بیؑ کسی سے محو گفتگو ہیں۔آپ نے پوچھا: اے خدیجہ! کس کے ساتھ باتیں کررہی ہیں؟خدیجہؑ نے عرض کی: میرے رحم میں جو بچہ ہے اس سے کلام کررہی ہوں۔وہ میری تنہائی میں میرا مونس وہمدم ہے۔

رسول خداﷺ نے فرمایا: اے خدیجہؑ! جبرئیلؑ نے مجھے بشارت دی ہےکہ یہ بیٹی ہے اور اس نے کہا ہے کہ یہ پاک اور مبارک نسل  کی بنیاد ہے اور خداوند تعالی نے مقدر کردیا ہے کہ میری نسل اس سے چلے گی اور یہ بھی مقرر فرمایا ہے کہ وحی کے منقطع ہونے کے بعد اسکی اولاد زمین میں  امام اور خلیفہ خداہوں گے۔

حضرت خدیجہؑ مسلسل اسی حالت میں تھیں یہاں تک کہ وضع حمل کا وقت آگیا۔آپ نے قریش اور بنی ہاشم کی عورتوں کے پاس کسی کو بھیجا کہ آؤ اور میر ی اس ولادت میں میری مدد کرو۔

انہوں نے جواب دیا:چونکہ تم نے محمدﷺ سے شادی کرتے ہوئے ہماری بات نہیں مانی اور اس محتاج اور یتیم کے ساتھ شادی کی ہم تیرے پاس نہیں آئیں گی اور اس کام میں تمہاری کوئی مدد نہیں کریں گی۔

حضرت خدیجہؑ اس جواب سے غمزدہ ہوگئیں۔اس موقع پر چار قد  بلند  اور گندمی رنگت والی خواتین آپ کے پاس آئیں، بی بیؑ سوچ رہی تھی کہ یہ بنوہاشم کی خواتین ہیں جو انکے پاس آئی ہیں۔جب بی بیؑ نے انہیں دیکھا تو دردِ زہ کا اظہار کیا تو ان میں سے ایک نے کہا: اے خدیجہؑ! ڈرو  مت ،ہم خدا کی طرف سے آئی ہیں تاکہ وضع حمل میں تیری مدد کریں۔ہم تیری بہنیں ہیں میں سارہ ہوں،یہ آسیہ بنت مزاحم ہے جو جنت میں تیری دوست اور تیری ساتھی ہوگی اور یہ مریم بنت عمران اور وہ کلثوم حضرت موسی بن عمرانؑ کی ہمشیرہ ہیں۔پس ان میں سے ایک حضرت خدیجہؑ کے داہنی طرف،ایک باہنی طرف اور تیسری سامنے اور چوتھی آپ کے سر کی جانب کھڑی ہوگئی اور یوں حضرت فاطمہ ؑ کی ولادت ہوئی۔

جب آپ کی ولادت ہوئی تو ایک نور آپ سے ظاہر ہوا اور مکہ کے گھروں میں داخل ہوگیا اس طرح کہ اس شہر کے مشرق ومغرب میں  کوئی بھی ایساگھر نہ تھا جس میں یہ نور داخل نہ ہوا ہو۔اس موقع پر دس حور العین   کمرے کے اندر داخل ہوئیں اور ان کے ہاتھوں  میں ایک  جنتی طشت اور ظرف تھا جو آب کوثر سے لبریز تھا۔وہ معظمہ جو حضرت خدیجہؑ کے پائینی جانب تھی اس نے وہ ظرف ان کے ہاتھوں سے لیا اور فاطمہؑ کو آب کوثر سے غسل دیا۔پھر نومولود کو دوا نتہائی  سفید کپڑوں میں لپیٹ کر خوشبو لگائی اور اسکے بعد نوزاد سے کہا کہ وہ کلام کرے پس فاطمہؑ نے زبان کھولی اور فرمایا: میں گواہی دیتی ہوں کہ خدائے وحدہ لاشریک کے سوا کوئی معبود نہیں۔اور میں گواہی دیتی ہوں میرے بابا رسول خداﷺ اور افضل ترین نبی ہیں اور میرا شوہر علیؑ بہترین وصی اور میری اولاد بہترین اور لوگوں کے سردار ہیں اور اس کلام کے بعد آپ نے اس معظمہ کو سلام کیا اور ہر ایک کو انکے ناموں سے پکارا۔وہ سب خوش ہوگئیں اور حور العین نے بھی ایک دوسرے کو آپ کی ولادت کی مبارک دی اور اہل آسمان نے بھی ایک دوسرے کو مبارکباد دی۔آپ کی ولادت کی وجہ سے آسمان سے  ایک خیرہ کردینے والا نور بھی ظاہر ہوا جس کی مانند ملائکہ نے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ان خواتین نے حضرت خدیجہؑ سے کہا: اس پاک اور مبارک مولود کو لے لیں، خداخود اسے اور اسکی اولاد میں برکت دے۔حضرت خدیجہؑ بہت زیادہ خوش تھیں انہوں نے شہزادیؑ کو آغوش میں لیا اور آپ کو دودھ پلایا۔

ماخذ: بحار الانوار ج 43 ص 29

ترجمہ و پیشکش: ثقلین فاؤنڈیشن قم

شاید آپ یہ بھی پڑھنا چاہیں

امام علی نقی علیہ السلام کا مختصر تعارف

اپ کے فرامین اہم کلامی موضوعات پر مشتمل ہیں من جملہ ان موضوعات میں تشبیہ و تنبیہ اور جبر و اختیار وغیرہ شامل ہیں۔ زیارت جامعۂ کبیرہ جو حقیقت میں امامت سے متعلق شیعہ عقائد کے عمدہ مسائل اور امام شناسی کا ایک مکمل دورہ ہے